https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/07/09/feature-01
| صحت

کے پی حکومت اور ڈبلیو ایچ او لشمنیاسس کی وبا سے نمٹ رہے ہیں

اشفاق یوسفزئی

image

لشمنیاسس کے زخموں کا حامل ایک شخص اپریل میں پشاور میں لی گئی اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ [میڈیسنس سینز فرنٹیئرز]

پشاور – حکومتِ خیبر پختونخواہ (کے پی) نے گزشتہ ایک برس کے دوران عالمی ادارہٴ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور میڈیسنس سینز فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) کے ساتھ الحاق سے کیوٹینیئس لشمنیاسس سے متاثرہ 20,000 سے زائد مریضوں کا علاج کیا۔

خاص اقسام کی ریت مکھی سے پھیلنے والے طفیلی جراثیم کیوٹینیئس لشمنیاسس کا باعث بنتے ہیں اور نتیجتاً ہیئت بگاڑ دینے والے زخم ہو سکتے ہیں۔

اس مرض نے گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران 25,000 سے زائد مریضوں کو متاثر کیا، جن میں سے اکثریت ضم شدہ قبائلی اضلاع سے تھی۔

image

13 جنوری کو لشمنیاسس میں مبتلا ایک افغان خاتون پشاور کے نصیر اللہ خان بابر میموریل ہسپتال میں علاج کی منتظر ہے۔ [کے پی محکمہٴ صحت]

پشاور میں اس مرض کا علاج کرنے والے واحد مرکز، ایم ایس ایف کے پاس گزشتہ برس کے دوران نازک صورتِ حال میں 2,329 مریض آئے۔ ایم ایس ایف کے کنٹری ریپریزنٹِٹیو تھامس مالِویٹ نے کہا کہ ستمبر میں ایک نیا مرکز بنّوں میں فعال ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا، "یہ مرض جسم پر نشان چھوڑ جاتا ہے، اور ہم اس بیماری کے خاتمہ کے لیے قریبی طور پر حکومت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ خدشہ والے علاقوں میں مچھردانیوں میں سونے اور مکمل بازو والی قمیصیں پہن کر اس وائرس کی منتقلی کی انسداد کی جا سکتی ہے۔

بالیویٹ نے کہا کہ متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مئی 2018 میں پشاور کے نصیر اللہ خان بابر میموریل ہسپتال (این کے بی ایم ایچ) میں تنصیب کے قیام سے اب تک اس تنصیب میں 23 اضلاع سے آنے والے مریضوں کا علاج ہو چکا ہے۔

بالیویٹ کے مطابق، وبا سے متعلق گہرے خدشات پائے جاتے ہیں، اور ایم ایس ایف چاہتی ہے کہ حکومت اس مرض کے علاج کو دستیاب، ارزاں اور مریضوں کی ضروریات کے مطابق بنائے۔

انہوں نے کہا کہ ایم ایس ایف کے "بلوچستان کے علاقوں، کوئٹہ اور کچلک" میں بھی دو مراکز ہیں۔ صرف ایسی تنصیبات ہی جامع تشخیص، علاج اور مریضوں کو مشاورت فراہم کرتی ہیں۔

"بطورِ اولین ترجیح، ہم لیشمنائسز کے مریضوں کو علاج فراہم کرنا چاہتے ہیں، اور پھر اس بیماری، جو مہلک تو نہیں، تاہم عمر بھر کے لیے نشان چھوڑ جاتی ہے، کی انسداد کے لیے اقدامات کیے جائیں۔"

بالیویٹ نے کہا کہ اس بیماری کی وجہ سے عمر بھر کے لیے پڑ جانے والے نشان "چہرے، بازوؤں اور ٹانگوں کی ہیئت کے بگاڑ کا باعث بنتے ہیں اور اس لیئے متاثرین – بطورِ خاص خواتین – کو معاشرتی ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔"

پاکستان میں عوامی صحت کی کاوشوں کو درپیش چیلنجز میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے پولیو کی وجوہات سے متعلق جہالت اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کی کوششیں شامل ہیں۔ ٹی ٹی پی نےپولیو ویکسینیٹرز کو قتل کرنےکا سہارا لیا۔

تعمیرِ استعداد

ڈبلیو ایچ او کے نیشنل پروفیشنل آفیسر ڈاکٹر قطب الدین کاکڑ نے کہا، "متاثرین کی اکثریت خواتین اور بچے ہیں۔ ہم نے مریضوں کے لیے 70,000 انجکشن درآمد کیے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او نے ڈرماٹالوجسٹس کے لیے مؤثر طور پر مریضوں کو دوا دینے کے سلسلہ میں ایک پانچ روزہ تربیتی کورس کا انتظام کیا ہے۔

