https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/08/26/feature-02
| سلامتی

سندھ میں عسکریت پسند نوجوانوں نے تشدد ترک کر دیا، حکومت کے ساتھ کام کرنے کا عہد

ضیاء الرحمان

image

جے سندھ قومی محاذ (جے ایس کیو ایم) کے ارکان 2018 میں حیدر آباد کو جانے والی مرکزی ہائی وے کو بلاک کر کے احتجاج کر رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں، درجنوں برہم نوجوانوں نے، جو کہ مختلف کالعدم سندھی نسلی گروہوں کا حصہ تھے، کھلے عام تشدد کو ترک کرنے کا اعلان کیا ہے۔ [ضیاء الرحمان]

کراچی -- سندھ میں کالعدم گروہوں سے تعلق رکھنے والے درجنوں نوجوانوں نے حالیہ مہینوں میں کھلے عام تشدد کو ترک کرنے اور پاکستان کی ترقی کے لیے کام کرنے کے اپنے ارادوں کا اعلان کیا ہے۔

کالعدم جے سندھ متحدہ محاذ (جے ایس ایم ایم) اور سندھو دیش لبریشن آرمی (ایس ڈی ایل اے) سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں اور اس کے ساتھ ہی دوسرے قوم پرست گروہوں جیسے کہ جے سندھ قومی محاذ (جے ایس کیو ایم) نے 15 اگست کو سکھر پریس کلب میں اعلان کیا کہ وہ ان گروہوں کو چھوڑ رہے ہیں۔

قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں سندھ کے علیحدگی پسند گروہوں اور ان کے ساتھ ہی حفیظ پندرانی گروہ، جو دولتِ اسلامیہ" (داعش) سے منسلک ہے اور دیہی سندھ میں سرگرم ہے، کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

image

جے سندھ متحدہ محاذ (جے ایس ایم ایم) جو کہ کالعدم سندھ نسلی گروہ ہے، سے تعلق رکھنے والے سرگرم کارکنوں کی بڑی تعداد نے 15 اگست کو جماعت کو چھوڑ دینے اور مرکزی دھارے کی قانونی جماعتوں میں شامل ہونے کے ارادے کا اعلان کیا۔ [ضیاء الرحمان]

image

سندھ رینجرز 15 اگست کو کراچی میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ [ضیاء الرحمان]

پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے جے ایس ایم ایم اور ایس ڈی ایل اے کو صوبہ بھر میں ہونے والے تشدد میں ملوث ہونے کے باعث، 2013 میں کالعدم قرار دے دیا تھا۔ یہ گروہ سیکورٹی فورسز، ریلوے لائنوں، گس پائپ لائنوں اور بجلی کے کھمبوں پر حملوں، ٹارگٹ کلنگز اور دیگر تخریبی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔

نوجوانوں نے کہا کہ وہ تشدد کو ترک کر دیں گے اور مرکزی دھارے کی جماعتوں میں شامل ہو جائیں گے۔

جے ایس ایم ایم کے ایک رکن سرفراز کلوار نے کہا کہ "ہم نے حکومت کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے اور اب ہم صوبہ سندھ اور ملک کے دوسرے حصوں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کریں گے"۔

کلوار نے کہا کہ سندھ میں علیحدگی پسند راہنما، کئی دیہائیوں سے نوجوانوں کو استعمال کر رہے ہیں جبکہ وہ خود بیرونِ ملک پرتعیش زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "میں نے جو کیا اس پر مجھے افسوس ہے اور اب مجھے احساس ہو گیا ہے کہ ہم غلط طریقے سے کام کر رہے تھے"۔

ایک اور مشہور سندھ نسلی راہنما، قہار انصاری نے جولائی میں، نواب شاہ ڈسٹرکٹ کے مقامی پریس کلب میں اعلان کیا تھا کہ وہ نسلی تشدد کو چھوڑ دیں گے۔

انصاری نے کہا کہ سندھ کی نسلی جماعتوں نے اپنے گروہ کے ارکان کو اپنے چھوٹے مفادات کے لیے، حکومت کے خلاف ایک گندی جنگ میں دھکیل دیا۔

انصاری نے مزید کہا کہ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود کو "پاکستان مخالف" جماعتوں سے دور رکھیں گے جو نوجوانوں کو "صرف منفی سرگرمیوں" کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

دریں اثنا، جے ایس ایم ایم کے ایک مرکزی راہنما غلام شبیر ملاح جو کہ دہشت گردی اور جرائم کے 16 مقدمات میں مطلوب تھا، نے گزشتہ اکتوبر میں حیدرآباد میں پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔

ملاح نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنی ماضی کی تخریبی کاروائیوں سے تنگ آ گیا تھا جس کے باعث اس نے کالعدم نسلی گروہ سے اپنے ماضی کے تعلق کے ترک کر دیا اور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

'مرکزی دھارے میں لانا' اور نو آبادکاری

نوجوان سرگرم کارکنوں نے تشدد ترک کرنے والوں کو خوش آمدید کہا اور دوسرے کالعدم مذہبی گروہوں جیسے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، داعش اور لشکرِ جھنگوی سے تعلق رکھنے والوں پر زور دیا کہ وہ عسکریت پسندی کو ترک کر دیں۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے نوجوان سرگرم کارکن مدثر نقوی نے کہا کہ "یہ دیکھنا حوصلہ افزاء ہے کہ سندھ کے نوجوانوں کو احساس ہو گیا ہے کہ ان کی متشدد سیاست قانونی نہیں تھی"۔

نقوی نے کہا کہ "طالبان اور دوسرے عسکریت پسند گروہوں جیسے کہ داعش کی طرف سے بہکائے جانے والے نوجوانوں کو سندھ کے نوجوانوں کی نقشِ قدم پر چلتے ہوئے عوامی طور پر عسکریت پسندی کو ترک کر دینا چاہیے"۔

پاکستان کے حکام نوجوانوں کو عسکریت پسند جماعتوں کی طرف سے بہکائے جانے سے بچانے، اور جو پہلے ہی بہکائے جا چکے ہیں ان کی نوآبادکاری کرنے کے لیے بہت سے اقدامات کر رہے ہیں۔

سندھ رینجرز کے بحالی مرکز نے، جسے نومبر 2016 میں قائم کیا گیا تھا، ایسے نوجوانوں کو مشاورت اور نوآبادکاری کی خدمات فراہم کی ہیں جنہوں نے متشدد گروہوں میں شرکت اختیار کر لی تھی اور انہیں صوبہ سندھ میں سیکورٹی کی مہمات کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

خیبرپختونخواہ کی مالاکنڈ ڈویژن میں ٹی ٹی پی کے خلاف 2009 سے عسکری آپریشن کے دوران، پکڑے جانے والے عسکریت پسندوں میں سے اکثریت نوجوانوں کی تھی جنہیں مستقبل میں خودکش بمبار بنانے کے لیے تربیت دی جا رہی تھی۔

اس وقت سے، سول سوسائٹی کی تنظیمیں، پاکستانی فوج کے تعاون سے، ملک بھر میں، بنیاد پرستی کو ختم کرنے کے کئی پروگرام چلا رہی ہیں جن میں صبون (صبح کی روشنی)، مشعل (لیمپ)، رستون (واپسی)، سپارلے (بہار)، نوائے سحر (نئی صبح) اور حیلا (امید) شامل ہیں۔

دریں اثنا، صوبہ بلوچستان میں کالعدم علیحدگی پسند بلوچ گروہوں، بنیادی طور پر بلوچ لبریشن آرمی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں عسکریت پسندوں نے حکومت کی طرف سے صوبہ میں سیاسی نوآباد کاری کے پروگرام کا اعلان کیے جانے کے بعد سے، ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

اس پروگرام کے تحت، حکومت نہ صرف معاوضہ ادا کر رہی ہے بلکہ ملازمتیں، تعلیم اور سیکورٹی بھی فراہم کر رہی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
6
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

اسلام علیکم آپ شایدتاریخ سے آشنا نہین قومپرست سیاست کا بنیادی نقطہ عدم تشدد رہا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو جی ایم سید اپنی زندگی کا طویل عرصہ نظربند نہ رہتے- سندھ نے ہمیشہ محبت بانٹی ہے اس سرزمین سے کبہی طالبان پیدا نھین ہوا۔ اس وطن کی عقیدت مین سب سے زیادہ قیمت سندہ نے ادا کی ہے۔ وادی مھران نے پاکستان کو جنم دیا۔

جواب