https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/11/08/feature-01
جرم و انصاف |

بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگز نے باجوڑ میں دہشت گردی کے سایوں میں اضافہ کر دیا

از غلام دستگیر

image

24 اکتوبر کو خار، ضلع باجوڑ کے داخلی راستے پر ایک محافظ افسر ایک کار کی تلاشی لیتے ہوئے۔ [غلام دستگیر]

خار، باجوڑ -- ضلع باجوڑ میں ایک مقامی سیاسی رہنماء کے قتل اور بھتہ خوری کی کوششوں نے مقامی باشندوں میں دہشت گردوں کی واپسی کے امکان پر تشویش کو جنم دیا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (فضل) (جے یو آئی-ایف) کے مقامی رہنماء، مفتی سلطان محمد کو 28 اکتوبر کو بادان میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ڈان کے مطابق، سلطان محمد پر جب حملہ ہوا اس وقت وہ فجر کے وقت قریبی مسجد جا رہے تھے۔ حکام نے انہیں فوری طور پر کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) پشاور منتقل کیا، جہاں وہ رات کے وقت زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

image

24 اکتوبر کو ضلع باجوڑ میں ایک محافظ افسر پہرہ دیتے ہوئے۔ [غلام دستگیر]

image

24 اکتوبر کو لی گئی اس تصویر میں خار، باجوڑ کی ایک مرکزی شاہراہ کے کنارے لگا یہ بل بورڈ شہریوں کو دہشت گردوں کے متعلق کوئی بھی معلومات فراہم کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ [غلام دستگیر]

"دولتِ اسلامیہ" (داعش) نے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ حکام ابھی بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں، ٹارگٹ کلنگز، بم دھماکوں، بھتہ خوری اور دھمکی آمیز کالوں میں سیاستدانوں اور کاروباری مالکان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

16 اکتوبر کو۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی باجوڑ شاخ کے سینیئر نائب صدر، میاں گل جان، کو خار میں گولی مار دی گئی تھی۔

اسی طرح، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے ضلعی نائب صدر، اکرام اللہ مشوانی کو ستمبر کے آخر میں راغاغان کے علاقے سے اغواء کر لیا گیا تھا۔ دفاعی اداروں نے نو روز بعد انہیں قریبی پہاڑیوں سے نکالا تھا۔

باجوڑ ایوانِ صنعت و تجارت کے بانی صدر، حاجی لالی شاہ نے کہا، "ٹارگٹ کلنگز، بھتے کے لیے کالوں اور جو تاجر بھتہ دینے سے انکار کرتے ہیں ان کے گھروں کے باہر بم دھماکوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔"

انہوں نے کہا، "ہمارے تاجر دن بدن انتہائی خوف زدہ ہو رہے ہیں جس سے امن و امان کی صورتحال بدتر ہوتی جا رہی ہے،" ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے خود اپنے پہرے میں اضافہ کر دیا ہے اور شام کے وقت باہر نکلنے سے اجتناب کر رہے ہیں۔

شاہ نے کہا، "تاجروں میں انتہائی خوف کا ماحول ہے، جس کی وجہ سے کوئی بھی اپنی مصیبت کے متعلق بات کرنے کو تیار نہیں ہے کیونکہ یہ مجرموں کے اشتعال کو دعوت دے سکتا ہے۔"

نامعلوم مجرمان

حالیہ واقعات کی پشت پر موجود افراد کی شناخت ابھی تک نامعلوم ہے۔

سرحد پر باڑ نصب ہونے کی وجہ سے مقامی سیاسی قائدین نے افغان طالبان اور تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ارکان کی دخل اندازی کے امکان کو مسترد کر دیا ہے مگر وہ کٹکوٹ، عمیرے، نختار اور ڈمہ ڈولا کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہیں۔

ایک خط جو مبینہ طور پر ٹی ٹی پی کی باجوڑ شاخ کی جانب سے جاری کیا گیا تھا اس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کمنگرہ کے مکین، بشمول چرومائٹ کان کو چلانے والے، قبائلی عمائدین اور زمیندار، کان کنی روک دیں اور بھتہ دیں؛ "بصورتِ دیگر، وہ خود کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے۔"

بڑی سیاسی جماعتوں کے ضلعی دفاتر نے خط کے معاملے اور امن و امان کی صورتحال پر 23 اکتوبر کو ایک اجلاس منعقد کیا تھا۔

اجلاس کے شرکاء میں اے این پی، پی پی پی، پاکستان مسلم لیگ-نواز، جے یو آئی-ایف، جماعتِ اسلامی، قومی وطن پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے مقامی قائدین شامل تھے۔

باجوڑ سے تعلق رکھنے والے ایک سابقہ قانون ساز، شہاب الدین خان نے کہا کہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے خیبرپختونخوا (کے پی) میں حالیہ انضمام کی وجہ سے انتظامی رکاوٹیں صورتحال پر سست ردِعمل کی ذمہ دار ہو سکتی ہیں۔

ماضی میں علاقے پر نافذ العمل الگ، نوآبادیاتی دور کے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، "فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن کے خاتمے اور عام قوانین پر منتقلی کے درمیان عبوری عرصہ باجوڑ میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیچھے بنیادی وجہ ہے۔"

انہوں نے کہا کہ عام قوانین اور پولیس تھانوں اور عدالتوں جیسےادارے باجوڑ میں ابھی قائم ہو رہے ہیں۔

خان کا کہنا تھا، "اس وقت، پورے ضلع میں صرف دو پولیس تھانے ہیں، جن کی سرحدیں چارسدہ اور لوئر دیر کے اضلاع سے ملتی ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
2
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha