https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/12/19/feature-01
معیشت |

کے پی کو معدنیات کی تلاش کی نئی کوشش میں ممکنہ طور پر کروڑوں روپے کی توقع

ظاہر شاہ شیرازی

image

کارکن، اپریل میں مہمند ڈسٹرکٹ میں سنگِ مرمر اور گرینائٹ نکال رہے ہیں، اس کے بعد اسے پالش اور فنشنگ کے لیے فیکٹریوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔ [بہ شکریہ ظاہر شاہ شیرازی]

پشاور -- خیبرپختونخواہ (کے پی) کی حکومت معدنیات کی کھدائی کو بحال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جو ماضی میں عسکریت پسندی اور انتہاپسندی کے باعث رک گئی تھی تاکہ مقامی معیشت کو ترقی دی جا سکے۔

کے پی کی سپریم کمیٹی نے کے پی کے گورنر شاہ فرمان کی زیرِقیادت، 15 اکتوبر کو تانبے، کرومیٹ، نیفرائٹ، گرینائٹ اور دیگر معدنیات کی صنعتی اور پراسسنگ کے زون قائم کرنے کی منظوری دی۔ اس نے قبائلی اضلاع میں معاشی سرگرمیوں کو ترقی دینے کی ضرورت پر زور دیا جو کہ کئی دیہائیوں سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے باعث ڈگمگا رہی ہے۔

کے پی کے قبائلی اضلاع میں دہشت گردی کی شکست کے بعد، حکومت نے افغانستان کی سرحد کے ساتھ کی قبائلی پٹی میں پوشیدہ معدنیات کی تلاش کے لیے نیا منصوبہ بنانا شروع کیا تھا۔

علاوہ ازیں، کے پی کی اسمبلی نے 15 نومبر کو کے پی منرلز سیکٹر گورنس (ترمیم) بل 2019 منظور کیا جس کا مقصد، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور کانوں اور معدنیات کے ذخائر کی ملکیت پر قبائلی تنازعہ کو ختم کرنے سے، قبائلی علاقوں میں معدنیات کی کھدائی کا نیا دور شروع کرنا ہے۔

image

خیبر پختونخواہ کے وزیرِاعلی اور کے پی حکومت کے ترجمان، اجمل وزیر (درمیان میں) 17نومبر کو پشاور میں نئی معدنی پالیسی کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں۔ [بہ شکریہ ظاہر شاہ شیرازی]

نیا قانون معدنیات کی کھدائی کے لیے دھماکہ کرنے پر پابندی عائد کرتا ہے اور سنگِ مرمر اور گرینائٹ کی کھدائی کے لیے مشینوں کے ذریعے کھدائی کو لازمی قرار دیتا ہے۔

اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک، فاٹا (وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے) ریسرچ سینٹر کے مطابق، قبائلی اضلاع میں 19 مختلف اقسام کی دھاتوں کی شناخت کی گئی ہے۔

کچھ حالیہ تخمینوں کے مطابق، قبائلی اضلاع میں تقریبا 35 ملین ٹن تانبا، 2 ملین ٹن میگنیز، 137 ملین ٹن جپسم اور 11 ملین ٹن ڈولومائٹ موجود ہے۔ اس کے علاوہ وہاں پر لائم سٹون، سوپ سٹون اور سیلیکا کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔

دریں اثنا، باجوڑ میںسنگِ مرمر کے 5,850 ملین ٹن کے ذخائر ہیں جبکہ مہمند میں 845 ملین ٹن اور خیبر کے قبائلی علاقے میں 345 ملین ٹن کے ذخائر ہیں۔ یہ بات فاٹا کی ترقیاتی اتھارٹی نے بتائی۔

کانوں کی ملکیت کی یقین دہانی

علاقے سے عسکریت پسندوں کا خاتمہ کیے جانے کے بعد، کے پی کی حکومت اب مزید معدنیات کی کھدائی کا نیا منصوبہ شروع کر رہی ہے۔

فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے شعبہ معدنیات نے 2018 میں سابقہ فاٹا کے کے پی کا حصہ بننے سے پہلے 85 فیصد قبائلی پٹی کا سروے کر لیا تھا۔

کے پی کے کانوں کے وزیر ڈاکٹر امجد علی نے 8 دسمبر کو کہا کہ "نیا قانون عسکریت پسندی سے متاثرہ قبائلی اضلاع میں معدنیات کی کھوج اور ترقی کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا کیونکہ کے پی کے ساتھ انضمام کے بعد، معدنیات کا شعبہ اور کانوں کو کرایے پر دینے کا کام رک گیا ہے۔ اب وہ پوری طرح شروع ہو جائے گا"۔

انہوں نے کہا کہ یہ قانون سازی اس بات کی یقین دہانی کرواتی ہے کہ کانوں کی ملکیت قبائلی روایات کے مطابق، مقامی برادری کے پاس رہے گی اور اس سے ملکیت پر موجود قبائلی تنازعات کو ختم کرنے میں مدد ملے گی جنہوں نے ماضی میں معدنیات کی کھوج کے کام کو روکے رکھا ہے۔

علی نے کہا کہ کے پی کانوں کی لیز کو مقامی قبیلے کے ارکان کو دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن کے پاس کھوج کرنے کے لیے وسائل اور سرمایہ نہیں ہو گا وہ پاکستان بھر سے دوسرے سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "پہلے سے موجود طریقہ کار کے مطابق، مقامی برادری اصل مالک ہے۔ حکومت اس شعبے کو ترقی دینے کے لیے صرف سہولت کار کے طور پر کام کر رہی ہے"۔

کے پی حکومت کے ترجمان اجمد وزیر نے پاکستان کی آزادی کو گزرنے والے سالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "حکومت قبائلی افراد کی گزشتہ 72 سال کی شکایات کا ازالہ کرنا چاہتی ہے اور نئی معدنی پالیسی ترقی کا نیا دور لے کر آئے گی"۔

انہوں نے کہا کہ "معدنی کھوج کا منصوبہ اس وقت ایک مالیاتی انقلاب لائے گا جب قبائلی اضلاع کے چھپے ہوئے خزانے دریافت ہو جائیں گے۔ تاریک دور ختم ہو گیا ہے"۔

قبائلی بزرگوں، صنعت کاروں نے منصوبے کو خوش آمدید کہا

قبائلی کانکن اور مالکان، معدنیات کی صنعت کو ترجیح دینے کی حکومتی پالیسی پر برابر کے خوش ہیں۔

رسالپور انڈسٹریل اسٹیٹ، جو کہ نوشہرہ سے تعلق رکھنے والی معدنیات کی تجارت کی تنظیم ہے، کے صدر ریاض خان نے دھماکہ کرنے کے روایتی طریقے پر پابندی لگانے کے فیصلے کی تعریف کی اور کہا کہ مشینوں سے کان کنی سے نہ صرف پیداوار میں اضافہ ہو گا بلکہ معدنیات کے ضیائع اور تباہی کو بھی روکا جا سکے گا۔

انہوں نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ کے پی کی معدنی صنعت سے کارکنوں کا روزگار وابستہ ہے کہا کہ معدنیات کی کھوج میں مشترکہ کاروباروں کے امکان کو خوش آمدید کہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے مزید سرمایہ کار متوجہ ہوں گے اور قبائلی نوجوانوں کے لیے مزید ملازمتیں پیدا ہوں گی۔

خان نے کہا کہ کان کن قبائلی اضلاع میں 3,000 ٹن سے زیادہ سنگِ مرمر نکالتے ہیں جبکہ فرنٹئیر کے علاقے میں کوئلے، لائم سٹون، تیل، گیس، بینٹونائٹ، لائم سٹون اور جپسم کے بڑے ذخائر کو اگر مناسب طریقے سے تلاش کیا جائے تو اس سے علاقے میں ایک معاشی عروج آ جائے گا۔

نوشہرہ سے تعلق رکھنے والی کان کنی کی کمپنی بلیک ڈائمنڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر نوید شاہ امن کی بحالی کے بعد، علاقے میں معدنیات کی تلاش کے مستقبل کے بارے میں بہت پُرامید ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "عسکریت پسندی، امن و امان، قبائلی جھگڑوں اور ناقص ترقی و مواصلات نے معدنیات کے خزانوں کی نفی کی اور انہیں غیر دریافت رہنے دیا۔ مگر اب حکومت کا کنٹرول بحال ہو گیا ہے۔ نیا قانون قبائلی جھگڑوں کو ختم کرنے اور حکومت کی مدد، قبائلی اضلاع کے چھپے ہوئے خزانوں کو دریافت کرنے میں مدد کرے گی"۔

شاہ نے مزید کہا کہ "سوپ سٹون، کاسمیٹک کی چیزوں جیسے کی کریموں اور منہ دھونے کی چیزوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس کی بڑی مانگ ہے اور اگر ان کانوں کو کام کرنے کے قابل بنا دیا گیا تو ہم سالانہ اربوں روپے کا غیر ملکی منافع کما سکتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "ان معدنی وسائل کی کان کنی کے ممکنہ فوائد کو کم کرنے میں سڑکوں کے خراب بنیادی ڈھانچے اور نئی مشینوں کی کمی نے بھی کردار ادا کیا ہے۔

خیبر ڈسٹرکٹ سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ایک رکن اقبال آفریدی نے کہا کہ "معدنیات اللہ تعالی کی بڑی نعمت ہیں اور ان خزانوں کو اگر دریافت کیا جائے تو یہ قبائلی علاقے میں معاشی خوشحالی اور دیرپا امن لے کر آئیں گے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی