https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/06/11/feature-01
| سلامتی

کے پی کے بم ناکارہ بنانے والا ’ٹائیگر‘ دہشتگردی کے خلاف لڑائی کی دو دہائیاں پوری ہونے کی خوشی منا رہا ہے

عدیل سعید

image

ڈی آئی خان میں بم ڈسپوزل سکواڈ کے سربراہ، عنایت اللہ خان، کو 22 مارچ، 2019 کو اپنی بہادری اور عزم پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے ایک عسکری عہدیدار نے ایک چیک پیش کیا۔ [بم ڈسپوزل سکواڈ کے پی]

پشاور – دوسروں کو دہشتگردانہ اقدامات سے تحفظ فراہم کرتے ہوئے خیبر پختونخوا (کے پی) محکمہٴ پولیس کے لیے ایک بم ناکارہ بنانے کے ماہر، عنایت اللہ 19 سال میں کئی مرتبہ موت سے بال بال بچے ہیں۔

عسکریت پسندوں کی گولی کا نشانہ بننے اور راستے پر ایک بم دھماکے میں اپنی ایک ٹانگ گنوا نے کے باوجود ان کا کہنا ہے کہ وہ کوئی اور راستہ منتخب نہ کرتے۔

خان نے ایک انٹرویو میں کہا، "صرف موت ہی مجھے اپنے اہلِ وطن کو تباہی سے بچانے کا فریضہ ادا کرنے سے روک سکتی ہےاور میں اس وقت تک دہشتگردوں کے فاسد منصوبوں کو ناکام بناتا رہوں گا جب تک میرے بدن میں خون کا آخری قطرہ باقی ہے۔"

image

اکتوبر 2018 میں نوشہرہ میں کے پی پولیس سکول آف ایکسپلوسیو ہینڈلنگ میں خواتین پولیس اہلکار بم ناکارہ بنانے کی بنیادی تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ [کے پی پولیس]

خان، جسے دہشتگردی کے خلاف معرکہ آرائی میں غیر معمولی شجاعت کا مظاہرہ کرنے پر اس کے ساتھی "ٹائیگر" کے نام سے جانتے ہیں، ڈیرہ اسماعیل خان میں بم ڈسپوزل سکواڈ (بی ڈی ای) کے سربراہ ہیں۔

خان نے اپنے تمام تر پیشہ ورانہ زندگی میں بموں، دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (IEDs)، بارودی سرنگیں، خود کش جیکٹیں، مارٹر گولے اور دھماکہ خیز مواد سے لدی گاڑیاں ناکارہ بناتے ہوئے 4,500 کلو گرام سے زائد دھماکہ خیز مواد ناکارہ بنایا ہے۔

خان نے کہا، "سن 2000 میں اپنی خدمات کا آغاز کرنے سے اب تک، میں نے 295 دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات، 350 بارودی سرنگیں ناکارہ بنائیں اور متعدد خودکش بمباروں کی جیکٹیں اتاریں۔"

انہوں نے مزاح کرتے ہوئے کہا کہ میرے ساتھیوں نے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشنز میں استعمال کے لیے میرا کال سائن ’ٹائیگر‘ منتخب کیا، لیکن یہ جلد ہی میری شناخت بن گیا۔ اب مجھے مسئلہ یہ ہے کہ میں اگر خود کو ٹائیگر کی بجائے عنایت کے طور پر متعارف کراتا ہوں تو لوگوں مجھے شناخت نہیں کرتے۔

زخموں سے نہ رکنے والا

تاہم دورانِ ملازمت خان کی خطروں اور موت کے ساتھ جھڑپیں نہایت سنجیدہ ہیں۔

2007 میں بنّوں-ڈی آئی خان روڈ پر ایک گاڑی کے مسافروں کی تلاشی کے دوران ایک 12 سالہ خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

انہوں نے کہا، "میں اس لڑکے کے نہایت قریب تھا جس نے اپنے جسم کو بڑے کپڑے میں لپیٹ رکھا تھا اور اس نے اچانک ہی ٹریگر دبا دیا اور جیکٹ پھٹ گئی۔ اٹھارہ افراد نے جامِ شہادت نوش کیا اور مجھ سمیت 28 زخمی ہوئے، لیکن میں خطرے سے باہر رہا۔"

ایک اور سانحہ میں، خان شمالی وزیرستان میں ایک مشکوک مقام پر ایک عسکری کانوائے کے آگے آگے دھماکہ خیز مواد چیک کرنے کے مشن پر تھا کہ انہوں نے اچانک خود کو دہشتگردوں کی جانب سے نصب کی گئی چھ بارودی سرنگوں کے ایک جال کے درمیان گھرا ہوا پایا۔

انہوں نے کہا کہ خدا کے فضل و کرم سے میں نےتمام دھاکہ خیز آلات کو ناکارہ بنایا اور راستہ صاف کیاکہ سیکیورٹی فورسز آگے جا کر اپنے ہدف پر پہنچ سکیں۔

جنوری 2015 میں خان زیادہ خوش قسمت نہیں تھے، جب انہوں نے ایک ڈی آئی خان کے علاقہ لونی میں ایک بارودی سرنگ پر پاؤں رکھ دیا۔ نتیجہ میں ہونے والے دھماکے میں ان کی ایک ٹانگ ضائع ہو گئی، یہ وہی ٹانگ تھی جس پر عسکریت پسندوں نے 14 برس قبل گولی چلائی تھی۔

اگرچہ دھماکے سے ہونے والا زخم معذور کر دینے والا تھا، تاہم وہ انہیں ان کے مشن سے روک نہ سکا۔

اپنے زخموں سے بحال ہونے اور ایک مصنوعی ٹانگ لگوانے کے بعد، خان نے اسی جوش سے اپنے فرائض دوبارہ شروع کر دیے۔

2015 میں حکومتِ پاکستان نے خان کو عالی شان تمغہٴ شجاعت سے نوازا، جو کہ شجاعت کے عسکری اور سویلین اقدامات کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔

’لاثانی‘ شجاعت

خان کی شجاعت، قربانی اور عزم کے اعتراف میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملک میں ہزاروں جانیں بچانے کے لیے خدمات پر رواں برس 22 مارچ کو انہیں 500,000 روپے (3,570 ڈالر) کا انعام بھی دیا۔

باجوہ نے کہا، "عنایت اللہ ٹائیگر جیسے لوگ ہمارے ملک کا اثاثہ ہیں اور ہمیں ان پر فخر ہے۔"

کے پی کے سابق سیکریٹری داخلہ سید اختر علی شاہ نے کہا، "دہشتگردی کے خلاف ملک کی جنگ میں خیبرپختونخوا کے بم ڈسپوزل سکواڈ (بی ڈی ایس) کی جانب سے پیش کی گئی خدمات بے مثال ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ اس سکواڈ نے گزشتہ دہائی میں 6,000 سے زائد بم ناکارہ بنائے، جو اگر پھٹ جاتے تو بڑا جانی اور مالی نقصان کرتے۔

کے پی میں بی ڈی ایس کے سربراہ شفقت ملک نے کہا، "ہمارے ملک پر آفت کی صورت شورش کو روکنے میں بی ڈی ایس کا کردار قابلِ تعریف ہے اور اوپر سے نیچے تک پوری ٹیم نے ایک سا جوش و جذبہ دکھایا ہے۔"

انہوں نے کہا، "صرف ٹائیگر ہی نے اپنے پیشے سے متعلق غیر معمولی شجاعت اور عزم کا مظاہرہ نہیں کیا۔"

ملک نے بالترتیب 2012 اور 2013 میں پشاور میں شہید ہونے والے دو ارکان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "اس سکواڈ میں شہید حکم خان اور شہید عبدالحق سمیت دیگر ہیرو بھی ہیں جنہوں نے اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔"

ایک صحافی اور ڈی آئی خان کے ایک رہائشی عدنان حیدر نے کہا، "ٹائیگر نے غیر معمولی جوش و جذبہ کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے پورے ملک کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔"

عدنان نے کہا، "عنایت اللہ جیسے لوگ پاکستان کی عوام کے لیے امّید کی ایک کرن ہیں کہ ہمارا ملک دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فاتح ہو گا، اور ان مردانِ جنگ کے نام تاریخ کے صفحات میں جلّی حروف میں لکھے جائیں گے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
4
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha