https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/11/26/feature-02
معاشرہ |

پاکستان میں تاریخی کاروں کی ریلی امن کا پیغام دیتی ہے

عدیل سعید

image

23 نومبر کو تاریخی کلاسیکی کاروں کی ریلی میں حصّہ لینے والی گاڑیاں خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ [ٹی سی کے پی]

پشاور – ہفتہ (23 نومبر) کو دسویں سالانہ تاریخی کلاسیکی کاروں کی ریلی 2019 کے جزُ کے طور پر درجنوں تاریخی کاروں نے ملک بھر کے دورہ کا آغاز کیا۔

ملک بھر سے کاروں کا جوش رکھنے والے ریلی کا افتتاح کرنے اور امن کا ایک پیغام دینے کے لیے افغان سرحد کے قریب ضلع خیبر، صوبہ خیبر پختونخوا (کے پی) میں مچنی چوکی پر جمع ہوئے۔

ٹورازم کارپوریشن کے پی (ٹی سی کے پی) میں اس تقریب کے مینیجر محمّد علی سیّد نے کہا، "اس ریلی کا مقامِ آغاز کے پی کے سینیئر وزیر [برائے سیّاحت، ثقافت، کھیل، آثارِ قدیمہ و امورِ نوجوانان] عاطف خان نے منتخب کیا تاکہ بیرونی دنیا کو پیغام دیا جا سکے کہ ایک دہائی طویل دہشتگردی و عسکریت پسندی کی لہر کے بعد کے پی اورنوانضمام شدہ [سابقہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات] میں امن لوٹ آیا ہے۔"

image

23 نومبر کو تاریخی کاریں پاک افغان سرحد کے قریب میچنی چوکی پر کھڑی دیکھی جا سکتی ہیں۔ [ٹی سی کے پی]

image

24 نومبر کو تاریخی کلاسیکی کاروں کی ریلی کی ایک نوجوان خاتون شریک پشاور میں اپنی شیورلے کے ساتھ تصویر بنوا رہی ہیں۔ [ٹی سی کے پی]

اس تقریب کا اہتمام ٹی سی کے پی اور کلاسک لینڈ روور نے مشترکہ طور پر کیا۔

خیبر سے کراچی تک

انہوں نے کہا کہ ماضی میں یہ ریلی کراچی سے شروع ہو کر پشاور میں اختتام پذیر ہوتی تھی، لیکن اس مرتبہ یہ ریلی پشاور سے شروع ہو کر کراچی میں ختم ہو گی۔

سیّد نے کہا کہ جزوی طور پر اس فیصلہ کا مقصد انضمام شدہ اضلاع کی اہمیّت نمایاں کرنا ہےجہاں ٹی سی کے پی سیّاحت کے امکانات تسخیر کر ہی ہے۔

ٹی سی کے پی کے ترجمان سعد بن اویس نے کہا، "اس ریلی میں کراچی، لاہور، پشاور اور اسلام آباد سمیت ملک بھر سے تاریخی کلاسیک کاروں کے شوقین شرکت کر رہے ہیں، جو 10 دسمبر 2019 کو کراچی کے ساحل پر پہنچنے کے لیے 24 نومبر 2019 کو اندرونِ ملک سفر کے لیے نکلے۔"

پشاور سے شرکاء اسلام آباد، پھر لاہور، بہاولپور اور گُمبت جائیں گے۔ اس ریلی کا اختام مزارِقائد کراچی میں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ کم از کم 60 کلاسیکی کاریں اس ریلی کا جزُ ہیں۔

ثقافتی کاریں

پشاور میں کلاسک لینڈروور کے چیف ایگزیکیٹیو آفیسر عاصم درّانی نے کہا، "شریک کاروں میں 1940 سے 1970 کے درمیان بننے والی پرانی کاریں اور جیپیں شامل ہیں۔"

درّانی نے کہا کہ تمام شرکاء انضمام شدہ اضلاع سے ریلی کے آغاز پر پرجوش تھے۔

درّانی نے کہا کہ کسی نے اس فیصلہ پر اعتراض نہ کیا، یہاں تک کہ غیر ملکیوں نے بھی مچنی چوکی پر افتتاحی تقریب میں شرکت کی، جو سلامتی کی صورتِ حال پر عوام کے اعتماد کی عکاسی ہے۔

انہوں نے حوالہ دیا کہ کلاسک کار ریلی ایک سالانہ تقریب ہے اور ہر برس شرکاء کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha