https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/07/03/feature-03
| معاشرہ

صاحباں ٹرسٹ کی مفت شادیاں دہشت گردی کے عشرے میں لگے زخموں کو بھرنے میں مددگار

از عدیل سعید

image

صاحباں ٹرسٹ کی جانب سے دہشت گردی کے متاثرین اور ضرورت مند افراد کی مدد کرنے کے لیے 28 اپریل کو پاراچنار میں منعقد ہونے والی اجتماعی شادیوں کی تقریب کے دوران پاک فوج کے بریگیڈیئر اختر علیم دولہوں میں تحفے کے طور پر قرآن پاک کے نسخے تقسیم کر رہے ہیں۔ [صاحباں ٹرسٹ]

پشاور -- خیبرپختونخوا کے ضلع کُرم کے مکین، جو گزشتہ عشرے میں دہشت گردوں کی پرتشدد نفرت انگیز مہمات کا نشانہ بنے رہے ہیں، خطے میں ایک بار پھر محبت کو پھلتا پھولتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔

صاحباں ٹرسٹ، ایک فلاحی تنظیم جو مختلف دینی جماعتوں اور علماء کے زیرِ انتظام چلائی جا رہی ہے، دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں اور کُرم ایجنسی کے دیگر ضرورت مند شہریوں کو بغیر کسی لاگت کے اجتماعی شادیوں کی پیشکش کرتے ہوئے ان میں خوشیاں بانٹ رہی ہے۔

گزشتہ 10 برسوں میں، تنظیم نے تقریباً 2،000 مفت شادیاں کروائی ہیں، جن میں مستفید ہونے والوں کی اکثریت دہشت گردی کے متاثرین کی تھی۔

image

28 اپریل کو صاحباں ٹرسٹ کی جانب سے اجتماعی شادیوں کی تقریب کے دوران دلہنوں کو جہیز کے طور پر دیئے جانے والے گھریلو استعمال کے برتن اور فرنیچر دکھایا گیا ہے۔ [صاحباں ٹرسٹ]

کُرم ایجنسی اور اس کا دارالحکومت،پاراچنار، سنہ 2007 کے بعد سے کئی دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ اس سال، ایک مسلح شخص نے ایک اجتماع پر حملہ کیا تھا اور 40 افراد کو ہلاک کر دیا تھا، جس سے علاقے میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہو گئے تھے۔

صاحباں ٹرسٹ کے ڈائریکٹر، علامہ باقر حیدری کے مطابق، علاقے کے سینکڑوں مکین گزشہ دہائی میں دہشت گردوں کی جانب سے ہلاک کیے جا چکے ہیں، اور آبادی کا ایک بڑا حصہ صدمے کے بعد تناؤ کے مرض کا شکار ہے۔

ایک انٹرویو میں حیدری کا کہنا تھا، "صاحباں ٹرسٹ کا مقصد غرباء اور مستحقین کی مدد کرنا ہے، مگر ہماری ترجیح ایسے لوگ ہیں جو دہشت گردی سے متاثرہ ہیں اور جن کے بڑوں نے واقعات بشمول بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ وارانہ فسادات میں جامِ شہادت نوش کیا ہے۔"

بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے مدد

حیدری نے کہا، رمضان المبارک کے مہینے سے قبل اپریل میں پاراچنار میں ایک اجتماعی شادی میں تقریباً 30 جوڑے رشتۂ ازدواج میں بندھے۔

انہوں نے کہا، "ہر سال ہم تین یا زیادہ بار اجتماعی شادیوں کا انتظام کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔ اس کا انحصار ۔۔۔ مخیر حضرات کی جانب سے چندوں پر ہے جو اس نیک مقصد میں حصہ ڈالتے ہیں۔"

حیدری نے کہا کہ زیادہ تر امداد دیگر ممالک کے علاوہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، امریکہ اور کینیڈا میں رہنے والے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے آتی ہے۔

صاحباں ٹرسٹ کی انتظامی کمیٹی کے ایک رکن، علامہ سید افتخار حسین نے کہا، "ان شادیوں کے انعقاد کے پیچھے بنیادی مقصد دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں میں خوشیاں بانٹنا ہے نیز نوجوانوں کو انتہائی غربت کی وجہ سے جرائم پیشہ عناصر اور انتہاپسندوں کے ہاتھوں میں پھسلنےسے بھی بچانا ہے۔"

ایک انٹرویو میں افتخار کا کہنا تھا، "انہیں شادی کے بندھن میں باندھتے ہوئے، ہم انہیں بچانا چاہتے ہیں اور ان کی توجہ ایک خاندان کو پالنے اور بچوں کی مناسب پرورش کرنے کی طرف موڑنا چاہتے ہیں۔"

افتخار حسین نے کہا کہ ان اجتماعی شادیوں کے دوران، تقریب کی دعوت نیز شادی کے لباسوں اور دلہنوں کے لیے جہیزوں کے انتظامات کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، "ہم دلہنوں کو باقاعدہ جہیز دیتے ہیں جس میں کپڑے، برتن، ضروری فرنیچر، گدے وغیرہ شامل ہوتے ہیں تاکہ شادی کے بعد لوگوں کو تنگی نہ ہو۔"

'خدا کی عظیم نعمت'

افتخار حسین نے کہا کہ اجتماعی شادیوں کے علاوہ، صاحباں ٹرسٹ اقلیتی برادریوں، بشمول عیسائیوں اور ہندوؤں میں کھانا تقسیم کرتی ہے۔

پاراچنار کے ایک مقامی صحافی، عظمت علیزئی نے کہا کہ تاجر برادری اور ضلع کُرم کے خوشحال مکین "غرباء اور ضرورتمندوں کو مالی امداد دیتے ہوئے" صاحباں ٹرسٹ کی معاونت کرتے ہیں۔

علیزئی نے کہا کہ تنظیم نے بہت سے گھرانوں کی مدد کی ہے جن کے رشتہ دار دہشت گردی کے کارروائیوں میں مارے گئے تھے، انہوں نے مزید کہا کہ اس نے مقامی افراد کا اعتماد حاصل کیا ہے اور اس لیے اسے بہت زیادہ امداد ملتی ہے۔

انہوں نے کہا، "پاراچنار کے باسیوں کی اکثریت دہشت گردی کے عفریت سے متاثرہ ہے، اور صاحباں ٹرسٹ کی جانب سے امداد ان لوگوں کی زندگیوں میں خوشیاں لاتے ہوئے ان کے زخموں کو بھرنے میں مدد دے رہی ہے جواپنے عزیزوں کی المناک موت کی وجہ سےہنسنا بھول چکے ہیں۔"

بی بی خدیجہ، پاراچنار سے تعلق رکھنے والی ایک بیوہ، جس کے بیٹے کو سنہ 2009 میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کارکنان نے ہلاک کر دیا تھا، نے کہا کہ صاحباں ٹرسٹ کے کام "خدا کی ایک عظیم نعمت کی طرح ہیں ۔۔ میرے بچوں کی شادی کے لیے انتظامات کرنا ناممکن تھا۔"

بی بی نے کہا کہ ضلع کُرم میں ٹال-پاراچنار روڈ پر ایک قافلے پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں نے ان کے سب سے بڑے بیٹے، عبداللہ کو قتل کر دیا تھا۔

آنکھوں سے بہتے آنسوؤں میں ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی نے اس کی گاڑی کو نذرِ آتش کرنے سے قبل اس میں سوار زیادہ تر سواریوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس کی وفات نے خاندان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا کیونکہ وہ گھر میں کمانے والا واحد فرد تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپریل میں ایک اور بیٹے کی شادی، جو ٹرسٹ کی جانب سے کروائی گئی، نے اسے خوشی فراہم کی ہے اور دکھوں کے کئی برسوں بعد اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی ہے۔

پاراچنار کے حسن زئی علاقے کے ایک مکین، نجم الحسن، جنہوں نے اپریل میں مفت شادی کی تقریب میں حصہ لیا تھا، نے کہا کہ صاحبان ٹرسٹ کی جانب سے فلاحی کام بہت زیادہ ضرورت مند افراد کے لیے "خوابوں کو حقیقت بنا رہے" ہیں۔

انہوں نے کہا، "صاحباں ٹرسٹ نے میرا خواب پورا کر دیا ہے۔ بہت کم وسائل کی وجہ سے، شادی کے انتظامات کرنا میرے لیے تقریباً ناممکن تھا۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

امن کے لیے شاندار کاوشیں، مزید پذیرائی کی ضرورت ہے۔

جواب