https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/07/23/feature-02
سفارتکاری |

امریکہ کی جانب سے افغان امن کے عمل میں پاکستان کے کردار کی پذیرائی

اے ایف پی

22 جولائی، 2019 کو وائیٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی تصاویر۔ [کارمین کوئیسٹا-روکا/اے ایف پی ٹی وی/ڈی سی پول/اے ایف پی]

واشنگٹن، ڈی سی – پیر (22 جولائی) کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں امن مزاکرات کی پیشرفت میں پاکستان کی امداد کی پذیرائی کی۔

خان، ہفتہ (20 جولائی) کوایک تین روزہ سرکاری دورےپر واشنگٹن پہنچے۔

ٹرمپ نے اووَل آفس سے وزیرِ اعظم عمران خان کے ہمراہ بات کرتے ہوئے کہا، "ہم نے گزشتہ چند ہفتوں میں کافی پیشرفت کی ہے، اور پاکستان نےاس پیشرفت میں ہماری مدد کی ہے۔"

image

22 جولائی، 2019 کو وائیٹ ہاؤس میں پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کر رہے ہیں۔ [وائیٹ ہاؤس]

انہوں نے خان کی جانب مڑتے ہوئے مزید کہا، "امریکہ کے لیے بہت کچھ رونما ہو رہا ہے، اور میرا خیال ہے آپ کی قیادت میں پاکستان میں بہت سی شاندار چیزیں رونما ہونے جا رہی ہیں۔"

اپنی جانب سے خان نے کہا کہ وہ ہمیشہ یقین رکھتے تھے کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان تنازع کا "کوئی عسکری حل نہیں ہے"۔

انہوں نے کہا، "میں صدر ٹرمپ کو سراہتا ہوں، کیوں کہ انہوں نے اب لوگوں کو جنگ ختم کرنے پر مجبور کیا ہے۔"

خان نے بعد ازاں ٹویٹ کیا، "میں پرجوش اور نیک خو مہمان نوازی، پاکستان کے نقطہٴ نظر کو سمجھنے اور ہمارے تمام تر وفد کو تسہیل فراہم کرنے کے ان کے شاندار طریق پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ میں صدر ٹرمپ کو یقین دلانا چاہتاہوں کہ پاکستان افغان امن کے عمل کی تسہیل کے لیے اپنے دائرہ اختیار کے اندر سب کچھ کرے گا۔ تنازع کی 4 دہائیوں کے بعد امن کا قیام طویل عرصہ سے صعوبتیں اٹھانے والی افغان عوام کا دنیا پر قرض ہے۔"

خان اور پاکستان کے لیے تقویت

نیو امریکہ تھنک ٹینک میں ایک سینیئر فیلو اور وائیٹ ہاؤس کی ایک سابق اہلکار شامِلہ چودھری نے کہا کہ خان کا دورہ "طالبان مزاکرات کی پیروی کے لیے ایک اچھے رویہ کے انعام" کے مترادف رہا۔

انہوں نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا، "اس سے اندرون و بیرونِ ملک عمران خان کے رتبہ میں اضافہ ہو گا۔"

وائیٹ ہاؤس کی جانب سے ملاقات سے متعلق معلومات کے مطابق، ٹرمپ نئے تجارتی معاہدوں اور "فوج سے فوج کے مستحکم روابط" سمیت پاکستان کے ساتھ "دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کی تجدید" کی امّید رکھتے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
26
نہیں
تبصرے 4
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

قبضہ مافیہ کراچی کے کرتا دھرتا بن گئے ہیں اور کوآپریٹیو ڈیپارٹمنٹ کا عملہ بھی ملوث ہے، کوئی بھی غریب عوام کی آواز نہیں سنتا، کیا یہ ریاستِ مدینہ ہے؟

جواب

جو یھود کاایجنٹ ھواس پر لعنت ھو.

جواب

رازق پاک فوج میں جا رہا ہے، اور پاکستان کے مفاد کے لیے کام کرنا چاہتا ہے، کشمیر میں اپنے حقوق کے لیے لڑنا چاہتا ہے۔ بھارتی فوج نے 34 روز سے کشمیر کو بزورِ بازو بند کر رکھا ہے

جواب

baat der asal ye hai k hum kub tak dusroo ki jang ka hisaa bantay rahay gaay hum tu hijraat der hijrat ker lee ,kashmir issue abb tak resolve nahi huwa or hum chalay hai America Afg ki dosti kerwnay,bhai ye PM sahab khee kyun nahi deitay k hum na talibaan ko jante hai na hum muzakarati team ka hissay banay gaay koilay ki dalali mein haath gande hei hote hai

جواب