https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/11/19/feature-02
معاشرہ |

باجوڑ میں الہدیٰ یتیم خانہ سب کو چھت اور تعلیم فراہم کر رہا ہے

غلام دستگیر

image

22 اکتوبر کو طلبہ یتیموں کے لیے الہدی مرکز کے سکول میں کلاس لے رہے ہیں۔ [غلام دستگیر]

کھر، باجوڑ – ضلع باجوڑ میں ایک یتیم خانہ یتیموں کو تعلیم فراہم کرنے اور انہیں عسکریت پسندوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکنے پر کام کر رہا ہے۔

یتیموں کے لیے الہدیٰ مرکز کے بانی، علی سردار دو برس کے تھے جب 1977 میں ان کے والد ایک ٹریفک حادثے میں جاںبحق ہو گئے۔

ان کی والدہ نے اس لیے دوبارہ شادی نہیں کی کیوں کہ انہیں ڈر تھا کہ اس سے سردار اور ان کی دو بیٹیوں پر منفی اثر پڑے گا۔

image

22 اکتوبر کو کھر، باجوڑ میں طلبہ یتیموں کے الہدیٰ مرکز میں ٹویکانڈو کی تربیت لے رہے ہیں۔ [غلام دستگیر]

image

22 اکتوبر کو مرکز میں ایک استاد طلبہ کی کاپیاں چیک کر رہے ہیں۔ [غلام دستگیر]

سردار نے کہا، "میرے خاندان کو مالی مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیوں کہ میرے چچا اور دادا ہماری مدد کو موجود تھے۔" انہوں نے مزید کہا کہ وہ تب سے یتیموں کے لیے کچھ کرنا چاہتے تھے جب وہ بچے تھے۔

2006 میں ایک مقامی ایف ایم ریڈیو سٹیشن، صدائے باجوڑ (باجوڑ کی آواز) نے یتیموں کے لیے کپڑوں کی ایک مہم کا اعلان کیا تاکہ وہ دیگر بچوں کے ہمراہ عید الفطر منا سکیں۔

سردار نے تجویز کیا کہ یہ ریڈیو سٹیشن معمول کی بنیاد پر اپنا خیراتی کام جاری رکھے، اور 2006 میں انہوں نے مل کر ضلع باجوڑ کے انتظامی ہیڈکوارٹرز، کھر میں ایک یتیم خانہ قائم کیا۔

اگست 2008 میں 10 طلبہ پر مشتمل اس یتیم خانہ کو طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف ایک عسکری آپریشن کے دوران بند کر دیا گیا۔

تاہم، ایک برس بعد، سردار نے یتیم خانہ دوبارہ کھولتے ہوئے اس کا نام یتیموں کے لیے الہدیٰ مرکز رکھ دیا اور اسے محکمہٴ سوشل ویلفیئر کے ساتھ ایک غیر منافع تنظیم کے طور پر درج کروایا۔

2010 میں انہوں نے یتیم خانہ کے جزُ کے طور پر الہدیٰ پبلک سکول قائم کیا، جس میں اب 14 کمرے ہیں اور اس میں 102 یتیم زیرِ تعلیم ہیں۔

یہ مرکز عسکریت پسندوں، سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی اولادوں سمیت متنوع پسمنظر سے یتیموں کو سہولت دیتا ہے۔

ہمارا ہدف اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ عسکریت پسندوں کے بچے اپنے والدوں کے نقشِ قدم پر نہ چلیں اور یہ کہ ان کے پاس معاشرے کے پرامن رکن بننے کا ایک موقع ہو۔

سردار نے کہا کہ اس یتیم خانہ اور سکول کو چلانے کے لیے درکار مالیات کا ایک بڑا حصّہ مقامی عطیہ دہندگان کی جانب سے آتا ہے۔

انہوں نے کہا، "اس وقت ہمارے یتیم خانے کو 4 ملین روپے (26,000 ڈالر) خسارہ کا سامنا ہے۔"

سردار کے مطابق، قبل ازاں اس مرکز کو ایجنسی ڈیولپمنٹ فنڈ کے تحت پولیٹیکل ایجنٹ سے 50,000-200,000 روپے (320-1280 ڈالر) ملتے تھے، لیکنمئی 2018 میں فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن کے خاتمہسے یہ دفتر اور فنڈ بھی ختم ہو گیا۔

انہوں نے کہا، "قبل ازاں ہمارے پاس ایک خاکروب اور ایک ہجام تھا۔ لیکن اب ہم اس کے مقدور نہیں اور بچے خود صفائی سے متعلقہ کام کرتے ہیں اور انہوں نے بال کاٹنے کی مہارت بھی سیکھ لی ہے اور وہ اپنے ساتھی طلبہ کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔"

فوج سے تعلق رکھنے والے کمانڈر برگیڈیئر نعیم اکبر نے 10 کمرہ ہائے جماعت، تین غسل خانوں، پوری عمارت اور الیکٹریکل ونگ کی سفیدی کے کام کے لیے ادائگی کی۔ انہوں نے 4 جولائی، 2019 کو نئی تعمیر اور تجدید کے کام کا افتتاح کیا۔

معاشرے کے بارآور رکن

اس یتیم خانہ میں آٹھویں جماعت تک جماعتیں ہیں۔ طلبہ صبح کو جماعتوں میں جاتے ہیں، دوپہر میں قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور ٹویکانڈو میں حصّہ لیتے ہیں۔

اس مرکز میں آٹھویں جماعت کے ایک طالبِ علم محمّد حنظلہ کا والد جنوری 2006 میں باجوڑ میں دامادولہ میں ایک مدرسے میں عسکریت پسندوں پر ایک فضائی حملے کے دوران ہلاک ہو گیا۔

اس کا والد، عسکریت پسندوں میں سے ایک، بھی ایک عالم تھا جو کہ اسی مدرسہ میں قرآن کا درس دیتا تھا۔ اپنے والد کی طرح ایک عسکریت پسند بننے کے بجائے محمّد حنظل ایک ڈاکٹر بننا چاہتا ہے۔

نویں جماعت کے ایک طالبِ علم، حنظلہ خان نے لوئی سام کے علاقہ میں ایک مارٹر حملے میں اپنے والد کو کھو دیا۔ اب وہ کھر میں ایک سرکاری سکول میں زیرِ تعلیم ہے۔

سردار نے کہا، "ہمارے مرکز کے طلبہ کی طرح، ہم اس [حنظلہ خان] کی تعلیم کا خرچہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اسے چھت، کپڑے اور تین وقت کا کھانا فراہم کرتے ہیں۔"

سردار نے کہا، "اگر ہم بطریقِ احسن ان بچوں کی دیکھ بھال کرنے میں کامیاب ہو جائیں اور انہیں معیاری تعلیم سے آراستہ کر سکیں، تو وہ دہشتگرد نہیں بلکہ معاشرے کے بارآور ارکان بنیں گے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

یہ حقیقی کام ہے، پھر سرادار جی، اللہ آپ کو انعام میں جنت دے، مجھے آپ پر فخر ہے

جواب