https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/11/21/feature-01
معاشرہ |

خواتین کھیلوں، امن کے اقدام سے لیاری میں امن کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں

ضیاء الرحمان

image

لڑکیاں، 3 نومبر کو کراچی کے علاقے لیاری میں فٹ بال کھیل رہی ہیں۔ خواتین لیاری میں امن کے اقدامات کا حصہ ہیں اور وہ کھیلوں کے کئی پروگراموں میں حصہ لے رہی ہیں۔ [ضیاء الرحمان]

کراچی -- سول سوسائٹی کے سرگرم کارکن، لیاری، کراچی کا وہ علاقہ جو کسی زمانے میں گینگز کی سرگرمیوں کے لیے مشہور تھا، امن کے اقدامات سے، علاقے میں اس کی متشدد ساکھ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان اقدامات میں خواتین کو بھی شامل کیا گیا ہے جو کہ کھیلوں کے کئی ایسے پروگراموں میں حصہ لے رہی ہیں -- باکسنگ، فٹ بال اور سائیکلنگ -- جن میں پاکستانی معاشرے میں عمومی طور پر انہیں شرکت کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

لیاری، جو کہ کراچی کے قدیم ترین علاقوں میں سے ایک ہے، اس وقت تک اپنی کثیر النسلی اور ثقافتی ہم آہنگی کے لیے جانا جاتا تھا، جب تک کہ مجرموں کے گروہوں نے قرب و جوار میں اپنی جڑیں نہیں پھیلا لی تھیں۔

image

نوجوان خاتون باکسروں کا ایک گروہ اکتوبر میں تصویر کھنچوا رہا ہے۔ [ضیاء الرحمان]

image

لیاری سے تعلق رکھنے والی سائیکل چلانے والی خواتین اکتوبر میں ایک دوڑ میں شریک ہیں۔ [ضیاء الرحمان]

اگرچہ لیاری میں گینگز اور گینگز تشدد، 1960 سے عام تھا مگر موجودہ دور کا تنازعہ 1990 کی دہائی سے شروع ہوا۔ یہ بات کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی فراز خان، جنہوں نے شہر کے تشدد کے بارے میں لکھا ہے، نے بتائی۔

خان نے کہا کہ "ان بہت سے گینگز کے لیے جنت بننے کے بعد، یہ ان گینگز کے درمیان، جو مختلف قسم کے غیر قانونی کاموں جس میں بھتہ خوری، چوری، منشیات، اغوا برائے تاوان اور قتل شامل ہیں، پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کے متلاشی تھے، کی متشدد دشمنیوں سے مصائب کا شکار رہا"۔

تاہم، ستمبر 2013 میں متشدد گروہوں کے خلاف شہر بھر میں ہونے والے ایک آپریشن نے اہم راہنماؤں کو نشانہ بنانے سے ان گینگز کو کمزور کرنا شروع کر دیا۔

لڑکیوں کے لیے کھیلوں کے اقدامات

امن کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ لیاری کی خواتین کو کئی دیہائیوں تک جاری رہنے والے گینگ تشدد سے بہت مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

تاہم، مجرمانہ گروہوں پر کامیاب کریک ڈاؤن کے بعد، خواتین اب امن کی تعمیر اور بعد از تنازعہ تعمیرِ نو میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

سماجی سرگرم کارکن پروین ناز جنہوں نے ستمبر میں لیاری ادبی میلہ منعقد کیا تھا، کہا کہ "حال میں لڑکیوں کا مختلف کھیلوں-- جیسے کہ فٹ بال اور سائیکلنگ-- میں اوپر آنا، شہر کے پرانے علاقے میں امن کو قائم رکھنے میں خواتین کے کردار کا حصہ ہے"۔

اس تقریب نے ہزاروں مقامی شہریوں، لکھاریوں، شاعروں، دانشوروں اور کتابوں سے محبت کرنے والوں، کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ مارچ 2014 میں لیاری کی جھٹپٹ مارکیٹ میں گینگز کے درمیان ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں خواتین اور بچے ہلاک ہو گئے تھے جس سے شہریوں نے گینگز کے تشدد کے خلاف مہم شروع کی تھی۔ "اس واقعہ نے سارے لیاری کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ مقامی افراد ۔۔۔ گینگز کے تشدد کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے"۔

لیاری میں سیکورٹی کی بہتر ہوتی ہوئی صورتِ حال نے مردوں اور عورتوں دونوں کو ہی موقع دیا ہے کہ وہ کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لیں۔

لیاری سے تعلق رکھنے والی نوجوان سائیکلسٹ زلیخا داود اب بھی اپنے قرب و جوار میں ہونے والے تشدد کے واقعات کو یاد کر کے کپکا جاتی ہے۔

داود نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ درجنوں خاندان جو کہ لیاری میں رہتے تھے، تشدد کے باعث عارضی طور پر دوسرے محفوظ علاقوں میں چلے گئے تھے، کہا کہ "طلباء کی اکثریت -- لڑکے اور لڑکیاں دونوں -- تشدد کے باعث اسکول نہیں جا سکتے تھے اور ہمارے والدین ہمیں گھروں کے اندر رکھنے پر مجبور تھے"۔

مگر جب لیاری میں امن واپس آ گیا تو داود اور دوسری لڑکیوں نے سائیکلنگ کا آغاز کر دیا۔ اب وہ سائیکلنگ انشیٹیو چلا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "لیاری میں خواتین کی طرف سے کھیلوں میں اور خصوصی طور پر سائیکلنگ میں شرکت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس سے نہ صرف امن کو قائم رکھنے میں مدد مل رہی ہے بلکہ علاقے کی متشدد علاقہ ہونے کی شہرت کو دور کرنے میں بھی مدد مل رہی ہے"۔

لیاری کے کارکری فٹ بال گراونڈ میں درجنوں لڑکیاں باقاعدگی سے فٹ بال کھیلتی ہیں۔ قریب ہی، بہت سی لڑکیاں باکسنگ کی مشق کر رہی ہیں۔

ثانیہ بلوچ جو کہ باکسنگ کی 14 سالہ طالبہ ہیں، نے کہا کہ "صحت مندانہ سرگرمیاں ہماری سوچ کے عمل پر مثبت طریقے سے اثر انداز ہو رہی ہیں اور ہمیں بڑے خواب دیکھنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔ ہم خودمختار محسوس کر رہی ہیں اور لیاری کو فخر کرنے کے قابل بنا رہی ہیں"۔

خواتین کے مقام کے بارے میں سندھ کمیشن کی چیرپرسن نزہت شیرینی نے کہا کہ "یہ لڑکیاں اتنی باہمت ہیں کہ وہ فٹ بال کے کھلاڑیوں کے دقیانوسی تصور کو چیلنج کر رہی ہیں"۔

شیرینی نے کہا کہ "وہ یہ پیغام بھیج رہی ہیں کہ وہ نہ صرف امن لانے میں کردار ادا کر سکتی ہیں بلکہ اپنی پیش رفت اور خودمختاری میں موجود مصائب پر قابو بھی پا سکتی ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha