https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/10/30/feature-02
| سلامتی

منصوبہ بندی کردہ 'آزادی' مارچ سے قبل کے پی پولیس کی انسدادِ ہنگامہ آرامی تربیت کے ساتھ اعانت

از جاوید خان

image

وسط اکتوبر میں پولیس افسران ملک سعد شہید پولیس لائنز میں انسدادِ ہنگامہ آرائی کی تربیت حاصل کرتے ہوئے۔ [کے پی پولیس]

پشاور -- خیبرپختونخوا (کے پی) کے پولیس افسران خطے کے لیے منصوبہ بندی کردہ آئندہ سیاسی احتجاجوں اور مارچوں کی تیاری کرنے کے لیے صوبہ بھر میں انسدادِ ہنگامہ آرائی کی جدید تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔

دینی جماعت جمعیت علمائے اسلام (فضل) (جے یو آئی-ایف) اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ہزاروں احتجاجی مظاہرین کا جمعرات (31 اکتوبر) کو حکومتی پالیسیوں کے خلاف اسلام آباد میں مارچ کرنا متوقع ہے۔

24 اکتوبر کو پاکستانی حکام نےمارچ سے قبل جے یو آئی-ایف کے رضاکار گروپ پر پابندی عائد کر دی تھی۔

image

وسط اکتوبر میں پولیس افسران ملک سعد شہید پولیس لائنز میں انسدادِ ہنگامہ آرائی کی تربیت حاصل کرتے ہوئے۔ [کے پی پولیس]

وزارتِ داخلہ نے جے یو آئی-ایف کے ڈنڈا بردار رضاکاروں کی تنظیم، انصار الاسلام کو کالعدم نجی ملیشیا گروپ کے طور پر درج کیا تھا۔

یہ اقدام اس وقت کیا گیا ہے جب جے یو آئی-ایف نے 27 اکتوبر سے شروع ہونے والے اسلام آباد کی طرف ایک بڑے احتجاجی مارچ کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد وزیرِ اعظم عمران خان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرنا ہے۔

خطے کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کے پی پولیس کے لیے جدید تربیت اس مارچ کے لیے بہتر طور پر تیاری کرنے میں مدد دے گی۔

معمول کی کارروائیاں

کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) پشاور کریم خان نے کہا، "ہم نے گزشتہ چند دنوں میں پشاور میں 2،250 پولیس افسران کو انسدادِ ہنگامہ آرائی کی تازہ دم تربیت فراہم کی ہے تاکہ وہ احتجاجی مظاہروں، مارچوں اور دیگر واقعات پر بہتر طور پر قابو پا سکیں۔"

انہوں نے کہا، "تازہ دم کورس ملک سعد شہید پولیس لائنز میں کروایا گیا ہے، جہاں افسران کو ابتدائی طبی امداد کی تربیت بھی فراہم کی گئی۔"

کے پی میں ہر پولیس تھانے میں افسران سیکھ رہے ہیں کہ پولیس اہلکاروں نیز دفاعی اہلکاروں کی جانب سے حراست میں لیے گئے کسی بھی فرد کو ہنگامی طبی امداد کیسے دینی ہے۔

پشاور پولیس نے کہا کہ 31 اکتوبر کے مارچ کے لیے صوبائی دارالحکومت میں انسدادِ ہنگامہ آرائی کے تقریباً 3،200 پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ فورس کو دیگر 2،000 ریزرو پولیس افسران کی معاونت حاصل ہو گی جو مسلح اہلکاروں کو لے جانے والی گاڑیوں، جیل کی وینوں، پانی پھینکنے والی توپوں اور فوری جوابی کارروائی کرنے والی فورسز سے لیس ہوں گے۔

پشاور بھر میں پولیس کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس وقت تک احتجاجی مظاہرہن کے خلاف کوئی کارروائی نہ کریں جب تک وہ قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں کرتے یا دنگا فساد نہیں کرتے۔ مارچ کے شرکاء کے 31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

کے پی پولیس کے ترجمان، کوکب فاروق نے کہا کہ انسدادِ ہنگامہ آرائی تربیت معمول کی کارروائیوں کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا، "خصوصی طور پر تیار کردہ تربیت کے علاوہ، ایسے تازہ دم کرنے والے کورس ہیں جن کا ضلعی پولیس کی جانب سے اپنے طور پر اہتمام کیا جا رہا ہے تاکہ پولیس اہلکار احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں سے نمٹنے کے لیے تیار ہوں۔"

احتجاجی مظاہرین کے کاروان

کوکب فاروق نے کہا کہ صوبہ بھر میںخصوصی مہارتوں کے حامل سات اسکول ہیں جو کہ کے پی پولیس کے بدامنی اور دنگوں کے انتظام کے شعبے کا جزو ہیں، جن میں سے ایک کا خاص طور پر مقصد پولیس افسران کو ہنگامہ آرائی پر قابو پانے کی تربیت فراہم کرنا ہے۔

سکول جنوری 2015 میں مردان میں قائم کیا گیا تھا اور اس نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس سے لے کر کانسٹیبلوں تک کے تقریباً 6،000 پولیس افسران کو تربیت فراہم کی ہے۔ مردان میں خصوصی مہارتوں کا حامل سکول پولیس افسران کو ان شعبوں میں تربیت دیتا ہے جن میں پر تشدد ہجوم کی نفسیات، پر تشدد ہجوم سے نمٹنا، ہجوم پر قابو پانا، گفت و شنید کی مہارتیں اور دباؤ کے انتظام کی تکنیکیں شامل ہیں۔

پشاور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس عتیق شاہ نے کہا کہ پولیس افسران کو تربیت فراہم کرنے کے علاوہ، کے پی پولیس نے احتجاجی مظاہروں کے پُرتشدد ہو جانے کی صورت میں نقصانات سے بچنے کے لیے گشتی کاروں کی ونڈ سکرینوں اور کھڑکیوں کو پختہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام کاروں اور ان میں سوار افسران کو کسی بھی نقصان سے محفوظ رکھے گا۔

شاہ نے کہا کہ حزبِ مخالف جماعتوں کے کاروان اسلام آباد میں آزادی مارچ کے لیے 27 اکتوبر سے نکلنا شروع ہو گئے تھے اور ابھی تک کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

انہوں نے کہا، "کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے کیونکہ پولیس نے احتجاجی مظاہرین کی اتنی بڑی تعداد کو بغیر کوئی مسئلہ پیدا کیے موزوں طریقے سے سنبھالا ہے۔"

پشاور کے مقامی صحافی، قیصر خان نے کہا، "صوبہ بھر میں پولیس کے لیے انسدادِ ہنگامہ آرائی کی تربیت کی بہت ضرورت تھی، اور یہ احتجاجی مظاہروں اور پُرتشدد ہجوم کو سنبھالنے کو مزید بہتر بنائے گی۔"

انہوں نے کہا کہ خصوصی مہارتوں کے حامل سکول امن و امان کو برقرار رکھنے میں پولیس افسران کی مہارتوں میں اضافہ بھی کرتے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha