https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/11/27/feature-02
تعلیم |

جرگہ پاکستان کے خیمہ سکول قبائلی اضلاع میں بچوں کو تعلیم کی پیشکش کرتے ہیں

از ظاہر شاہ شیرازی

image

وادی تیراہ میں 15 اکتوبر کو بچے مفت کتابیں ملنے کے بعد خوشی منا رہے رہیں۔ [تصویر بشکریہ ظاہر شاہ شیرازی]

پشاور --لڑکیوں کے لیے تعلیمضلع خیبر کی وادی تیراہ میں، جو بھی ایک دُور کا خواب ہوا کرتی تھی، اب عسکریت پسندوں کو شکست ہونے کے بعد پورے عروج پر ہے۔

قبائلی عوام اب اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلوانے کے متمنی ہیں کیونکہ رضاکاروں نے مفت تعلیم کی پہل کاری کا آغاز کیا ہے۔ جرگہ پاکستان، پشاور کا مقامی ایک رضاکار گروپ، خصوصی طور پر مفت خیمہ سکول قائم کر رہا ہے جو علاقے میں تعلیم کے احیاءکی ایک کوشش کا جزو ہے۔

گودی خیل گاؤں کے 200 سے زائد بچے -- جن میں سے نصف لڑکیاں ہیں -- 15 اکتوبر کو جرگہ پاکستان کلاسوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے۔ مفت کتب، وردیاں اور پڑھائی کا سامان مہیا کیا گیا تھا۔

image

15 اکتوبر کو وادی تیراہ میں جرگہ پاکستان سکول کے طلباء و طالبات میں مفت کتب اور وردیاں تقسیم کی گئی ہیں۔ [تصویر بشکریہ ظاہر شاہ شیرازی]

image

15 اکتوبر کو جرگہ پاکستان کے گودی خیل سکول میں بچے کلاس میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے۔ [تصویر بشکریہ ظاہر شاہ شیرازی]

مخیر ادارے نے ایسا ہی ایک سکول جنوبی وزیرستان ضلع میں ایک دور دراز کے گاؤں شاگا شاکتوئی میں قائم کیا تھا، اس میں بھی 200 سے زائد طلباء و طالبات نے داخلہ لیا۔ ضلع شمالی وزیرستان کے گاؤں دوسالی کے لیے لڑکیوں کے ایک سکول پر کام جاری ہے۔

جرگہ پاکستان کے چیئرمین عابد آفریدی نے 19 نومبر کو کہا، "ہم چاہتے ہیں ہمارے بچے سکول میں واپس جائیں، اور شاگا شاکتوئی میں پہلے سکول کی کامیابی کے بعد، گودی خیل میں دوسرا سکول قائم کرنا ہمارے رضاکاروں کی ایک حقیر سی کوشش ہے۔"

انہوں نے کہا، "یہ دو سکول قبائلی اضلاع کے دور دراز دیہاتوں میں قائم کیے گئے ہیں جہاں سرکاری سکولوں نے ابھی فعال ہونا ہے یا جہاں ایسے کوئی سکول نہیں ہیں۔ یہ دہشت گردوں کی جانب سے بند یا تباہ کیے گئے سکولوں کے احیاء کی سرکاری جدوجہد میں ہاتھ بٹانے کی ایک کوشش ہے۔"

وادی تیراہ میں 38 سرکاری سکولوں میں سے، صرف پانچ سکول فعال ہیں، جس سے ہزاروں بچے سکولوں تک رسائی سے محروم ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، "اگرچہ اس وقت یہ ایک عارضی انتظام ہے، جرگہ پاکستان مفت کتب اور وردیاں بھی فراہم کر رہا ہے اور اس نے ہر سکول میں دو اساتذہ بھرتی کیے ہیں جو کلاسوں کو پڑھا رہے ہیں۔"

آفریدی، جنہوں نے سکولوں کی اس تجویز میں سرمایہ لگانے کے لیے اپنی ذاتی جائیداد فروخت کر دی تھی، نے کہا کہ جرگہ پاکستان کو اب انسان دوستوں اور دیگر عطیات سے پیسے مل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بیت المال، ایک خودمختار سرکاری خیراتی ادارے، نے ضلع کرم میں دو سکولوں کو پیسے دینے اور معاونت کرنے پر اتفاق کیا ہے: ایک وادی مرگان، وسطی کرم میں؛ اور دوسرا بالائی کرم میں تیری ماناگال میں، جو جنگ اور بدامنی سے بری طرح متاثر ہوئے تھے۔

آفریدی نے کہا، "جرگہ پاکستان کے ساتوں قبائلی اضلاع میں رضاکار ہیں، اور اس کا واحد خواب سکولوں سے باہر بچوں کو جماعتوں میں واپس لانا ہے۔ یہ خوش آئند ہے۔"

جرگہ پاکستان کے ایک رکن، خلیل آفریدی نے کہا، "ان [رضاکاروں] کی زیادہ توجہ ان علاقوں پر ہے جہاں سرکاری سکول فعال نہیں ہیں یا وہ ناقابلِ رسائی ہیں۔ ہم تمام قبائلی اضلاع میں جا رہے ہیں جہاں بچے اپنے سکولوں سے محروم ہو گئے ہیں اور اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے۔"

انہوں نے کہا، "نیت بالکل واضح ہے -- ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے نوجوان دوبارہ انتہاپسند عناصر کے ہتھے چڑھیں۔"

والدین، اساتذہ خوش

تیراہ میں ملک دین خیل قبیلے کے ایک فرد، محمد امین نے کہا، "ہم جرگہ پاکستان کی پہل کاری کے لیے شکرگزار ہیں کیونکہ ہمارے بچوں کو سکول پہنچنے کے لیے میلوں دور چل کر جانا پڑتا تھا، لیکن اب ان کے اپنے گاؤں میں سہولت مل گئی ہے۔ ہم اپنے بچوں کو تعلیم دلوانا چاہتے ہیں -- لڑکیوں اور لڑکوں دونوں کو۔"

ایک اور والد، بلال آفریدی نے کہا، "گودی خیل سکول کے یہ بچے پہلے کبھی سکول نہیں گئے تھے یا ان میں سے کچھ نے بدامنی اور عسکریت پسندی کی وجہ سے تعلیم چھوڑ دی تھی، جبکہ چند ایک نے اس لیے چھوڑی کیونکہ بہت دور جانا پڑتا تھا کیونکہ سردیوں میں سکول پہنچنے کے لیے 6-5 کلومیٹر پیدل چل کر جانا تقریباً ناممکن ہے۔"

تیراہ سے تعلق رکھنے والے ایک قبائلی بزرگ، ناصر ملک دین خیل نے کہا کہ اس سکول سے چار دیہاتوں -- گودی خیل، جوگے خیل، سنداگی اور پیواری -- کو فائدہ ہو گا۔

انہوں نے کہا، "اب ان دیہاتوں کے 500 سے زائد بچے سکول جایا کریں گے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ ان قبائلی خاندانوں میں سے بیشتر خاندان بہت غریب ہیں اور اپنے بچوں کو سکولوں میں بھیجنے اور انہیں کتب اور وردیاں دلانے کی استطاعت نہیں رکھتے، لہٰذا جرگہ پاکستان نے ان بچوں کو تعلیم دلوانے میں ایک انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔

گودی خیل سکول میں ہیڈ ماسٹر، عمران خان آفریدی نے کہا، "میں بہت حیران اور خوش بھی ہوں کیونکہ پانچ برس پہلے کسی نے بھی لڑکیوں کو سکول بھیجنے کا سوچا بھی نہیں تھا، کیونکہ یہ ایک سماجی ممانعت تھی اور ایک جرم سمجھا جاتا تھا۔"

آفریدی نے کہا، "لیکن اب، میں نے بہت سے والدین دیکھے ہیں جو اپنی بیٹیوں اور پوتیوں نواسیوں کو سکول میں داخل کروانے کے لیے لا رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "میرے پاس تین جماعتوں میں کُل 219 بچوں میں سے 90 لڑکیاں ہیں، جو کہ وادی میں امن کی بحالی کے بعد ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔"

انہوں نے یاد دلایا، "انتہاپسندی، عسکریت پسندی اور سماجی ممانعت کے علاوہ، ان دور دراز کے قبائلی اضلاع میں غریب ایک اہم وجہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیج رہے۔"

آفریدی نے کہا، "ہمیں بہت اچھا ردِعمل ملا، اور ایسا لگتا ہے کہ ہمیں اپنے دو خیموں والے سکول کو وسیع کر کے پانچ خیمے کرنے پڑیں گے کیونکہ اردگرد کے دیہانوں کے 400 سے زائد بچے داخلے کے منتظرین کی فہرست میں ہیں۔"

انزار گل آفریدی، جنہوں نے اپنی پانچ سالہ بیٹی کو سکول میں داخل کروایا تھا، نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ سکول جائے کیونکہ اگلی نسل اپنے باپوں کی طرح بندوق اٹھانے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

"میں چاہتا ہوں میرے پوتے پوتیاں ڈاکٹر، انجینیئر اور استاد بنیں۔ہم اب مزید اپنی بیٹیوں کو جاہل نہیں رکھ سکتے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha