https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/11/22/feature-03
دہشتگردی |

طالبان کو دنیا کا مہلک ترین دہشت گرد گروہ قرار دیا گیا ہے

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

کابل میں 7 اگست کو ایک افغان سپاہی اس جگہ پر پہرہ دے رہا ہے جہاں پولیس اسٹیشن کے داخلی دروازے پر طالبان نے کار بم دھماکہ کیا تھا۔ [ایس ٹی آر/ اے ایف پی]

پیرس -- سڈنی میں قائم انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس (آئی ای پی) کی طرف سے شائع کی جانے والی 2019 گلوبل ٹیررازم انڈکس کے مطابق، طالبان 2018 میں دنیا کا مہلک ترین گروہ بن گئے۔

بدھ (20 نومبر) کو جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عسکریت پسند گروہ نے افغانستان میں 1,443 حملے کیے جن میں 7,379 افراد ہلاک ہوئے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ "طالبان اب دنیا کا مہلک ترین دہشت گرد گروہ ہیں۔ یہ 71 فیصد اضافہ ہے"۔

image

اسکول کے افغان طلباء 2 جولائی کو، کابل میں طالبان کی طرف سے یکم جولائی کو کیے جانے والے کار بم دھماکے کی قریبی جگہ پر اپنے بستے اور کتابیں اکٹھی کر رہے ہیں۔ وزارتِ دفاع کے لاجسٹک سینٹر میں ہونے والے بم دھماکے نے قریبی عمارات کو نقصان پہنچایا۔ [وکیل کوہسار/ اے ایف پی]

اس میں کہا گیا ہے کہ "مستقبل کے امن کے مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش میں، طالبان نے 2018 میں مزید علاقوں پر قبضہ کرنے کے لیے ایک ہلاکت خیز مہم شروع کی"۔

افغانستان میں اضافہ، پاکستان میں کمی

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی طرف سے افغانستان میں ایک خصوصی طور پر ہلاکت خیز سال مکمل کرتے ہوئے، گروہ کے پاکستانی ملحق تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی طرف سے دہشت گردی سے متعلقہ ہلاکتوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے۔ ٹی ٹی پی 57 حملوں اور ایک 102 ہلاکتوں کی ذمہ دار تھی جو کہ 2017 سے ہلاکتوں میں 56 فیصد کمی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان نے سال کا ہلاکت انگیز ترین حملہ اس وقت کیا جب قاتل افغانستان کے شہر غزنی میں داخل ہوئے اور 466 افراد کو ہلاک کر دیا۔

عام شہریوں کی زیادہ تر ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب گروہ نے گاوں اور شہروں جیسے کہ فراہ صوبہ کے شہر عزنی، پر بڑے پیمانے پر حملوں کا آغاز کیا۔

رپورٹ کے مطابق، مجموعی طور پر دہشت گردی سے عالمی پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 2018 میں15.2 فیصد گر گئی۔

جب "دولتِ اسلامیہ" (داعش) نے 2014 میںlured tens of thousands of militants to the Middle East تھا تو ہلاکتوں کی تعداد 33,555 تھی جو 2018 میں دہشت گردی سے ہونے والی ہلاکتوں کے آدھے سے زیادہ کم جانے کے باعث 15,952 ہو گئی۔

عراق میں، 1,131 حملوں میں 1,054 افراد ہلاک ہوئے، نائیجریا میں ہونے والے 562 حملوں میں 2,040 افراد ہلاک ہوئے جس سے یہ دنوں طالبان کے بعد دوسرے نمبر پر آ گئے۔

طالبان نے جمعرات (21 نومبر) کو ایک بیان میں دعوی کیا کہ ان کے جنگجوؤں نے "کبھی بھی عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا ہے

ہنگامی امداد دوگنی

یورپین کمیشن (ای سی) کی ایک ترجمان خاتون نے جمعرات کو کہا کہ یورپین یونین (ای یو) نے اس سال "انسانی ہمدردی کی صورتِ حال کے مزید بگڑنے کے باعث" افغانستان کے لیے اپنی سالانہ ہنگامی امداد کو دوگنا کر کے 77 ملین یورو (85 ملین ڈالر) کر دیا ہے۔

کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ مختص کیے گئے اضافی 40 ملین یورو (44 ملین ڈالر) ہنگامی صحتِ عامہ، پناہ، پانی اور خواتین اور بچوں کی حفاظت کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

امداد میں سے تقریبا 80 فیصد براہ راست افغانستان جاتی ہے جبکہ باقی مانندہ ایران اور پاکستان جاتی ہے جو مجموعی طور پر چھہ ملین افغان مہاجرین کو پناہ فراہم کرتے ہیں۔

ای سی کے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کے کمشنر کرسٹوس اسٹائلینائیڈز نے کہا کہ "نہ صرف حکومت اور غیر حکومتی مسلح گروہوں میں تنازعہ اس سال کے آغاز سے مزید شدت اختیار کر گیا ہے مگر تباہ کن سیلابوں نے بھی جنگ سے متاثرہ ملک کو متاثر کیا ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
6
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

دنیا طالبان کے خلاف جو بھی بھونکے لیکن وہ ہمارے ہیرو ہیں
اور بھاڑ میں جائے وہ جو ان کو دہشتگرد کہتا ہے
کیا ان کو کائنات کا سب سے بڑا دہشت گرد نیتن یاہو نظر نہیں آتا
مودی چائے والا نظر نہیں آتا
ٹرمپ دو منہ والا بندر نظر کیوں نہیں آتا

جواب