https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/01/07/feature-01
سلامتی

روس، چین کا بغداد میں امریکی سفارت خانے پر ایرانی حملے کی مذمت کرنے سے انکار

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارت خانے کو جانے والا راستہ 2 جنوری 2020 میں ایک تصویر میں دکھایا گیا ہے، جسے ایرانی پشت پناہی کے حامل عراقی ملیشیا کے ارکان کی جانب سے ایک روز قبل نقصان پہنچایا گیا تھا۔ [احمد الرباعی/اے ایف پی]

جبکہ اقوامِ متحدہ کے 27 ارکان نے گزشتہ ہفتے ایران کے حامی مظاہرین کی جانب سے بغداد میں امریکی سفارت خانے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے بیان جاری کیا، روس اور چین نے خاموشی اختیار کی۔

مظاہرین، جو کہ زیادہ تر ایرانی پشت پناہی کے حامل عراقی ملیشیا کے ارکان تھے، 31 دسمبر کو زبردستی سفارت خانے میں گھس گئے، اس کے ایک حصے کو نذرِ آتش کیا جس کے بعد 1 جنوری کو اپنے ہی قائدین کی جانب سے منتشر ہونے کے حکم پر عمل پیرا ہوئے۔

سوموار (6 جنوری) کو اقوامِ متحدہ میں امریکی مشن کا کہنا تھا کہ روسی اور چینی خاموشی نے سلامتی کونسل کو تباہ کر دیا ہے۔

امریکی بیان میں کہا گیا، "اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو سفارتی اور قونصلری املاک کے قابلِ عزت ہونے کو اجاگر کرنے والے بنیادی ترین بیانات جاری کرنے کی اجازت نہ دینا ایک بار پھر کونسل کے معتبر ہونے پر سوالیہ نشان لگاتا ہے"۔

image

4 جنوری 2020 کو ایک امریکی فوجی عراق میں بغداد سفارت خانے کی عمارت کو مضبوطی فراہم کرنے کے دوران ایک دفاعی چوکی کو مضبوط بنانے کے لیے ریت کا تھیلا لے جاتے ہوئے۔ [سینٹ کام]

واشنگٹن کا کہنا تھا کہ 1961 کے ویانا کنونشن، جو سفارتی مشنوں کو تحفظ دیتا ہے، کی حمایت میں آواز اٹھانا "نزاعی یا حوصلے کا جواز فراہم کرنے والا نہیں ہونا چاہیئے"۔

اس میں مزید کہا گیا، "جیسا کہ ہم نے مظاہرہ کیا ہے، ہم امریکی اہلکاروں اور تنصیبات پر حملوں کو برداشت نہیں کریں گے اور اپنے مفادات، شہریوں اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن ردِعمل دیں گے"۔

دسمبر کے اواخر میں بغداد کے سفارت خانے پر حملے کا انتظام ایران کے اسلامی پاسدارانِ انقلاب دستوں (آئی آر جی سی) کی قدس فورس کے کمانڈر، میجر جنرل قاسم سلیمانی کی جانب سے کیا گیا تھا۔

خبری اطلاعات کے مطابق، سلیمانی نے وسط اکتوبر میں تہران کی پشت پناہی کے حامل عراقی ملیشیا گروہوں کے بہت سے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی جب عراق میں تہران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے خلاف بڑے بڑے مظاہروں میں شدت آنے لگی تھی، جس سے اسلامی جمہوریہ ایک ناخوشگوار مرکزِ نگاہ میں آ گیا تھا۔

سلیمانی نے جمع ہونے والے کمانڈروں سے کہا تھا کہ غیر مقبول نیم عسکری گروہوں میں سے ایک نیا ملیشیا گروہ بنایا جائے جو عراق میں امریکی مفادات کے خلاف حملے کر سکے۔

سفارت خانے پر حملے کے ردِعمل میں،ایک امریکی ڈرون نے 3 جنوری کو سلیمانی کو ہلاک کر دیا.

ایران کی صورتحال کو سنگین بنانے کی سرگرمیاں

سلیمانی کی ہلاکت کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ بڑھنے پر نیٹو کے سربراہ جینز سٹولٹنبرگ نے سوموار کے روز تہران سے کہا کہ وہ "مزید فساد اور اشتعال انگیزیوں" سے گریز کرے۔

سٹولٹنبرگ نے زور دیا کہ ڈرون حملہ کرنا امریکہ کا فیصلہ تھا، ان کا مزید کہنا تھا کہ نیٹو کے دیگر 28 ارکان نے مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی عدم استحکام پیدا کرنے کی سرگرمیوں کے متعلق اپنی طویل عرصے سے چلی آ رہی تشویشوں کا اعادہ کیا تھا۔

دو مرتبہ پوچھے جانے پر، آیا کہ کسی بھی رکن ملک نے امریکی حملے پر تنقید کی ہے، سٹولٹنبرگ نے ان کے اتحاد اور ایرانی طرزِ عمل کے متعلق ان کی تشویش پر زور دیا۔

سٹولٹنبرگ نے کہا، "حال ہی میں ہم نے ایران کی جانب سے صورتحال کو خراب کرنے کی کارروائیاں دیکھی ہیں، بشمول [ستمبر میں] ایک سعودی تیل کی تنصیب پر حملہ، اور [جون میں] ایک امریکی ڈرون کو مار گرانا"۔

"ہمارے آج کے اجلاس میں، اتحادیوں نے تحمل اور معاملات کو ٹھنڈا کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایک نیا تنازعہ کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہو گا، لہٰذا ایران پر لازم ہے کہ وہ مزید فساد اور اشتعال انگیزیوں سے باز رہے"۔

سٹولٹنبرگ نے کہا کہ نیٹو کا عراق میں ایک 500 اہلکاروں کا مضبوط مشن ہے، جو مقامی فوج کو "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (داعش) کے انتہاپسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تیار کر رہا ہے، مگر اب اس کی بنیادی تربیتی سرگرمیاں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے تک معطل کر دی گئی ہیں۔

یورپی کمیشن کے صدر ارسولا وون دیر لیئین نے سوموار کے روز کہا، "اب یہ اہم ہے ۔۔۔ کہ سفارتی ذرائع کو استعمال کیا جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ یہ ایران کے بھی مفاد میں ہے اور خصوصاً عراق کے مفاد میں ہے کہ متانت کا راستہ اپنایا جائے اور صورتحال کو خراب کرنے کے راستے پر نہ چلا جائے"۔

فرانس کا ایران کو پیغام: انتقام نہ لو

سوموار کے روز فرانس کے وزیرِ خارجہ نے تہران کو ترغیب دی کہ سلیمانی کی ہلاکت کا انتقام نہ لیا جائے۔

جین-یویس لی دریان نے بی ایف ایم ٹیلی وژن پر کہا، "یہ ضروری ہے کہ ایران کسی بھی بدلے یا انتقام سے دستبردار ہو جائے،" ان کا مزید کہنا تھا، "خوش قسمتی سے، ابھی بھی سفارتکاری کی گنجائش باقی ہے۔"

داعش کے خلاف جنگ کو خطے کی ترجیح بتاتے ہوئے، لی دریان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے خلاف کوئی بھی جوابی حملہ عراق اور شام میں داعش کے خلاف لڑ رہے اتحاد کی نتیجہ خیزی کو خطرے میں ڈال دے گا۔

اس ہفتے ایران کے بحران پر یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے ایک ہنگامی اجلاس سے قبل، انہوں نے تہران کو ترغیب دی کہ وہ اس کی نیوکلیائی سرگرمیوں کو روکنے کے سنہ 2015 کے معاہدے کو ختم کرنے کے لیے کوئی بھی اقدامات کرنے سے باز رہے۔

ایرانی حکومت نے 5 جنوری کو کہا تھا کہ وہ اپنے نیوکلیائی وعدوں سے دستبردار ہو جائے گیاور "سینٹریفیوجز کی تعداد کی حد" سے دستبردار ہو جائے گی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)