http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/09/10/feature-02
| جرم و انصاف

جرائم، دہشت گردی کی تحقیقات کو بہتر بنانے میں مدد کے لیے کراچی میں جدید فارنزک لیب

از ضیاء الرحمان

کراچی میں قائم کردہ ایک نئی فارنزک لیبارٹری 29 اگست کے روز دیکھی جا سکتی ہے۔ [ضیاء الرحمان]

کراچی -- صوبہ سندھ میں قائم ہونے والی ایک جدید فارنزک ڈی این اے لیبارٹری سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جرائم اور دہشت گردی کی تحقیقاتمیں مدد کرنے کی توقع ہے۔

حکام نے یونیورسٹی آف کراچی میں ایک جدید تحقیقی مرکز، ڈاکٹر پنجوانی سینٹر فار مالیکیولر میڈیسن اینڈ ڈرگ ریسرچ پر 28 اگست کو فارنزک ڈی این اے اور سیرولوجی لیب کا افتتاح کیا۔

لیب سنہ 2018 میں حکومتِ سندھ کی جانب سے 220 ملین روپے (1.4 ملین ڈالر) کی گرانٹ سے قائم کی گئی تھی۔

جون میں کراچی پریس کلب کے باہر حقوقِ نسواں کے کارکنان خواتین اور بچوں پر تشدد کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ حقوقِ نسواں کے کارکنان کا کہنا ہے کہ نئی فارنزک لیب خواتین اور بچوں پر جنسی حملے اور عصمت دری کی تحقیقات میں مدد کرے گی۔ [ضیاء الرحمان]

نیم عسکری رینجرز 15 اگست کو کراچی میں اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے۔ [ضیاء الرحمان]

یونیورسٹی کے انٹرنیشنل سنٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز (آئی سی سی بی ایس) نے لیبارٹری منصوبے کی فنڈنگ میں حصہ ڈالا تھا۔

فارنزک لیب بہت سے مقاصد پورے کرے گی، جس میں جائے وقوعہ سے جمع کردہ حیاتیاتی نمونوں کا تجزیہ کرتے ہوئے مقدمات کی تحقیقات کو تیز کرنے میں مدد کرنا شامل ہے۔

آئی سی سی بی ایس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایم اقبال چودھری نے کہا، "جدید ترین فارنزک لیبارٹری صوبہ سندھ میں اپنی نوعیت کی پہلی لیبارٹری ہے اور یہ ایک ماہ میں 100 مقدمات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت کی حامل ہے۔ کسی بھی بے قابو صورتحال میں، اضافی مقدمات دیگر قومی تحقیقاتی مراکز میں تقسیم کیے جا سکتے ہیں۔"

ایک انٹرویو میں چودھری کا کہنا تھا، "یہ جدید ترین لیبارٹری تحقیقات اور مقدمات کے دوران جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے پولیس اور مستغیث ادارے کی مدد کرنے کے لیے تعمیر کی گئی ہے۔"

چودھری نے مزید کہا، "لیبارٹری کی مدد سے، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے لیے ایک ملزم کے خلاف قابلِ اعتماد اور اثباتی شہادت جمع کرنا آسان ہوتا ہے جو اس سے انصاف کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔"

یہ لیب پاکستان میں اپنی نوعیت کی دوسری لیب ہے۔ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی پہلی لیب کو سنہ 2009 میں اس کے قیام کے بعد سے چلا رہی ہے۔ ماضی میں ملک بھر کی تحقیقاتی ٹیمیں ڈی این اے کے نمونے اور ثبوت صرف اس مقام پر بھیج سکتے تھے۔

ایکچھوٹی لیب خیبرپختونخوا میں کام کر رہی ہے۔

صوبہ سندھ میں ڈی این اے لیبارٹری کے لیے منصوبے 2016 میں شروع ہوئے تھے جب سندھ کے قائدین نے قانون نافذ کرنے والے افسران اور وکلائے استغاثہ کو قابل بنانے کی کوشش کی تھی۔

تاخیروں کے بعد، گزشتہ نومبر میں سپریم کورٹ نے حکومتِ سندھ کو ہدایات دی تھیں کہ فارنزک لیب قائم کی جائے۔

چودھری نے یاد دلایا، "لیبارٹری صوبائی حکومت کی جانب سے فنڈز آنے کے صرف چھ ماہ میں قائم ہو گئی تھی۔"

تحقیقات کو بہتر بنانا

قانون نافذ کرنے والے افسران اور دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، فارنزک لیبارٹری دہشت گردی اور جرائم کی تحقیقات میں ایک کلیدی کردار ادا کرے گی۔

کراچی پولیس کے ایک ترجمان، عادل رشید نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، خصوصاً پولیس، کے لیے فارنزک سائنس جرائم کے حل کے لیے ضروری ہے۔

رشید نے کہا، "مختلف جانچوں کے لیے فارنزک لیب کے بغیر، سندھ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے روایتی تحقیقات پر انحصار کیا کرتے تھے، جس کے اکثر کمتر اور مشکوک نتائج برآمد ہوتے تھے۔ مگر اب ہم پُرامید ہیں کہ یہ دہشت گردی اور جرم کے مقدمات کی چھان بین کرنے میں پولیس کے تفتیش کاروں کی مدد کرے گی۔"

کراچی کے مقامی صحافی، بابر علی اعوان نے کہا کہ دنیا بھر میں تفتیش کار 75 فیصد سے زائد مقدمات کو حل کرنے کے لیے جائے وقوعہ سے فارنزک ثبوت استعمال کرتے ہیں۔

اعوان نے کہا، "ماضی میں، سندھ پولیس لاہور میں پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی سے فارنزک جانچیں کروایا کرتی تھی، جو کہ مہنگا اور صبر آزما تجربہ تھا۔"

حقوقِ نسواں کے کارکنان کا کہنا تھا کہ نئی فارنزک لیب خواتین اور بچوں پر جنسی حملوں اور ان کی عصمت دری کی تحقیقات میں مدد کرے گی۔

سندھ کمیشن برائے حالتِ نسواں، ایک سرکاری ادارہ جو حقوقِ نسواں کے تحفظ کے لیے بنایا گیاتھا، کی صدر نشین نزہت شیریں نے کہا، "فارنزک لیب خواتین پر تشدد کے مقدمات میں ملوث مجرموں کی شناخت اور انہیں جوابدہ ٹھہرائے جانے کے امکان میں اضافہ کرے گی۔"

انہوں نے مزید کہا، "یہ مستقبل میں جنسی حملوں کے وقوع پذیر ہونے کو روکنے میں بھی مدد دے گی۔"

شیریں نے کہا، "فارنزک ثبوت غالباً عدالت میں وزن رکھے گا۔ جنسی تشدد کے بہت سے مقدمات عینی شاہدہن کے بیانات اور دیگر ثبوت پر انحصار کرتے ہیں جس سے تشریح کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے۔ ڈی این اے ثبوت مجرم کے خلاف ایک مضبوط تر مقدمہ بنانے میں مدد کرتا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha
| 09-11-2019

اچھا اقدام

جواب