https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/09/30/feature-02
| ماحول

چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پاکستان کے لیے ماحولیاتی تباہی قرار دیا گیا ہے

ظاہر شاہ شیرازی اور اے ایف پی

image

نوجوان، 20 ستمبر کو ماحولیاتی ہڑتال کے دوران مارچ کرتے ہوئے، حکومت کی طرف سے آب و ہوا کے خراب ہو جانے اور آلودگی کے خلاف اقدامات نہ کیے جانے کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ [عارف علی/ اے ایف پی]

پشاور -- ایسے ممالک میں، جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انشییٹیو (بی آر آئی) کا حصہ ہیں، میں بھاری کاربن والی ترقی، اہم ماحولیاتی مقاصد کو ناقابلِ حصول بنا سکتی ہے اور پاکستان میں سنگین ماحولیاتی اور قومی سیکورٹی کے خدشات کو جنم دے سکتی ہے۔

اس بنیادی ڈھانچے کے دیوقامت بین الاقوامی منصوبے پر 9 ستمبر کو جاری ہونے والے ایک نئے تجزیے کے مطابق، بندرگاہوں، ریلویز، سڑکوں اور صنعتی پارک جو کہ ایشیاء، افریقہ، مشرقِ وسطی اور یورپ میں پھیلے ہوں گے، میں 126 ممالک میں نئے بنیادی ڈھانچے میں کئی ٹریلین ڈالروں کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔

2015 کے پریس معاہدے میں ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ درجہ حرات میں اضافے کو، صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے دو ڈگری سیلسیس "سے کافی نیچے" رکھا جائے۔

image

مشاہدین نے ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ہونے والی قدرتی آفات میں اضافے پر متنبہ کیا ہے جو پاکستانی سیکورٹی فورسز کے لیے ناقابلِ برداشت ہونے کا خدشہ رکھتی ہیں۔

image

ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ، تباہ کن خشک سالی ان سنگین مسائل میں سے ایک ہے، جس کا پاکستان کو سامنا ہے۔ [فائل]

چین کے ایک تھنک ٹینک سنگھوا سینٹر برائے فنانس و ڈویلپمنٹ نے کہا کہ چین کو نکال کر،126 بی آر آئی ممالک، انسان ساختہ اخراج کے 28 فیصد کے ذمہ دار ہیں۔

اس نے، 17 بی آر آئی ممالک میں، بڑی بندرگاہوں، پائپ لائنوں، ریلوے لائنز اور ہائی ویز کو بنانے کے مختلف طریقوں کے اثرات کی مثالیں پیش کی ہیں۔

اس میں پتہ لگایا گیا ہے کہ روس، ایران، سعودی عرب اور انڈونیشیا جیسے ممالک کو، موجودہ رفتار کے مقابلے میں، 2050 تک کاربن کے اخراج کو 68 فیصد تک کم کرنا ہو گا تاکہ دنیا کو درجہ حرارت میں 2 ڈگری سیلسیس اضافے کی سطح پر رکھا جا سکے۔

سنگھوا سینٹر کے ایک سینئر مہمان فیلو، سائمن زادیک نے کہا کہ "ہمارے پاس سب کچھ معمول کے مطابق ہے کا منظر ہے، جو کہتا ہے کہ اگر آپ اس طرح کام جاری رکھیں گے تو کرہ زمین پر ہر دوسرا ملک -- جس میں امریکہ، یورپ، چین اور انڈیا بھی شامل ہیں -- اگر 2 سینٹی گریڈ کے راستے پر بھی جائیں تو پھر بھی کاربن کا بجٹ، بڑھ جائے گا"۔

"بی آر آئی کا ترقیاتی محرک اتنا بڑا ہے کہ اگر آپ کاربن (اخراج) کے بارے میں غلط ہوئے تو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ باقی کوئی کیا کر رہا ہے"۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2050 تک تمام بی آر آئی ممالک سے گیسوں کا اخراج 39 فیصد تک کم ہو سکتا ہے اگر وہ زیادہ گرین ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے "زیادہ بہتر" صنعتی طریقہ کار کو استعمال کریں۔

چین -- دنیا کا سب سے بڑا کاربن آلودکار ہے -- اور انسانی ساختہ کاربن ڈائی آکسائڈ کا تقریبا 30 فیصد حصہ پیدا کرتا ہے۔

بیجنگ، جس نے ملک کے اندر فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے ہیں، نے چین سے باہر رکازی ایندھن میں اپنی سرمایہ کاری کے لیے بہت ہی کم کام کیا ہے۔

زادیک نے کہا کہ چین کو ملک کے اندر اور ملک سے باہر بی آر آئی ممالک میں، گیسوں کے اخراج کے بارے میں "پالیسی میں مستقل مزاجی" کی ضرورت ہے۔

قومی سیکورٹی کے بارے میں تشویش

اپنے حصہ کے طور پر، پاکستان آلودگی کا مقابلہ کرنے اور اپنی"کلین گرین پاکستان مہم" کے ذریعے ماحولیاتی تبدیلی سے مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی درخت لگانے کی تین مہماتمنعقد کی گئی ہیں۔ ایسے ماحولیاتی اقدامات، قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندی کو شکست دینے اور امن کے قیام کے بعد ہی ممکن ہوئے ہیں۔

