دہشتگردی

اے پی ایس حملوں کے پانچ سال بعد، شہریوں نے امن کی وکالت سے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا

جاوید خان

image

پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کی دوسری برسی کے موقع پر، متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے، پاکستانی سول سوسائٹی کے سرگرم کارکن، 15 دسمبر 2016 کو لاہور میں آسمان میں لالٹینیں چھوڑ رہے ہیں۔ [عارف علی/ اے ایف پی]

پشاور -- پاکستانی شہری آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پر ہلاکت خیز حملے کی پانچویں برسی منا رہے ہیں اور متاثرین کے اہلِ خانہ امن اور انتہاپسندی کی شکست کے لیے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ڈیڑھ سو سے زیادہ پاکستانی، جن میں اکثریت بچوں کی تھی، 16 دسمبر 2014 کو اس وقت شہید ہو گئے جبتحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے دہشت گردپشاور میں اسکول پر حملہ آور ہوئے۔ دیگر110 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

دسویں جماعت کے طالبِ علم شیرشاہ شہید، ہلاک ہونے والوں میں سے ایک تھے۔ ان کے بھائی، احمد شاہ، جو اس وقت آٹھویں جماعت کے طالبِ علم تھے، بچ گئے مگر وہ اس وقت سے شدید ذہنی دھچکے کا شکار ہیں۔

شیر اور احمد کے والد طفیل خٹک نے کہا کہ "میرا مقصد، علاقے میں تعلیم کے ذریعے امن کی تشہیر اور تبلیغ کرنا ہے جس کے لیے میرے بیٹے نے اپنی جان کی قربانی دی"۔

image

اے پی ایس کے حملے میں شہید ہونے والوں کے والدین اور رشتہ دار، 15 دسمبر کو اس ہلاکت خیز ترین حملے کی پانچویں برسی کے موقع پر پشاور پریس کلب کے باہر ریلی نکال رہے ہیں۔ [جاوید خان]

image

شیرشاہ شہید ٹیلنٹ ایوارڈ جیتنے والے طلباء، اپریل میں چیرت، نوشہرہ میں ٹرسٹ کے چیرمین طفیل خٹک (بائیں) کے ساتھ تصویر کھنچوا رہے ہیں۔ [بہ شکریہ طفیل خٹک]

اس قتلِ عام کے بعد، خٹک نے، اپنے آبائی گاؤں چیرت نوشہرہ میں مستحق اور باصلاحیت طلباء کے لیے، شیرشاہ شہید ٹرسٹ اینڈ ٹیلنٹ ایوارڈ قائم کیا۔ یہ ٹرسٹ اس وقت سے ہر سال تقریبا 27 طلباء کو وظائف اور شیلڈز دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سال انہوں نے یاسر اللہ کے نام پر نو ایوارڈ دیے ہیں۔

خٹک نے کہا کہ "یاسر اس سانحے میں ہلاک ہونے والوں میں چترال سے تعلق رکھنے والا واحد فرد تھا اور میں چاہتا ہوں کہ اس کیقربانی کو تسلیم کیا جائےاور اس کی ڈسٹرکٹ کے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے"۔

خٹک نے کہا کہ "میرا بیٹے شیرشاہ نے تعلیم کے لیے اپنی جان قربان کر دی جبکہ میرے چھوٹے بیٹے کو ابھی اس سانحے سے باہر آںا ہے مگر اب میں اپنے دوسرے بچوں (مستحق اور باصلاحیت طلباء) کی تعلیم کی مدد کرنا چاہتا ہوں"۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم ہر مسئلے کا حل ہے خصوصی طور پر انتہاپسندانہ سوچ کو بدلنے کے لیے۔

خٹک نے کہا کہ "میں اپنے گاؤں، ڈسٹرکٹ اور دوسرے علاقوں کے بچوں کی تعلیم اور اس کے ساتھ ہی کھیلوں کی سرگرمیوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں"۔

دریں اثنا، فضل خان ایڈوکیٹ، جو کہ شہید ہونے والے صاحبزادہ عمر خان کے والد ہیں، نے پشاور کے آپنے آبائی علاقے مرشد آباد میں غریب مریضوں کے لیے ایک مفت ہسپتال قائم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "میرا بیٹا ڈاکٹر بننا اور مستحق مریضوں کا مفت علاج کرنا چاہتا تھا۔ میں نے اس سے اپنا وعدہ پورا کرنے کے لیے یہ ہسپتال قائم کیا ہے"۔

متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرنا

پانچویں برسی سے پہلے، کارکنوں نے پشاور کے مختلف علاقوں میں متاثرین کی تصاویر لگائیں۔ متاثرین کے نام پر رکھے جانے والے سرکاری اسکولوں میں مختلف تقاریب ہو رہی ہیں۔

بہت سے گروہوں اور تنظیموں نے مشعل بردار ریلیوں، سیمیناروں، واکس اور دیگر تقریبات کا اہتمام کیا۔

کے پی کے سوشل میڈیا کے استعمال کنندہ توصیف انور نے ٹوئٹ کیا کہ "16 دسمبر کو پشاور میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین کے لیے پبلک لائبریری کے ہال میں سیمینار"۔

اسلام آباد اور پشاور میں اعلی حکام نے اس برسی پر خراجِ عقیدت پیش کیا۔

پاکستان کے صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف سب نے اس دردناک دن پر یادگاری پیغامات جاری کیے۔

پانچویں برسی کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے ایک بیان میں کہا کہ "بے گناہوں کے خون نے ملک کو ہر قسم کی انتہاپسندی، دہشت گردی اور نفرت کے خلاف متحد کر دیا"۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ پانچ مجرموں کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ "شہدا اور ان کے خاندانوں کو سلام"۔

کے پی کی حکومت نے پیر (16 دسمبر) کو اے پی ایس کے شہدا کے ساتھ یکجہتی کا دن قرار دیا ہے۔

کے پی کے وزیراعلی کی تعلیم کے مشیر ضیاء اللہ بنگش نے کہا کہ "اے پی ایس کے شہدا ہمارے ہیرو ہیں جنہوں نے دہشت گردوں کے مذموم مقاصد کو ناکام بنانے کے لیے اپنی جانوں کی قربانی دی"۔ بنگش نے صوبہ کے تمام اسکولوں کو ہدایت کی کہ وہ نوجوان ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے خصوصی تقاریب کا اہتمام کریں۔

بنگش نے کہا کہ "ہم صوبہ اور باقی کے ملک میں تعلیم کی اس شمع کو جلانا جاری رکھیں گے جسے دہشت گرد بجھانا چاہتے تھے مگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری قوم اور اس کے ادارے، اے پی ایس کے سانحے کے بعد، ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے متحد ہو کر کھڑے ہو گئے۔

سابقہ وفاقی وزیرِ داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے ایک بیان میں اے پی ایس کے شہدا اور بچ جانے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ شیرپاؤ جو کہ خود بھی کم از کم ایسے تین خودکش دھماکوں میں بچ چکے ہیں جن میں انہیں نشانہ بنایا گیا تھا، کہا کہ "اس سانحے نے دہشت گردوں کے خلاف پورے ملک کو متحد کر دیا۔ یہ قوم نوجوان ہیروز کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی"۔

انتہائی چوکس

کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) پشاور محمد علی گنڈاپور نے کہا کہ "ہم نے برسی کے موقع پر حساس علاقوں اور تعلیمی اداروں کی سیکورٹی کو بڑھا دیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے گزشتہ چند سالوں میں طلباء اور اساتذہ کی حفاظت کے لیے اسکول کی سیکورٹی کو باقاعدگی سے چیک کیا ہے۔

گنڈا پور نے کہا کہ اے پی ایس کے سانحے کے فورا بعد، حکومت کی طرف انسدادِ دہشت گردی کے قومی ایکشن پلان (این اے پی) کے نفاذ کے بعد سے سیکورٹی فورسز نے تلاشی اور حملے کی مہمات باقاعدگی سے انجام دی ہیں۔

خیبرپختونخواہ (کے پی) پولیس کے ترجمان کوکب فاروق نے کہا کہ "دہشت گردی کے واقعات میں ہر سال کمی آ رہی ہے اور اس سال کے اعداد و شمار کئی سالوں میں کم ترین سطح پر ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک 2019 میں کوئی بڑا دہشت گردانہ حملہ نہیں ہوا ہے۔

فاروق نے کہا کہ "ملک بھر میں دہشت گردی کے مجموعی واقعات 2018 کے پہلے 10 ماہ میں 75 تھے جو موجودہ سال میں کم ہو کر 72 ہو گئے ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500