کاکڑ نے کہا، "علاج کے ساتھ ساتھ، ہم ریت مکھی کی بیماری کو منتقل کرنے والی اقسام کے خاتمہ کے لیے جرثوموں پر کنٹرول کے لیے اقدامات بھی کر رہے ہیں۔ یہ بیماری قابلِ انسداد ہے، تاہم پاکستان میں بنیادی علاج، گلوکنٹائم انجیکشنز کی عدم دستیابی کی وجہ سے وبا شدید طور پر پھوٹ پڑی۔"

انہوں نے کہا طبی عملہ نے ریت مکھی کے کاٹنے سے محفوظ رہنے اور بیماری کی انسداد پر عوامی آگاہی کی مہم کو تیز کرنے کے لیے ایک انسدادی پروگرام کا آغاز کیا ہے۔

کے پی سیکریٹری برائے صحت سیّد فاروق جمیل کے مطابق، ڈبلیو ایچ او نے انجکشن دیے جانے سے متعلق رہنما اصول جاری کیے ہیں تا کہ مؤثر ترین نتائج تک پہنچا جا سکے۔

حکومتِ کے پی نے فوج اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر کیوٹینیئس لشمنیاسس پر قابو پانے کے اقدامات کا آغاز کیا ہے جن میں پاکستانیوں کو مکھی کے کاٹنے سے بچنے اور قریبی ہسپتالوں میں علاج کرانے کا کہا گیا ہے۔

جمیل نے کہا، "وبا پھوٹنے کے بعد، ہم نے بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہر متاثرہ ضلع میں مراکز تشکیل دیے ہیں۔ ہم صوبے میں ریت مکھی سے نمٹنے کے لیے 50 اینٹامولاجسٹس بھرتی کر رہے ہیں۔"

این کے بی ایم ایچ کے میڈیکل سپرانٹنڈنٹ ڈاکٹر سراج محمّد نے کہا کہ این کے بی ایم ایچ میںاسلام آباد سمیت افغانستان اور صوبہ پنچاب سے مریض آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مریضوں کی فراوانی کی وجہ سے، این کے بی ایم ایچ باشندوں کو اپنے آبائی اضلاع میں علاج فراہم کرنے کے لیے صوبے میں علاقائی مراکز تشکیل دے رہا ہے۔

شفا

پشاور کے قریب مٹانی گاؤں کے ایک 14 سالہ رہائشی غفّار علی نے کہا کہ وہ اپنا چہرہ ڈھانپ کر رکھتا تھا کیوں کہ اس کے لشمنیاسس کے نشان دیکھنے والے اسے دیکھتے رہتے تھے۔

اس نے کہا، "اب علاج سے میرے زخم مکمل طور پر بھر گئے ہیں۔"

جنوبی وزرستان سے تعلق رکھنے والی 23 سالہ شمالہ بی بی نے کہا کہ وہ اس مرکز میں علاج کروانے کے لیے پشاور میں اپنے رشتہ داروں کے یہاں مقیم ہے۔

اس نے کہا، "ابتدا میں مجھے اپنے گاؤں کے باسیوں سے بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا کیوں کہ وہ مجھے دیکھنا نہیں چاہتے تھے، لیکن اب میرے زخم بہت بہتر ہو گئے ہیں۔ یہاں تک کہ نشان بھی مٹ رہے ہیں۔"

اس نے کہا، "یہاں تک کہ میرے قریبی رشتہ دار بھی میرے ساتھ کھانا نہیں کھانا چاہتے تھے۔ وہ بیماری لگ جانے کے خوف سے مجھے الگ برتن اور تولیہ وغیرہ دیتے تھے۔"

اس نے کہا کہ اس کے گاؤں میں سینکڑوں مریضوں کو مسائل ہیں کیوں کہ دیگر باشندے انہیں دیکھنا نہیں چاہتے۔

اپنے بیٹے کو مرکز پر لانے والے سکول کے ایک ٹیچر سید جمال شاہ نے کہا کہ یہ بیماری ان کے علاقہ میران شاہ تحصیل، شمالی وزیرستان میں بری طرح پھیل چکی تھی۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی اور فوجی مراکز مریضوں کے لیے مفت علاج فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر مریض اس بیماری سے متعلق لا علم ہیں اور مچھر کاٹنے کی علامات سے خلط ملط کر دیتے ہیں، اور بعد ازاں قریبی اہلِ خانہ میں انفیکشن پھیلا دیتے ہیں۔

جمال نے کہا کہ ان کے 10 سالہ اور 13 سالہ دونوں بیٹوں میں واضح بہتری آئی ہے۔

انہوں نے کہا "ہم یہاں چار مرتبہ آئے ہیں، لیکن اب زخم بھر چکے ہیں۔ اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کے چہرے پر موجود باریک نشان بھی جلد ہی ختم ہو جائیں گے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha