https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/01/16/feature-01
جرم و انصاف

منشیات ڈیلروں کے طالبِ علموں کو ہدف بنانے پر حکومتِ سندھ کا غیر قانونی منشیات پر کریک ڈاؤن

ضیاءالرّحمٰن

image

گزشتہ نومبر نفاذِ قانون کا عملہ کراچی میں سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہا ہے۔ اب صوبائی حکام نے صوبے میں غیر قانونی منشیات کے استعمال، خرید، فروخت اور سمگلنگ پر کاروائی تیز کر دی ہے۔ [ضیاء الرّحمٰن]

کراچی – سندھ پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ – بطورِ خاص طالبِ علموں کو—غیر قانونی منشیات کی فروخت کے خلاف کریک ڈاؤن کی کوششیں تیز کر رہے ہیں، کیوںکہ ان سے حاصل ہونے والا روپیہ اکثرعسکریت پسند گروہوں اور دہشتگردوں کی تشدد آمیز سرگرمیوں کو مالیات فراہم کرنے میں مدد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

پاکستان کی انسدادِ منشیات فورس (ANF) نے 10 جنوری کو ایک بیان میں کہا کہ اس نے گزشتہ ہفتے کے دوران تقریباً 168 ملین روپے (1.1 ملین ڈالر) مالیت کی 982 کلوگرام غیر قانونی منشیات ضبط کی ہیں۔ اس نے کراچی سمیت ملک بھر میں انسدادِ منشیات کے چھاپوں کے دوران 10 ملزمان کو گرفتار کیا اور دو گاڑیاں قبضہ میں لی ہیں۔

حکام کے مطابق، کراچی سمیت صوبہ سندھ کے علاقوں میں منشیات سمگلروں اور ڈیلروں کی بڑی تعداد گرفتار کی گئی۔

مثال کے طور پر 5 جنوری کو پولیس نے کراچی میں لیاقت آباد کے علاقہ میں ایک کالج کے قریب سے ایک مشتبہ منشیات فروش کو گرفتار کیا اور اس کے قبضہ سے 1 کلوگرام منشیات بازیاب کیں۔

image

گزشتہ نومبر میں منشیات کے عادی لوگوں کی بحالی میں مدد کرنے پر کام کرنے والے فعالیت پسند کراچی میں ایک لیکچر دے رہے ہیں۔ [ضیاء الرّحمٰن]

image

گزشتہ دسمبر اسلام آباد کے قریب منشیات جلائی جا رہی ہیں اور انسدادِ منشیات کا ایک افسر محافظ کھڑا ہے۔ [ANF]

سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے 25 نومبر کو کراچی میں ایک اجلاس کے دوران شہروں، بطورِ خاص تعلیمی اداروں میں منشیات کے نفوذ کو قابو کرنے کے لیے "وزیرِ اعلیٰ ٹاسک فورس برائے منشیات" کے نام سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی۔

یہ ٹاسک فورس صحت اور ایکسائیز کے محکموں کے وزراء اور سیکریٹریز اور ANF کے ریجنل ڈائریکٹر کے ساتھ ساتھ صوبائی پولیس سربراہان، نیم فوجی رینجرز اور قومی انٹیلی جنس ایجنسیوں پر مشتمل ہے۔

ایک اجلاس، جس میں نفاذِ قانون کی ایجنسوں کے ڈائریکٹرز اور حکومتی عہدیداران نے شرکت کی، میں شاہ کو بتایا گیا کہ سمگلر افغانستان سے ہیروئن اور چرس اور جنوبی افریقہ سے کوکین سمگل کر رہے تھے۔

درایں اثنا، ایک حکومتی کتابچے کے مطابق، مصنوعی منشیات اور "آئس" (کرسٹل میتھ) چین سے ملک میں داخل ہو رہی تھیں۔

اس اجلاس کے شرکاء نے اس امر پر بھی بحث کی کہ منشیات فروشوں کے گروہوں کی نگرانی اور منشیات سے متعلقہ مقدمات کی پیروی کو مستحکم بنا کر کیسے صوبے میں منشیات سمگلنگ کی بیخ کنی کی جائے۔

اس ٹاسک فورس کے ایک جزُ کے طور پر نیم فوجی رینجرز سندھ کے سربراہ میجر جنرل عمر احمد بخاری بین الصوبائی سرحدوں کی نگرانی کو دیکھنے کی ایک کمیٹی کی صدارت کریں گے۔

سندھ پولیس کے سربراہ ڈاکٹر کلیم امام صوبے میں – ریجنجرز اور دیگر ایجنسیوں کی مدد سے— منشیات سمگلروں کے خلاف آپریشن کرنے اور ان کی نگرانی کے لیے تشکیل دی گئی ایک کمیٹی کی قیادت کریں گے۔

اس کمیٹی کو سکولوں میں منشیات کے استعمال کی بیخ کنی کے لیے ایک میکنزم تشکیل دینے کے لیے تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اور بچوں کے والدین سے معاونت کرنے کے احکامات موصول ہوئے۔

درایں اثناء وزیرِ اعلیٰ سندھ کے مشیرِ قانون مرتضیٰ وہاب صدیقی عدالتوں میں منشیات سے متعلقہ مقدمات کی پیروی کو مستحکم کرنے کے لیے تشکیل دی گئی ایک اور کمیٹی کے صدر بنے۔

مزید برآں منشیات سمگلنگ کی بیخ کنی کے لیے ANF کے سندھ دفتر کو خیبر پختونخوا (کے پی) اور بلوچستان میں اپنے پیشہ ور ساتھیوں سے معاونت کرنے کا کام سونپا گیا۔

صوبہ کے پی کے جنوبی اضلاع میں گینگز کی جانب سے منشیات فروشی کی آمدنی عسکریت پسند گروہوں کو فراہم کیے جانے کا پتہ چلنے کے بعد کے پی پولیس نے پہلے ہی منشیات سمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن کی کاوشوں کو تیز تر کر دیا ہے۔

رواں ماہ اس ٹاسک فورس نے آئس اور دیگر منشیات کی فروخت میں ملوث پائے جانے والوں کو سزا دینے کے مقصد سے سندھ کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹانسز بل 2019 کا مسودہٴ قانون تیار کیا۔

صوبائی وزیر برائے انسدادِ منشیات مکیش کمار چاولہ نے کہا کہ یہ بل کرسٹل میتھ کی خرید، فروخت، ترسیل اور تقسیم پر بھاری قید اور جرمانے تجویز کرتا ہے، جو کہ اس نشہ کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے نفاذِ قانون کے عہدیداران کی طویل عرصہ سے درخواست تھی۔

چاولہ نے کہا، "یہ نئی قانون سازی منشیات کی آفت کی بیخ کنی میں مددگار ہو گی۔"

ڈان نے گزشتہ 30 اگست سے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی کہ عدالتوں میں منشیات کے ہزاروں زیرِ التوا مقدمات کو صاف کرنے میں مدد کے لیے، ملک بھر میں 167 مثالی عدالتیں تشکیل دی گئی ہیں۔

تعلیمی اداروں میں منشیات کی بیخ کنی

طالبِ علموں میں منشیات کے استعمال نے حکومت اور نفاذِ قانون کے حکام کی توجہ حاصل کی ہے، جو زدپزیر نوجوانوں کو ہدف بنانے کے لیے منشیات ڈیلروں کی کاوشوں کو کچلنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

دسمبر 2018 میں عدالتِ عظمیٰ نے طالبِ علموں میں منشیات کے غیر قانونی استعمال کے خلاف ایک کریک ڈاؤن اور آگاہی مہم کا حکم دیا تھا۔ اعلیٰ ترین عدالت نے تعلیمی اداروں میں غیر قانونی منشیات کے استعمال پر صوبائی حکومتوں سے رپورٹس بھی طلب کی تھیں۔

فعالیت پسندوں کا کہنا ہے کہ سکول، کالج اور جامعات منشیات فروشوں کے پسندیدہ مقامات بن گئے ہیں، کیوں کہ ان میں ہدف بنانے کے لیے نوجوان گاہکوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوتی ہے۔

حکومتِ سندھ کی جانب سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دیے جانے کا فیصلہ صوبے کے باشندوں اور فعالیت پسندوں کے لیے ایک خوش آئند خبر تھی۔

کراچی کے علاقہ لیاری میں منشیات کے استعمال کے خلاف آگاہی مہم چلانے والے ایک فعالیت پسند حسیب علی نے کہا، "اس ٹاسک فورس کی تشکیل اور منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن سے نوجوانوں کو معاشرتی برائیوں سے دور رہنے میں مدد ملے گی۔"

انہوں نے کہا کہ نفاذِ قانون کی ایجنسیاں کراچی، بطورِ خاص لیاری میں امن لائی ہیں، جو کہ ایک ایسا علاقہ ہے جو کبھی گینگ تشدد کے لیے معروف تھا۔

انہوں نے کہا، "لیکن اب یہ جان کر خوشی ہو رہی ہے کہحکام نے منشیات کی تجارت کی آفت پر توجہ مرکوز کی۔"

انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ گینگ اور عسکریت پسند گروہوں نے اکثر زد پذیر نوجوانوں کو بھرتی کیا اور شکار بنایا ہے جو منشیات کے عادی ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)