اس کے باوجود، چین کے منصوبے سے ممکنہ طور پر ماحولیاتی نقصان سے قومی سیکورٹی کے بارے میں خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ خشک سالی، قحط اور دوسرے واقعات ہو جم از کم جزوی طور پر ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہوتے ہیں، ایسے عدم استحکام کی طرف لے جاتے ہیں جس کا انتہاپسند گروہ اور دوسرے ضرر رساں کردار ناجائز فادہ اٹھاتے ہیں۔

شام اس کی ایک مثال ہے۔ بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ 2006 میں شروع ہونے والی شدید خشک سالی نے "غصے میں بے روزگار" کسانوں کے جَم غَفیر کو شہروں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کیا جس سے 2011 میں شروع ہو جانے والی خونی خانہ جنگی کے لیے اسٹیج تیار ہو گیا۔

اس کے ساتھ ساتھ ہی، ماحولیاتی تبدیلی سے منسلک قدرتی آفات، پاکستان کی سیکورٹی فورسز کے لیے ناقابلِ برداشت ہو جائیں گی جن کے پاس نمٹنے کے لیے اور بہت سی دوسری ترجیحات ہیں۔ پاکستانی فوج نے 2010 میں ملک میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد، عام شہریوں کی مدد کے لیے60000 فوجیوں کو تعینات کیا تھا اور یہ واقعہ ان پیشن گوئیوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے، جن کا پاکستان کو مستقبل میں سامنا کرنا پڑے گا اگر اس نے ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے پر توجہ نہ دی۔

خیبر پختونخواہ (کے پی) سے تعلق رکھنے والے ایک صنعت کار محمد اسحاق نے کہا کہ "چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انییشیٹیو کا پاکستان اور باقی دنیا پر ماحولیاتی اثر بہت خطرناک ہو سکتا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "چین اپنی گندی ترین صنعتوں سے چھٹکارا پا رہا ہے اور انہیں اپنے ملک سے باہر نکال کر دوسرے ملکوں میں نصب کر رہا ہے جن کے ذریعے یہ منصوبہ جاری رہے گا"۔

اسحاق نے کہا کہ اسٹیل اور کاغذ کے کارخانے اور پلاسٹک کی فیکٹریاں چین کے ماحول کو انتہائی زیادہ گندہ کر رہی ہیں اور اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ ان میں سے اکثریت کو منصوبہ شدہ چین-پاکستان اکنامک کاریڈور (سیپیک) کے صنعتی زونز میں منتقل کر دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیاتی خطرات کے بارے میں بین الاقوامی برادری کی تشویش بہت سنگین ہے اور پاکستان کو چین کی حکومت کے ساتھ، اس بارے میں بات کرنی چاہیے۔

انہوں نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ اضافی لاکھوں ٹرکوں سے ہونے والا گیسوں کا اخراج، ہوا کو مزید زہریلا کر دے گا، کہا کہ کوئلے سے چلنے والے سیپیک کے منصوبے، جن میں سندھ اور پنجاب میں پہلے سے کام کرنے والے منصوبے بھی شامل ہیں، ماحول کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

یہ قدم "مزید تباہی لائے گا"

صنعت کار اور کے پی کے ایوانِ صنعت و تجارت کے سابقہ صدر، ڈاکٹر یوسف سرور نے کہا کہ ان چینی منصوبوں کے باعث ماحول میں آنے والی خرابی، سیپیک کے راستے میں آنے والے ہزاروں درختوں کو کاٹے جانے کے باعث، پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین میں اپنی آلودگی کے باعث، 17،000 سے زیادہ فیکٹریاں پہلے ہی بند ہو چکی ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ ان میں سے زیادہ تر چین سے باہر منتقل ہو جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ "ہم ہو سکتا ہے کہ مالیاتی ترقی حاصل کریں یا نہ کریں مگر ایک بات یقینی ہے -- کہ چین کے اقدامات سے مزید تباہی آئے گی کیونکہ ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی اور دیگر پاکستانی ریگولیٹری ادارے اتنے سخت نہیں ہیں کہ وہ ان نقصان دہ صنتعوں کو پاکستان آنے سے روک سکیں"۔

صنعتکار ایسوسی ایشن پشاور کے صدر زرق خان خٹک نے تجویز کیا کہ پاکستان چین کی حکومت سے مطالبہ کر سکتا ہے کہ وہ کوئلے سے چلنے والی فرسودہ فیکٹریوں کی بجائے جدید ترین حل لے کر آئے۔

انہوں نے کہا کہ "ایک اور طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے ماحولیاتی تحفظ کے قوانین کو سخت بنائیں اور ای پی اے اور دوسری ایجنسیوں کو متحرک کریں کہ وہ بڑی مقدار میں آلودگی خارج کرنے والی فیکٹریوں کی ایسی نقصان دہ تنصیبکو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
5
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha