https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/01/20/feature-02
تعلیم

UNESCO پراجیکٹ رواداری کو فروغ دینے کے لیے سکولوں اور مدرسوں کو قریب لا رہا ہے

ظاہر شاہ شیرازی

image

10 دسمبر کو جامعہ عثمانیہ پشاور کے مدرسہ کے طلبہ فن و ثقافت کے ایک شو کے دوران تاریخی پشاور کی حکایت بیان کرتے ہوئے قصّہ خوانی بازار کی تصویر کشی کر رہے ہیں۔ [ظاہر شاہ شیرازی]

پشاور – اقوامِ متحدہ کی تعلیمی، سائیٹیفک اور ثقافتی تنظیم (UNESCO) کی جانب سے منظم شدہ ایک اقدامرواداری، امن اور قبولیتکی حوصلہ افزائی کے لیے پاکستان میں دینی مدارس اور حکومت کے زیرِ انتظام سکولوں کو قریب لا رہی ہے۔

UNESCO کی ایک پراجیکٹ آفیسر سعدیہ بنگش نے 10 جنوری کو ایک انٹرویو میں کہا کہ "ہمدردی کے لیے سیکھنا" پروگرام کا مقصد رسل و رسائل کے فاصلے کو دور کرنے اور تعلیم کے ذریعے ایک مزید ترقی کرنے والے ملک کے لیے راستہ بنانے کی غرض سے مدرسوں اور حکومت کے زیرِ انتظام سکولوں کو قریب لانا ہے۔

انہوں نے کہا، "نوجوانوں کے مابین امن و رواداری کے فروغ کے لیے، UNESCO اسلام آباد تعلیم کے فروغ کے لیے ایک جاپان فنڈڈ پراجیکٹ کا نفاذ کر رہا ہے۔۔۔ جو اقدار پر مبنی ایک تعلیمی نظام پر زور دیتا ہے۔"

بنگش نے مزید کہا کہ UNESCO پاکستان طلبہ اور اساتذہ کے مابین امن، رواداری اور مثبت رویے کا علم پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے تاکہ وہ ایک مزید بردبار اور روادار معاشرے کو فروغ دے سکیں۔

image

10 دسمبر کو پشاور میں ایک ثقافتی شو میں آنے والے، مدرسہ طلبہ کی جانب سے لگایا گیا ایک دست کاری کا سٹال دیکھ رہے ہیں۔ [ظاہر شاہ شیرازی]

اس اقدام کے جزُ کے طور پر مدرسہ دارالعلوم جامعہ عثمانیہ پشاور نے 10 دسمبر کو UNESCO کے ساتھ اشتراک سے اپنی عمارت میں فن و ثقافت کے ایک میلے کی میزبانی کی۔

جامعہ عثمانیہ، گورنمنٹ ہائی سکول کافورڈھیری اور گورنمنٹ ہائی سکول سفید سنگ کے طلبہ نے اس میلہ میں شرکت کی۔

انہوں نے مل کر کرکٹ کھیلا، اور کھیل دیکھنے اور شاعری پڑھنے کے ساتھ ساتھ چپلی کباب، تکہ کڑاہی، کابلی پلاؤ اور دیگر روایتی کھانوں سے لطف اندوز ہوئے۔

بہت سے طلبہ پرجوش تھے کیوں کہ ماضی میں دینی مدارس نے ایسی سرگرمیوں کا خیرمقدم نہیں کیا۔

جامعہ عثمانیہ گلشنِ عمر کیمپس کے سالِ اول کے ایک طالبِ علم محمّد ادریس بختیار نے کہا، "ہمارے لیے امن، معاشرے میں موجود مسائل کا واحد حل ہے۔"

اس نے کہا، "ہم UNESCO کا تین ماہ کا کورس کر رہے ہیں، اور ہمیں یہ احساس ہوا ہے کہ اگر ایک واحد طالبِ علم اپنے علاقہٴ رہائش میں امن و محبّت لانے میں کردار ادا کرتا [یا کرتی] ہے تو اس نے اپنا ہدف حاصل کر لیا۔"

محمّد نے کہا، "ہم نے باہمی تعامل سے سیکھا ہے کہ بین العقیدہ رواداری، بردباری اور پیارمعاشرے میں امن لانے کا واحد ذریعہ ہیں، اور ہم اس پر کام کر ہے ہیں،" اس نے مزید کہا کہ "ہم نے سیکھا ہے کہ کیسے پیار اور بھائی چارے کے ذریعے دوسروں کو ترغیب دی جائے اور شدّت پسندی اور سرکشی کو ترک کیا جائے۔"

جامعہ عثمانیہ پشاور کے ایک طالبِ علم صیام اللہ نے کہا، "کافور ڈھیری ٹیم کے ساتھ کرکٹ کھیلنا ہمارے لیے ایک بیمثال تجربہ تھا۔۔۔ ہمارے لیے ایسے مزید مواقع ہونے چاہیئں۔ اس سے ہمیں ایک دوسرے کے بارے میں جاننے اور مدرسوں اور سکولوں کو قریب لانے میں بہت مدد ملی ہے۔"

اس نے مزید کہا، "میلے میں کھیلوں اور شاعری نے میرے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔ مجھے یہاں گزارا گیا وقت بہت اچھا لگا۔ یہ مدرسہ کی زندگی سے مختلف ہے۔"

صیام اللہ نے کہا، "ایک پر امن پاکستان کے لیے عدم برداشت اور شدت پسندی کے رجحانات کے خاتمہ کے لیے مدرسوں اور سکولوں کے درمیان کھیلوں اور ثقافت کے مزید واقعات ہونے چاہیئں۔"

امن کے منتظمین

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا (کے پی) کے مشیرِ تعلیم ضیاء اللہ بنگش نے کہا کہ UNESCO کا اقدام طلبہ اور اساتذہ کو امن کے لیے تبدیلی کے منتظمین بننے کی صلاحیت دے گا۔

انہوں نے کہا، "ہم نے جنگ اور عسکریت پسندی کی بہت بھاری قیمت چکائی ہے۔ معاشرے سے شدت پسندی، فرقہ واریت اور دہشتگردی کے خاتمہ کے ذریعے دیرپا امن اور سکون حاصل کرنے کے لیے تعلیمی اداروں میں طالبِ علموں کے کردار کی تعمیر میں علما اور اساتذہ ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، کیوں کہ امن ہی پیشرفت اور ترقی کا واحد راستہ ہے۔"

کے پی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر محمود جان نے کہا کہ فن و ثقافت کے ایسے میلے مدرسوں کے لیے بیمثال ہیں اور یہ ذہنیت تبدیل کرنے اور تشدد اور شدت پسندانہ رجحانات کو ختم کرنے کے لیے طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے ایک شاندار طریقہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت، مدرسے اور محکمہٴ تعلیم UNESCO کے پلیٹ فارم پر متحد ہو گئے ہیں، اور حکومتِ کے پی امن و رواداری کے قیام کے لیے اداراتی اصلاحات سمیت تمام کاوشیں کر رہی ہے۔

جامعہ عثمانیہ کے مفتی غلام نے کہا کہ ثقافتی میلہ اور کرکٹ میچ مدرسہ کے طلبہ کے باقاعدہ تعلیمی نظام کے ساتھ اختلاط کی عمدہ مثالیں تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ نوجوانوں کے مابین معاشرتی رواداری اور پرامن طورپر مل جل کر رہنے کا بھی مظاہرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام آنے والے دنوں میں پاکستان میں بین العقیدہ رواداری، بردباری اور امن کے حصول میں دور رس نتائج کا حامل ہو گا، انہوں نے مزید کہا، "پرامن اور روادار معاشرے کے لیے ہماری کاوشوں میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

Acha hai g sb

جواب