https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/11/07/feature-01
پناہ گزین |

افغانیوں، یو این نے چالیس سالوں تک مہاجرین کی میزبانی کرنے پر پاکستان کی تعریف کی

ضیا الرحمان

image

افغان مہاجرین یکم نومبر کو کراچی کے کیمپ جدید میں قالین بُن رہے ہیں۔ افغان مہاجرین اور یواین ایچ سی آر نے چالیس سالوں تک ان کی میزبانی کرنے پر پاکستان کو سراہا ہے۔ [ضیا الرحمان]

کراچی -- محمد شاکر اللہ کے خاندان کو اکتوبر 1979 میں احساس ہوا کہ ان کے پاس اپنے آبائی ملک افغانستان کو چھوڑ کر پاکستان بھاگ جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔

شاکر اللہ جو کہ صوبہ کابل کے رہائشی تھے، نے کہا کہ ان کی عمر اس وقت 15سال تھی جب ان کے والدین، روس کی حمایت یافتہ کیمونسٹ حکومت کے جبر سے بھاگ کر کراچی منتقل ہو گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ "اگرچہ اس سال دسمبر میں تنازعہ میں اضافہ ہو گیا (روس کی دراندازی) لوگوں نے اکتوبر میں ہی اپنی جانیں بچانے کے لیے ملک کو چھوڑنا شروع کر دیا تھا"۔

image

ایک افغان بچہ یکم نومبر کو مہاجر کیمپ کے اسکول میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ [ضیا الرحمان]

image

یکم نومبر کو افغان بچے مہاجر کیمپ کے ایک اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ [ضیا الرحمان]

وہ اور ان کا خاندان گزشتہ 40 سالوں سے ابھی تک پاکستان میں پناہ لیے ہوئے ہے۔

شاکر اللہ نے کیمپ جدید، جو کہ کراچی کے مصافات میں واقع ایک مہاجر کیمپ ہے، میں کہا کہ "ہم پاکستان کے شکرگزار ہیں کہ اس نے 40 سالوں سے ہمیں باعزت طور پر پناہ دی ہے"۔

افغان مہاجرین اور اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے گزشتہ 40 سالوں کے دوران افغان مہاجرین کو ملک کے اندر خوش آمدید کہنے اور ان سے کیے جانے والے سلوک پر پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے۔

یو این ایچ سی آر کے مطابق، پاکستان نے دنیا کی سب سے بڑی طویل ترین مدت تک مہاجر رہنے والی آبادی میں سے ایک کو پناہ فراہم کی ہے اور 1979 سے 5 ملین افغان شہریوں نے کسی نہ کسی وقت پناہ حاصل کی ہے۔

ان میں سے بہت سے روس کی دراندازی سے بھاگے تھے، دیگر نے طالبان کی متشدد عسکریت پسندی سے فرار حاصل کیا اور کچھ حال ہی میں دولتِ اسلامیہ (داعش) سے بچنے کے لیے بھاگے ہیں۔

صوبہ سندھ میں افغان مہاجرین کے ایک نمائںدے حاجی عبداللہ بخاری نے کہا کہ مہاجر بچوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد اب دوسری اور تیسری نسل کا حصہ ہے جو پاکستان میں پیدا ہوئی اور پلی بڑھی ہے۔

بخاری نے کہا کہ "ان میں سے اکثریت کبھی افغانستان نہیں گئی ہے اور ان کا آپنے آبائی ملک سے کسی قسم کا تعلق ختم ہو گیا ہے اور اس لیے انہیں واپس جانے کے لیے پرکشش ترغیب اور دیرپا نوآبادکاری کے لیے مناسب سہولتوں کا ہونا ضروری ہو گا"۔

اسلام آباد میں یو این ایچ سی آر کے ترجمان قیصر خان آفریدی نے اتنے طویل عرصے تک لاکھوں افغان مہاجرین کی کھلے دل سے میزبانی کرنے پر پاکستان کی حکومت اور پاکستان کے شہریوں کی تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان 1۔4 ملین افغان مہاجرین کی میزبانی کو جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ 4۔4 ملین 2002 سے یو این ایچ سی آر کی مدد سے جاری کیے جانے والے رضاکارانہ واپسی کے پروگرام کے تحت واپس افغانستان جا چکے ہیں۔

مہاجرین کی مدد کے لیے حکومتی کوششیں

وزیراعظم عمران خان نے 16 ستمبر 2018 کو ایسے 1.5 ملین افغان مہاجرین کو شہریت دینے کے ارادے کا اظہار کیا تھا جو کئی دیہائیوں سے پاکستانی معاشرے کی حدوں پر رہ رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے نسلی-سیاسی گروہوں کی طرف سے بھاری تنقید کے سامنے اس فیصلے کا اعلان کیا۔

خان نے دو دن بعد، قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنے ارادے کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ حقوقِ پاکستانی شہریت ایکٹ 1951 کے تحت، پاکستان میں مہاجرین کے گھر پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم اقوامِ متحدہ کے معاہدوں کے مطابق انہیں زبردستی ملک سے نہیں نکال سکتے"۔

تنقید کے بعد، پاکستان نے آخیر میں افغان مہاجرین کے بچوں کو شہریت نہیں دی۔

پھر بھی، وفاقی حکومت نے افغان مہاجرین کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے بہت سے اقدامات کیے ہیں۔

خان نے 25 فروری کو پاکستان کے بینکوں کو حکم دیا کہ وہ تمام انداراج شدہ افغان مہاجرین کو اکاونٹ کھولنے کی اجازت دیں۔

یہ 41 سالہ تاجر شوکت سفیر کر لیے بہت خوش آئںد تھا۔ وہ گزشتہ 12 سال سے کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں اپنا قالینوں کا کاروبار چلا رہا ہے۔ تاہم، افغان نسل ہونے کے باعث، وہ بینک اکاونٹ نہیں کھول سکتا تھا، جس سے اس کے کاروبار کے لیے سنگین مسائل پیدا ہوئے تھے۔

دریں اثنا، افغان مہاجرین کی مدد کے لیے دوسرے اقدامات زیرِ غور ہیں۔

اسٹیٹس اینڈ فرنٹئر ریجن کی وزارت کے ایک اہلکار نے کہا کہ حکومت افغان مہاجرین کو املاک اور گاڑیاں خریدنے اور ڈرائیور لائسنس حاصل کرنے کی اجازت دینے پرغور کر رہی ہے۔

اہلکار جس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، کیونکہ اسے ذرائع ابلاغ سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، کہا کہ "حکومت کو ان مسائل کا پورا احساس ہے جن کا سامنا مہاجرین کو کرنا پڑتا ہے اور وہ انہیں حل کرنے کے لیے اپنی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے"۔

مہاجرین کے لیے ایران کی معاندانہ پالیسی

افغان شہریوں کا کہنا ہے کہ ایران میں مہاجرین سے جیسا سلوک ہوتا ہے وہ ایک الگ ہی داستان ہے۔

ہلمند کا ایک مہاجر بشیر خلیجی جو کہ اب کوئٹہ میں رہتا ہے، نے ایک سال ایران میں گزار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے قانون نافذ کرنے والے ادارے مہاجرین سے غیر انسانی سلوک کرتے ہیں اور انہیں زبردستی ملک بدر کر دیتے ہیں۔

خلیجی نے کہا کہ "اگر آپ ایران سے مقابلہ کریں تو پاکستان ہمارے لیے جنت ہے۔ ہم پاکستان میں کھلے عام سفر کر سکتے ہیں اور کاروبار کر سکتے ہیں۔ مگر ایران میں میں مہاجرین کے حقوق کی مکمل خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ان سے دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک ہوتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں مہاجرین کو ملک میں سفر کرنے کی اجازت نہیں دیتی ہیں اور انہیں مہاجر کیمپوں تک محدود رکھا جاتا ہے اور ان پر جسمانی تشدد کیا جاتا ہے۔

گزشتہ سال، ایرانی سرحدی گارڈز کی طرف سے، افغان مہاجرین پر کیے جانے والے پرتشدد استحصال کو دکھانے والی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر مشہور ہوئی جس پر انسانی حقوق کی افغان اور بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے شدید تنقید کی گئی اور لوگوں میں غم و غصہ پیدا ہوا۔

ہیومن رائٹس واچ رپورٹ کے مطابق، علاوہ ازیں، ایران افغان مہاجرین کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، افغان مہاجرین کے بچوں کو شام کی جنگ میں لڑنے کے لیے بھیج رہا ہے اور اس کے بدلے ان سے رقم اور ایران میں رہائش کا اجازت نامہ دینے کا وعدہ کرتا ہے

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha