https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/06/28/feature-03
| سفارتکاری

'دوستی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں':غنی کا پاکستان کا دو روزہ دورہ اختتام پذیر

عبدل ناصر خان

image

افغانستان کے صدر اشرف غنی 27 جون کو اسلام آباد میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کر رہے ہیں۔ ]حکومتِ پاکستان[

لاہور -- افغانستان کے صدر اشرف غنی کا جمعہ (28 جون) کو پاکستان کا دو روزہ دورہ اس اتفاق کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ دونوں ملک مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ کریں گے اور علاقے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے کام کریں گے۔

غنی جمعہ (27 جون) کی صبح کو اسلام آباد پہنچے جس کے بعد انہوں نے وزیراعظم عمران خان اور وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے الگ الگ ملاقات کی اور مختلف شعبوں میں تعاون اور علاقائی سیکورٹی کے بارے میں بات چیت کی۔

اس ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان کے مطابق، خان اور غنی نے افغانستان میں امن کے عمل،سرحدی سیکورٹی کی صورتِ حال اور تجارتی مسائل کے بارے میں تنہا ملاقات کی۔

image

افغان صدر اشرف غنی 28 جون کو لاہور میں پنجاب کے گورنر چوہدری محمد سرور سے ملاقات کر رہے ہیں۔ ]ریڈیو پاکستان[

image

افغان صدر اشرف غنی 28 جون کو لاہور میں جمعہ کی نماز ادا کر رہے ہیں۔ ]ریڈیو پاکستان[

بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں راہنماؤں نے اعتماد و ہم آہنگی اور علاقے میں امن، استحکام اور خوشحالی کی خواہش پر، پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوستی اور تعاون کا ایک نیا باب کھولنے پر اتفاق کیا۔

خان نے ایک بیان میں کہا کہ "پاکستان ایک پرامن قرب و جوار پر یقین رکھتا ہے اور افغانستان کے ساتھ معیار کے تعلقات چاہتا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن کے عمل کی حمایت کی ہے کیونکہ پرامن مقالمہ ہی افغانستان میں کئی دیہائیوں سے جاری جنگ کا واحد حل ہے۔ پاکستان نیک نیتی سے افغانستان میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنا جاری رکھے گا"۔

غنی نے افغانستان میں امن کے عمل کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

غنی نے جمعرات کو اسلام آباد میں، صدر ڈاٹر عارف علوی اور اپوزیشن کے راہنماؤں میاں شہباز شریف، بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمان اور دیگر افراد سے ملاقات کی۔

جماعت اسلامی پاکستان کے سربراہ سراج الحق نے غنی سے ملاقات کے بعد ٹوئٹ کیا کہ "پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوستی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے"۔

امن میں پاکستان کا کردار

غنی نے اسلام آباد میں اسٹریجک اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ کا دورہ بھی کیا اور وہاں تقریر کی جس میں انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ طالبان کو امن مذاکرات پر لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

غنی نے کہا کہ "وزیراعظم عمران خان کے ساتھ میری ملاقات بہت اچھی تھی ۔۔۔ میں نے خان کو بتایا کہ آگے بڑھنا آسان نہیں ہے مگر پاکستان کو دہشت گردی اور انتہاپسندی سے مل کر مقابلہ کرنے کے لیے ایسا کرنا ہو گا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نے دونوں وزرائے خارجہ کی ایک ٹاسک فورس بنانے پر اتفاق کیا جو اس معاملے پر غور کرے گی"۔

غنی نے کہا کہ خان نے "پاکستان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں کردار ادا کرنے پر بھی اتفاق کیا"۔

قریشی نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ "ہماری افغانستان کے صدر اور ان کے وفد کے ساتھ اچھی ملاقاتیں رہیں اور اس بات پر اتفاقِ رائے ہوا کہ ماضی کے برعکس، دونوں ملک الزام تراشی میں حصہ لینے کی بجائے مل کر امن، استحکام اور سرحد کی دونوں طرف خوشحالی کے لیے مل کر کام کریں گے"۔

قریشی نے کہا کہ "غنی کے دورہ کے نتیجہ کے طور پر، ہم نے طورخم سرحدی چوکیکو چوبیس گھنٹے کھلا رکھنے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو بڑھانے کے لیے ویزا پالیسی کو نرم کرنے کا فیصلہ کیا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ملکوں نے اتفاق کیا کہ وہ کسی کو بھی اپنی زمین دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

قریشی نے کہا کہ "ہمسایہ ملکوں کے درمیان اعتماد کی کمی ہے مگر افغانستان کے صدر کا دورہ اس خلیج کو پورا کرنے میں مددگار ہو گا"۔

ایک اہم دورہ

لاہور کے ایک سینئر صحافی اور مبصر نجم سیٹھی نے کہا کہ غنی کا دورہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتبار اور اعتماد قائم کرنے کی ایک کوشش تھا۔

سیٹھی نے جمعرات کو ایک ٹی وی شو میں کہا کہ "اس دوسرے کا مقصد صدر غنی کو صرف اس بات کا یقین دلانا تھا کہ پاکستان کا افغانستان میں کوئی پسندیدہ نہیں ہے اور پاکستان پورے خلوص کے ساتھ افغانستان کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "پاکستان نے صدر غنی سے کہا ہے کہ وہ اس پر اعتبار کریں ۔۔۔ پاکستان افغانستان کے مخالف نہیں ہے اور وہ طالبان کو معنی خیز مذاکرات تک لانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے"۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی رفعت اللہ اورکزئی نے کہا کہ غنی کا دورہ، امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ، قطر میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کی وجہ سے بہت اہم ہے۔

اورکزئی نے کہا کہ "دوحہ مذاکرات کا اگلا دور بہت اہم ہے کیونکہ امریکہ ایک مستحکم جنگ بندی چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ طالبان افغان حکومت کے ساتھ مل بیٹھیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "پاکستان نے پہلے ہی طالبان کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار کرنے میں اپنا کردار ادا کر دیا ہے اور اب اگلا کام انہیں افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز تک لانا ہے جو کہ غنی کے دورے کا بنیادی مقصد تھا"۔

اورکزئی نے کہا کہ "تجارت، سرحدی انتظام اور افغان مہاجرین کی وطن واپسی، مذاکرات کے دوسرے اہم معاملات تھے اور افغانستان کی حکومت کو بہت امید ہے کہ اس دوسرے سے افغانستان کو اچھے نتائج ملیں گے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
7
نہیں
تبصرے 2
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

Niazi chor hai

جواب

اگر افغانستان کے صدر کو اٖفغانستان اور پاکستان میں امن کی فکر ہے تو سب سے پہلے بھارت کے لوگوں کو افغانستان سے نکالنا ہوگا جو کہ ان کے لیے مشکل کام ہے اور جب تک انڈیا کے لوگوں سے افغانستان پاک نہیں ہو تا پاکستان چاہتے ہوئے بھی کُچھ نہیں کرسکتا کیوں کہ جب تک بھارت افغانستان میں موجود ہے پاکستان کی سلامتی کو بھی خطرہ ہے اگر افغانستان کے صدر اشرف غنی چاہتے ہیں کہ افغانستان ترقی کرے اور افغانستان پُرامن ہو تو بھارت سے جان چُھڑائےاور صرف پاکستان سے مل کر کام کے انشاء اللہ ضرور اٖفغانستان کو فائدہ ہوگا افغانستان کو خود بھی سوچنا چاہیے کہ انڈیا کی موجودہ حکومت نے اپنے بھارتی مسلمانوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا ہوا ہے جب یہ اپنے مسلمان شہریوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر سکتی جو کہ صدیوں سے وہاں رہ رہے ہیں تو افغانیوں کے ساتھ کیسے دوستی نبھاسکتی ہے آج اگر انڈیا نے افغانستان سے اچھے تعلقات کیے بھی ہیں تو وہ بھی پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے ورنہ ماضی میں انڈیا نے کبھی بھی افغانستان سے اچھے تعلقات اچھے کرنے کی کوشش نہیں کی ۔

جواب