https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/09/27/feature-03
معاشرہ |

بہتر تحفظ کے درمیان پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی جاری

از ضیاء الرحمان

image

نیم فوجی رینجرز کو مارچ میں نیشنل اسٹیڈیم کراچی کے باہر پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل-4) کے میچوں پر پہرہ دیتے دیکھا جا سکتا ہے۔ [ضیاء الرحمان]

کراچی -- ملک کے بیشتر حصوں میں امن اور تحفظ کی واپسی کے بعد، بین الاقوامی کرکٹ کیپاکستان میں واپسی جاریہے۔

سری لنکا کی بین الاقوامی کرکٹ ٹیم 27 اور 29 ستمبر اور 2 اکتوبر کو تین ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میچ کھیلنے کے لیے 24 ستمبر کو کراچی پہنچی۔

ان میچوں کے بعد، ٹیم 5، 7، اور 9 اکتوبر کو تین ٹونٹی 20 میچ کھیلنے کے لیے لاہور جائے گی۔

image

سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی 26 ستمبر کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں تربیتی نشست میں شریک ہیں۔ [ٹوئٹر/پاکستان کرکٹ بورڈ]

image

سیکیورٹی اہلکاروں کو 27 ستمبر کو کراچی میں دیکھا جا سکتا ہے۔ [ضیاء الرحمان]

اگست میں، سری لنکا کی ٹیم کے حفاظتی وفد نے اپنی قومی ٹیم کو کرکٹ کھیلنے کے لیے پاکستان بھیجنے سے قبل حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے کراچی اور لاہور کا دورہ کیا تھا۔

کمشنر کراچی افتخار شلوانی نے کہا تھا، "[سری لنکا کی] حفاظتی ٹیم ملک کی موجودہ امن و امان کی حالت اور حکومتِ پاکستان کی جانب سے سری لنکا کی ٹیم کی حفاظت کے لیے کئے گئے انتظامات سے مطمئن تھی۔"

انہوں نے کہا کہ حکام نے دونوں ممالک کے درمیان میچوں کی سیریز کے لیے کراچی میں حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔

کراچی شرقی علاقے کے پولیس چیف، عامر فاروقی نے کہا، "راستوں، ہوٹلوں اور اسٹیڈیم میں 4،500 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد ہوٹلوں سے اسٹیڈیم جانے والی سڑکوں پر پہرہ دے رہی ہے۔

تمام مرکزی شاہراہوں اور چوکوں کو سری لنکا اور پاکستان کے پرچموں سے سجایا گیا ہے۔ کراچی کے مکینوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ہی اسٹیڈیم میں بین الاقوامی میچ دیکھنے کے قابل ہونے پر بہت پُرجوش ہیں۔

ایک بینک مینیجر، شاہ حسین نے کہا کہ گزشتہ 10 برس سے وہ حفاظتی وجوہات کی بناء پر کراچی میں کوئی بین الاقوامی میچ نہیں دیکھ پائے تھے۔

شاہ حسین نے کہا، "ہم اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شکرگزار ہیں، جنہوں نے عسکریت پسندی اور دہشت گردی کو شکست دی اور ایک ایسا ماحول بنایا جس نے بین الاقوامی ٹیموں کو پاکستان میں ہماری ٹیموں کے ساتھ کھیلنے پر قائل کیا۔"

انہوں نے کہا، "پاکستانیوں کے لیے، یہ صرف ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کی سیریز نہیں ہے۔ درحقیقت، یہ عسکریت پسندی اور دہشت گردی کی شکست ہے۔"

بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی

3 مارچ 2009 کو لاہور میں سری لنکا کی ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ بند ہو گئی تھی۔ حملے میں سات پاکستانی جاں بحق اور سری لنکا کے سات افراد زخمی ہوئے تھے۔ حکام نے لشکرِ جھنگوی (ایل ای جے) پر الزام عائد کیا تھا۔

اس کے بعد سے، ملکی اور کثیر ملکی دہشت گرد تنظیموں، بشمول تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ، ایل ای جے، اور "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (داعش) کے خلاف کامیاب آپریشنوں کے بعد پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ واپس لوٹ آئی ہے۔

مارچ میں، اسلام آباد کے مقامی ایک تھنک ٹینک سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی جانب سے شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان بھر میں، سنہ 2018 میں فساد سے متعلقہ اموات کی تعداد کم ہونا جاری رہی، جس میں سنہ 2013 کے بعد سے 86 فیصد کمی دیکھی گئی۔

سیکیورٹی میں بہتری نے بین الاقوامی کرکٹ کے کھلاڑیوں کو بتدریج ترغیب دی ہے کہ وہ میچ کھیلنے کے لیے پاکستان آئیں۔ پچھلے برسوں میں، پاکستانی ٹیم اپنے میچ کھیلنے کے لیے بیرونِ ملک جاتی تھی۔

سنہ 2014 اور 2015 میں، بالترتیب، کینیا اور زمبابوے کی کرکٹ ٹیموں نے پاکستان کا دورہ کیا تھا، اور مارچ 2017 میں، لاہور میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے فائنل میچ کی میزبانی لاہور نے کہ تھی، جس میں بہت سے غیر ملکی کھلاڑی پاکستان آئے تھے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ورلڈ الیون اسکواڈ، جو صرف غیر ملکی کھلاڑیوں پر ہی مشتمل تھا، نے بھی ستمبر 2017 میں لاہور میں تین میچ کھیلے تھے۔

سری لنکا اکتوبر 2017 میں صرف ایک بین الاقوامی ٹی 20 میچ کے لیے واپس آیا تھا، اور اپریل 2018 میں ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم نے ٹی 20 میچ کھیلنے کے لیے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

اس سال مارچ میں، کرکٹ کے بین الاقوامی کھلاڑی،پی ایس ایل-4 کے آخری آٹھ میچ کھیلنے کراچی آئے تھے۔ پی ایس ایل کے پہلے 26 میچ متحدہ عرب امارات میں منعقد ہوئے تھے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
2
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha