https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/07/18/feature-01
| کاروبار

تصاویر میں: چترال کے رہائشی گلیشیئرکی برف سے گرمی کا مقابلہ کر رہے ہیں

عالمگیر خان

image

چترال کے رہائشی یکم جولائی کو گلیشیئر سے برف توڑ رہے ہیں۔ [عالمگیر خان]

image

چترال کا ایک رہائشی یکم جولائی کو برف کا ٹکڑا لے جانے میں دوسرے شہری کی مدد کر رہا ہے۔ [عالمگیر خان]

image

چترال کا ایک رہائشی یکم جولائی کو گلیشیئر سے برف لے جا رہا ہے۔ [عالمگیر خان]

image

چترال کا ایک رہائشی، یکم جولائی کو گلیشیئر کی برف کو اپنی کمر پر لادے ہوئے ہے۔ [عالمگیر خان]

image

چترال کا ٹرک ڈرائیور یکم جولائی کو برف کے بلاک لاد رہا ہے۔ [عالمگیر خان]

image

چترال کے شہری یکم جولائی کو گلیشیئر کی برف کی پہاڑی چوٹی سے چترال کے بازار میں لے جا رہے ہیں۔ [عالمگیر خان]

image

چترال کے رہائشی یکم جولائی کو چترال کے بازار میں گلیشیئر کی برف بیچ رہے ہیں۔ [عالمگیر خان]

چترال -- خیبر پختونخواہ کی چترال ڈسٹرکٹ کے شہری، ٹھنڈا کرنے کے لیے ایک منفرد طریقہ استعمال کر رہے ہیں کیونکہ طویل دورانیے تک لوڈشیڈنگ کے باعث بجلی سے چلنے والی فریجیں بے کار ہو گئی ہیں۔

چترال کے ایک شہری عباد شاہ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "چترال ڈسٹرکٹ میں 10 سے 16 گھنٹوں تک بجلی بند رہنے کے باعث، فریج میں برف نہیں بن سکتی ہے"۔

اس کی بجائے، شہریگلیشیئر سے چترال کے بازاروں میں لائی جانے والی برف پر انحصار کرتے ہیں۔

image

چترال کے رہائشی یکم جولائی کو گلیشیئر سے برف نکال رہے ہیں۔ [عالمگیر خان]

شاہ نے کہا کہ "ہم بازار سے گلیشیئر کی برف خریدتے ہیں جسے مقامی ٹرک ڈرائیور پہاڑی چوٹیوں سے لاتے ہیں"۔

ٹرک ڈرائیور خیال نے کہا کہ "یہ موسمِ گرما میں ہمارے لیے ایک منافع بخش کاروبار ہے"۔

اس نے کہا کہ "ہم دن میں 3،000 سے 4،000 (19ڈالر سے 25 ڈالر) کما لیتے ہیں۔

امن اور سیکورٹی کی واپسی کے باعث، ہزاروں سیاحوں نے اسسال عید کے موقع پرچترال اور مالاکنڈ ڈویژن کی دوسری وادیوں کا دورہ کیا تھا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha