https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/10/25/feature-04
| جرم و انصاف

تصاویر میں: پشاور کی پُرہجوم جیل کی تزئینِ نو

از جاوید خان اور شہباز بٹ

image

پشاور کی نو تعمیر شدہ سینٹرل جیل کے اندر ایک سیل 23 اکتوبر کو دکھایا گیا ہے۔ [شہباز بٹ]

image

پشاور کی سینٹرل جیل کا ایک نیا ونگ 23 اکتوبر کو دکھایا گیا ہے۔ [شہباز بٹ]

image

پشاور کی نو تعمیر شدہ سینٹرل جیل کا احاطہ 23 اکتوبر کو دکھایا گیا ہے۔ [شہباز بٹ]

image

پشاور کی سینٹرل جیل کے مختلف سیل 23 اکتوبر کو دکھائے گئے ہیں۔ [شہباز بٹ]

image

پشاور کی نو تعمیر شدہ سینٹرل جیل 23 اکتوبر کو دکھائی گئی ہے۔ [شہباز بٹ]

image

وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان 23 اکتوبر کو پشاور کی نو تعمیر شدہ سینٹرل جیل کے پہلے مرحلے کا افتتاح کرتے ہوئے۔ [شہباز بٹ]

پشاور -- پشاور کی سینٹرل جیل، جو سنہ 1884 میں پہلی بار تعمیر کی گئی تھی اور اس میں سزا یافتہ دہشت گردوں سمیت بہت سے ہائی پروفائل مجرم قید ہیں، نے اس مہینے ایک نئی عمارت کھول دی ہے جو اسے سخت ترین پہرے میں مزید قیدیوں کو رکھنے کے قابل بنائے گی۔

وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا (کے پی) محمود خان نے 23 اکتوبر کو نئی جیل کے ایک بلاک کا افتتاح کیا، جس سے تعمیر کے چار مراحل میں سے پہلا مرحلہ پایۂ تکمیل کو پہنچ گیا ہے۔

نئی عمارات پر تقریباً 16.5 بلین روپے (105.5 ملین ڈالر) لاگت آئے گی۔ اصل سینٹرل جیل سنہ 1884 میں برطانوی دور میں قائم کی گئی تھی جس میں 450 قیدی رکھنے کی گنجائش تھی۔ حال ہی میں اس میں 2،000 سے زائد قیدی تھے۔

image

اس تصویر میں پشاور کی سینٹرل جیل کو 23 اکتوبر کو دیکھا جا سکتا ہے۔ [شہباز بٹ]

تقریب میں محمود خان کا کہنا تھا، "نئی عمارت میں مزید لوگوں کی گنجائش نکلے گی کیونکہ جیل میں گنجائش سے زیادہ قیدی تھے۔" انہوں نے کہا کہ جیل کا پُرہجوم ہونا ناصرف قیدیوں کی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ حفاظتی مسائل کا سبب بھی بنتا ہے۔

پشاور کی سینٹرل جیل، اور ساتھ ہی صوبے کی دیگر جیلوں میں، تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، لشکرِ اسلام اور دیگر عسکری تنظیموں کے ارکان سمیت دیگر مجرم رکھے گئے ہیں۔

افتتاحی تقریب میں، خان نے کے پی بھر میں سزا یافتہ مجرموں کی قید میں دو ماہ کی کمی کا اعلان کیا،تاہم اس میں وہ قیدی شامل نہیں ہوں گے جو دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

وزیرِ اعلیٰ نے محکمۂ جیل میں کئی نئی ملازمتوں کا بھی اعلان کیا جن میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل خانہ جات اور چیف وارڈر کے عہدے شامل ہیں۔

کے پی محکمۂ جیل خانہ جات کے انسپکٹر جنرل، مسعود الرحمان کا تقریب میں کہنا تھا کہ سینٹرل جیل کی نئی عمارتقیدیوں کو تکنیکی ہنر اور روزگار کمانے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے چھوٹی صنعتیں قائمکرے گی۔

ہسپتال، مسجد کا اضافہ

کے پی محکمۂ جیل خانہ جات کے ایک اہلکار، جنہوں نے اس لیے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی کیونکہ وہ میڈیا سے بات کرنے کے مجاز نہیں ہیں، نے کہا کہ سینٹرل جیل کی تزئینِ نو "کے کُل چار مراحل ہیں، جن میں سے پہلا مکمل ہو گیا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ پہلے فیز میں قیدیوں کے لیے نئی بیرکیں شامل کرنا شامل تھا۔

انہوں نے کہا، "دوسرے اور تیسرے مرحلے کا تعلق بھی نئے بلاکوں سے ہے" جیسے کہ ایک ہسپتال اور نابالغوں اور خواتین کی جیل کی تعمیر، جبکہ چوتھے فیز میں ایک انتظامی علاقہ اور ایک مسجد کی تعمیر شامل ہیں۔

کے پی محکمۂ جیل خانہ جات کے ایک اور اہلکار جنہوں نے نام نہ لکھنے کو کہا، نے بتایا جبکہ پشاور، کوہاٹ، نوشہرہ، صوابی اور تیمرگرہ میں جیلیں گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی ہیں، "پشاور میں اس مسئلے کو نئے بلاک کی تعمیر کے ساتھ حل کیا گیا ہے"۔

اہلکار نے کہا، "دیگر اضلاع میں مسئلے پر قابو پانے کے لیے جلد ہی مزید تعمیرات ہوں گی۔"

پشاور کے ایک مقامی صحافی، رفعت اللہ اورکزئی نے کہا، "کے پی میں جیلوں کو [قیدیوں کے لیے] مزید جگہ اور عملے کے لیے رہائش اور صحت کی بہتر سہولیات کی ضرورت ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہیں، جو کہ قیدیوں کے لیے بہت سے مسائل کا سبب بن رہا ہے۔

انہوں نے کہا، "مزید بیت الخلاؤں اور غسل خانوں اور بہتر کینٹینوں، ساتھ ہی ساتھ قیدیوں کو حرفتی تربیت اور دیگر تعلیم دینے کے لیے سہولیات لازمی ہونی چاہیئیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha