https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/07/17/feature-02
| پناہ گزین

پاکستان میں افغان مہاجرین نئے بینک کھاتوں پر مسرور

از جاوید خان

image

پشاور صدر میں ایک افغان ریستوران 6 جولائی کو دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں افغان مہاجرین اب بطور شناخت اپنا رجسٹریشن کا ثبوت استعمال کرتے ہوئے بینک کھاتے کھول سکتے ہیں۔ [جاوید خان]

پشاور -- وزیرِ اعظم عمران خان کیپاکستان میں افغان مہاجرین کو بینک کھاتے کھولنے کی اجازت دینےکی نئی پالیسی پہلے ہی ثمرات دے رہی ہے۔

25 فروری کو خان نے پاکستان میں بینکوں کو حکم دیا تھا کہ وہ رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو کھاتے کھولنے کی اجازت دیں۔

اس وقت خان نے ٹویٹ کیا تھا، "آج میں نے ہدایات جاری کی ہیں کہ جو افغان مہاجرین رجسٹرڈ ہیں وہ بینک کھاتے کھول سکتے ہیں، اور آج کے بعد وہ ملک کی باضابطہ معیشت میں شریک ہو سکتے ہیں۔"

image

پاکستان میں افغان مہاجرین پیسے محفوظ کرنے اور غیر قانونی منی ایکسچینجروں کے پاس خوار ہونے کی بجائے بینک کھاتوں کے ساتھ محفوظ طریقے سے بیرونِ ملک بھیجنے کے قابل ہوں گے۔ [پیکسلز]

انہوں نے مزید کہا تھا، "ایسا بہت پہلے ہو جانا چاہیئے تھا۔"

ملک بھر کے بینکوں کو ہدایات موصول ہوئی تھیں کہ نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی جانب سے جاری کردہ رجسٹریشن کے ثبوت (پی اور آر) کارڈز کو مہاجرین کے لیے بطور شناختی دستاویزات قبول کریں۔ فروری میں ہی، نادرا نے پی او آر کارڈز کے لیے اپنا آن لائن تصدیقی نظام فعال کر دیا تھا۔

حفاظت اور سہولت

پھلوں کے تاجر، 37 سالہ ملک عزیز نے کہا، "یہ ہم سب کے لیے ایک بہترین موقع ہے، کیونکہ ہم گھروں یا دفاتر میں پیسے رکھنے کو محفوظ محسوس نہیں کرتے تھے۔"

انہوں نے کہا کہ اب، ان جیسے مہاجرین کے پاس پاکستانی بینکوں میں کھاتہ کھولنے اور اپنے پیسے کو محفوظ رکھنے کا موقع ہے۔

چھوٹے پیمانے پر کباڑ کا کام کرنے والے ایک افغان تاجر، حبیب اللہ نے کہا، "میں اور میرے بہت سے دوست گھر پر پیسے رکھا کرتے تھے، جو کہ کبھی بھی محفوظ نہیں تھا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ جلد ہی ایک بینک کھاتہ کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "یہ ہمیں اپنا پیسہ محفوظ رکھنے اور آسانی سے لین دین کرنے میں مدد دے گا۔"

ایک بینک کھاتے کا ہونا افغان مہاجرین کے لیے بیرونِ ملک سے پیسے وصول کرنے اور پاکستانی حکام کے لیے لین دین پر نظر رکھنے کو آسان بنائے گا۔ مہاجرین کو ماضی میں وہ رقوم مشکوک منی ایکسچینجروں کے ذریعے منتقل کرنی پڑتی تھیں، جو ماضی میں ممنوعہ سرگرمیوں جیسے کہ دہشت گردی میں سرمایہ کاری میں ملوث رہے ہیں۔

حیات آباد میں مقیم ایک 50 سالہ افغان مہاجر، احمد شاہ نے کہا، "اب بیرونِ ملک کام کرنے والے افغانوں کے لیے اپنے خاندانوں، خصوصاً خواتین، کو اپنے بینک کھاتوں کے ذریعے پیسے بھیجنا آسان ہو گا۔"

پردیسیوں کو اکٹھا کرنا

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مقیم ہزاروں افغان خاندانوں کی کفالت امریکہ، برطانیہ، یورپ کے دیگر ممالک اور دنیا میں کہیں بھی کام کرنے والے نوجوان افراد کی جانب سے کی جا رہی ہے۔

شاہ کے مطابق، ایسے افغانوں کے لیے رقوم کی ترسیل بھی آسان تر ہو جائے گی جو افغانستان میں رہتے ہیں اور پاکستان میں اپنے خاندانوں سے پیسے وصول کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہت سا لین دین چوک یادگار میں منی ایکسچینجروں کے ذریعے کیا جا رہا تھا، جن میں سے زیادہ تر کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے غیر قانونی قرار دے رکھا ہے۔حالیہ مہینوں میں ایسے ڈیلروں پر کئی چھاپے مارے گئے ہیں۔

یونیورسٹی آف پشاور میں بین الاقوامی تعلقات میں ایک گریجویٹ طالب علم، یوسف علی نے کہا کہ یہ اقدام "ہزاروں خاندانوں کو غیر قانونی منی ایکسچینجروں کے پاس جائے بغیر ایک محفوظ راستے کے ذریعے با آسانی پیسے منتقل اور وصول کرنے میں مدد دے گا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ماہ پاکستان نے ملک میں افغان مہاجرین کے قیام میں 30 جون 2020 تک توسیع کر دی ہے، ایک ایسا اقدام جس کا عالمی برادری نے خیرمقدم کیا ہے۔

علی نے کہا، "گزشتہ چار دہائیوں سے پاکستان نے ملک میں مہاجرین کو بہت زیادہ معاونت فراہم کی ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

ان قابل نفرت افغانی نمک حرام دہشت گردوں، ریپستانی ہندوتوا بنیوں کے غلاموں کو پاکستان سے فوراً باہر نکال کر، واپس افغانستان ان کے جہنم یا ریپستان ان کے آقاوُں کے پاس دھکیل دو، ان کی ضرورت نہیں ہے

جواب