https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/12/11/feature-02
معیشت

تصاویر میں: جاپانی پھل کے باغ ایک بار پھر ضلع مہمند میں پھل پھول رہے ہیں

از عالمگیر خان

image

3 دسمبر کو ضلع مہمند میں ایک کسان جاپانی پھل پیک کرتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

3 دسمبر کو ضلع مہمند میں ایک کسان جاپانی پھل توڑتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

3 دسمبر کو ضلع مہمند میں ایک نوجوان جاپانی پھل فروخت کرتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

3 دسمبر کو ضلع مہمند میں کسان جاپانی پھل کو منڈی میں بھیجنے سے قبل پیک کرتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

3 دسمبر کو ضلع مہمند میں کسان جاپانی پھل کو ڈبوں میں رکھتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

3 دسمبر کو ضلع مہمند میں ایک کسان جاپانی پھل کے کریٹ ایک گاہک کو فروخت کرتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

3 دسمبر کو ضلع مہمند میں کسان ایک باغ میں جاپانی پھل پیک کرتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

3 دسمبر کو ضلع مہمند میں ایک مزدور جاپانی پھل کے کریٹوں کو منڈی میں بھیجنے سے قبل انہیں ترتیب سے رکھ رہا ہے۔ [عالمگیر خان]

image

3 دسمبر کو ضلع مہمند میں گاہک جاپانی پھل کھاتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

جاپانی پھل کا ایک باغ 3 دسمبر کو ضلع مہمند میں دکھایا گیا ہے۔ [عالمگیر خان]

غلانئی -- امن واپس آنے کے ساتھ ہی جاپانی پھل کی تجارت قبائلی ضلع مہمند میں پھلنے پھولنے لگی ہے۔

ضلع مہمند کی تحصیل اکا غنڈی کے ایک مکین، نوید اللہ نے کہا، "ایک وقت تھا کہ عسکریت پسندی کی وجہ سے بیشتر کسان اپنے درخت کاٹنے پر مجبور ہو گئے تھے۔"

ان کا کہنا تھا، "تحصیل اکا غنڈی میں کسانوں کو 100 ایکڑ سے زائد رقبے پر لگے پھلوں کے درختوں کو کاٹنا پڑا تھا، جس سے بہت زیادہ بیروزگاری پیدا ہوئی۔"

خطے میں عسکریت پسندی کے سبب دکانیں اور بازار بند ہو گئے، جس نے کسانوں کو اپنی اشیاء فروخت کرنے سے باز رکھا۔ جواب میں، کسانوں نے درختوں کی دیکھ بھال ترک کر دی اور آخرکار وہ سوکھ گئے اور انہیں جلانے کے لیے لکڑی کے حصول کے لیے کاٹ دیا گیا۔

image

3 دسمبر کو ضلع مہمند میں ایک کسان جاپانی پھل توڑتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

انہوں نے کہا، "اب، چونکہ امن قائم ہو گیا ہے، تو کاروبار دوبارہ چل پڑے ہیں اور ہم اپنے پھل مناسب داموں پر فروخت کرنے کے قابل ہیں۔"

جب ضلع مہمند میں امن و امان کی صورتحال خراب تھی تو پشاور کے مقامی ایک تاجر، ناصر خان، کو بہت دور سے پھل خرید کر لانا پڑتا تھا۔

منڈی میں پھلوں کی دوبارہ فروخت کا حوالہ دیتے ہوئے، ناصر خان نے کہا، "اب دو ماہ قبل، ہم نے ضلع مہمند کے ایک باغ سے فصل 250،000 روپے (1،600 ڈالر)کے عوض خریدی، اور اس سے ہمیں 500،000 روپے (3،200 ڈالر) کا منافع ہوا۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

جی ہاں
اچھا

جواب