https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/09/17/feature-01
| مذہب

سندھ میں مندر پر حملے کے بعد پاکستانی مسلمان ہندوؤں کے ساتھ کھڑے ہیں

از ضیاء الرحمان

image

ضلع گھوٹکی میں سیاسی اور دینی کارکنوں نے 15 ستمبر کو بلوائیوں کی جانب سے تباہ کردہ مندر کا دورہ کیا۔ [تصویر بشکریہ ضیاء الرحمان]

کراچی -- سندھ میں پولیس اس مشتعل ہجوم کے ارکان کے خلاف سخت کارروائی کر رہی ہے جس نے ایک ہندو مندر کو تباہ کیا تھا جبکہ پاکستانی مسلمانوں نے اقلیتی برادری کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔

گھوٹکی -- کراچی کے جنوب میں تقریباً 500 کلومیٹر دور ایک شہر -- میں اتوار (15 ستمبر) کے روز ایک مشتعل ہجوم اس افواہ کے بعد کہ علاقے کے ایک ہندو پرنسپل نے اسلام کی توہین کی ہے، سڑکوں پر آ گیا اور سچو ست رام داس مندر اور کئی دکانوں کو تباہ کر دیا۔

فرخ علی، گھوٹکی میں ایک سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس نے سوموار (16 ستمبر) کو اے ایف پی کو بتایا کہ حکام بلوائیوں کو گرفتار کرنے والوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ مقامی علمائے اسلام اس کارروائی کی حمایت کر رہے ہیں۔

image

کراچی کے سول سوسائٹی کے کارکنان نے ہندو برادری کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے اور گھوٹکی میں ہونے والے فساد کی مذمت کرنے کے لیے 17 ستمبر کو کراچی پریس کلب کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ [تصویر بشکریہ ضیاء الرحمان]

image

کراچی میں ہندو خواتین اگست کے مہینے میں مذہبی رسومات ادا کرتے ہوئے۔ [ضیاء الرحمان]

گھوٹکی پولیس نے فساد کے جزو کے طور پر تین الگ الگ واقعات -- مندر میں توڑ پھوڑ کرنے، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور مرکزی شاہراہ پر رکاوٹ ڈالنے -- سے تعلق رکھنے پر کئی مشتبہ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

سندھ پولیس کے ایک ترجمان نے کہا، "بلوائیوں کے خلاف جاری کارروائی میں درجنوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، اور پولیس باقی ملزموں کو پکڑنے کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔ فساد میں ملوث کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑا جائے گا۔" انہوں نے مزید کہا کہ بالکل درست تعداد تاحال نامعلوم ہے کیونکہ پولیس ابھی بھی تفتیش کر رہی ہے کہ آیا گرفتار شدہ ملزمان مشتعل ہجوم میں شامل تھے یا نہیں۔

سندھ کے وزیرِ اطلاعات سعید غنی نے کہا کہ ایک تفصیلی تفتیش کی جا رہی ہے۔

غنی، جب یہ کہہ رہے تھے کہ وہ ان علمائے دین کے کردار کو سراہتے ہیں جنہوں نے واضح کیا کہ مندر پر حملہ کرنے والوں کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے گی۔

ایک انٹرویو میں غنی کا کہنا تھا، "بہت سے ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں، اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔"

17 ستمبر کو، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی تنظیموں نے ہندو برادری کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے اور گھوٹکی کے واقعے کی مذمت کرنے کے لیے کراچی سمیت صوبے بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے۔

حالیہ برسوں میں پاکستان مذہبی تعصب کے خلافکھڑا ہونے کے لیے مصروفِ عمل رہا ہے جو اکثر بھڑک کر انتہاپسندی یا دہشت گردی بن جاتا ہے۔

پاکستان میں انتہاپسند بعض اوقات اقلیتوں کو ہدف بنانے کے لیے توہینِ مذہب کے قوانین کو بطور بہانہ استعمال کرتے ہیں۔

سنہ 2011 میں، ملک کی کابینہ میں واحد عیسائی، وزیرِ اقلیتی امور شہباز بھٹی، کو اسلام آباد میں قتل کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے توہینِ مذہب کے قانون کی مخالفت کی تھی۔ اس قتل میں کبھی کسی کو سزا نہیں ہوئی۔

اسی برس، پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو اسلام آباد میں ان کے اپنے ہی محافظ نے ہلاک کر دیا تھا کیونکہ تاثیر نے عیسائی خاتون آسیہ بی بی کی حمایت کی تھی، جسے توہینِ مذہب کے مشکوک مقدمے کے بعد سزائے موت دی گئی تھی۔ حکام نے محافظ کو سنہ 2016 میں پھانسی دے دی تھی۔پھانسی کی سزا پانے کے کئی برس بعد، سنہ 2019 میں آسیہ بی بی کینیڈا منتقل ہو گئی تھی۔

بین المذاہب یکجہتی

ہندو برادری کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے، اتوار کے روز سول سوسائٹی کے کارکنان اور اسلامی جماعتوں کے سینکڑوں ارکان نے سفید جھنڈے اور امن کے حامی نعروں والے پوسٹر اٹھا کر گھوٹکی میں ایک مشترکہ ریلی کا انعقاد کیا۔

خود کو فساد سے دور رکھتے ہوئے، مسلمان دینی قائدین نے بھی مقامی ہندو نمائندوں کے ساتھ اس مندر میں رات بسر کی جس پر حملہ کیا گیا تھا۔

اسلامی جماعت، جمعیت علمائے اسلام (فضل)(جے یو آئی-ایف) کے ایک صوبائی رہنما، علامہ راشد سومرو نے ایک ویڈیو پیغام میں اپنے حامیوں کو قانون اپنے ہاتھوں میں نہ لینے کی ہدایت کی۔

اپنے حامیوں کو ضلعی انتظامیہ کی معاونت کرنے کی درخواست کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، "اسلام کسی کو بھی اقلیتی گروہوں کی املاک کو تباہ کرنے اور افراد کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا۔"

صوبائی وزراء سعید غنی اور ناصر حسین شاہ نے بھی مندر میں ہندو برادری کے رہنماؤں سے ملاقات کرنے کے لیے گھوٹکی کا سفر کیا۔

ریلی کے منتظم، رؤف پارس دایو نے کہا کہ فسادات کی وجہ سے مقامی ہندو برادری گھروں میں رہنے پر مجبور رہی ہے۔

دایو، جو کہ بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے بنائے گئے سول سوسائٹی گروپ، رواداری تحریک کے رہنماء بھی ہیں، نے کہا، "ریلی کا بنیادی مقصد ہندو برادری کو یہ دکھانا تھا کہ مسلمان مکینوں کی اکثریت ان کے ساتھ ہے اور یہ کہ بلوائیوں کے لیے کوئی حمایت نہیں ہے جو فساد کے لیے مذہب کا نام استعمال کرتے ہیں۔"

عدم برداشت کے واقعات

پاکستان میں توہینِ اسلام کے غیر ثابت شدہ الزامات بھیمشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل اور دیگر قتلوں پر منتجہو سکتے ہیں۔

27 مئی کو، صوبہ سندھ کے ضلع میرپور خاص میں جانوروں کے ایک ہندو ڈاکٹر کو توہینِ اسلام کا مرتکب قرار دیا گیا تھا کیونکہ وہ مبینہ طور پر ایسے کاغذوں میں دوا لپیٹ کر فروخت کر رہا تھا جس پر اسلامی مذہنی عبارت درج تھی۔ جب اس واقعہ کے بارے میں باتیں باہر نکلیں، تو ضلع میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور مشتعل ہجوم نے جانوروں کے ڈاکٹر کی دکان کو آگ لگا دی اور ایک پولیس تھانے پر حملہ کر دیا۔

کراچی میں ایک عیسائی کارکن، ولیم صادق نے کہا، "اب غیر مسلم برادریان خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں، خصوصاً مشتعل ہجوم کی جانب سے فساد کے واقعات میں اضافے کے بعد۔"

صادق نے کہا، "ایسی خوف سے بھری فضاء میں، بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے والے گروہوں کے کارکنان کی سرگرمیوں کو سراہا جاتا ہے۔ وہ خوف کی صورتحال کو تبدیل کریں گے۔" انہوں نے مزید کہا کہ وہ پُرامید ہیں کہ صورتحال بہتر ہو جائے گی۔

قومی اسمبلی کے ایک ہندو رکن، خائل داس کوہستانی نے کہا کہ کچھ امن مخالف عناصر ایسے واقعات کے ذریعے صوبہ سندھ میں مذہبی ہم آہنگی کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔

ایک انٹرویو میں کوہستانی کا کہنا تھا، "نفرت اور فساد کو ہوا دینے والے سماج دشمن عناصر کو روکا جانا چاہیئے اور سزا دی جانی چاہیئے۔"

انہوں نے کہا، "ضلع کی سطح پر امن کمیٹیاں بنانے کی ضرورت ہے جن میں تمام مذہبی گروہوں کے نمائندے شامل ہونے چاہیئیں تاکہ اگر کوئی مذہبی معاملہ ہو تو وہ صورتحال پر قابو پا سکیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha