https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/05/16/feature-01
| تعلیم

کے پی کی 4,000 نوجوانوں کے لیے مفت تکنیکی تعلیم کی پیشکش

محمّد شکیل

image

15 مئی کو پشاور کے ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹر گلبرگ میں وزیرِ اعلیٰ یوتھ ٹریننگ پروگرام کے جزُ کے طور پر نوجوان تکنیکی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ [محمّد شکیل]

پشاور – حکومتِ خیبر پختونخواہ (کے پی)، نو انضمام شدہ قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کے کاروبار سیکھنے، اپنے ملازمت کے پہلوؤں کو اجاگر کرنے اور معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ان اضلاع پر ارتکاز رکھتے ہوئے، صوبے میں نوجوانوں کو مفت تکنیکی تربیت کی پیشکش کر رہی ہے۔

کے پی کے وزیرِ اعلیٰ محمود خان نے کہا کہ کے پی سابق قبائلی ایجنسیوں سمیت، صوبے کے تمام حصّوں سے بشمول خواتین، 4,000 نوجوانوں کو مفت تکنیکی تعلیم کی پیش کش کرے گا۔

92 میں سے 91 تربیتی اداروں میں تعلیم کا آغاز ہو چکا ہے۔ کوہستان میں ادارے کی تعمیر نے تعلیم کے آغاز میں تاخیر پیدا کی ہے۔

image

15 مئی کو پشاور کے ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹر گلبرگ میں وزیرِ اعلیٰ یوتھ ٹریننگ پروگرام کے جزُ کے طور پر نوجوان تکنیکی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ [محمّد شکیل]

image

2018 میں طالبِ علم ٹیوٹا کے زیرِ انتظام ایڈوانسڈ ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹر حیات آباد میں کام کر رہے ہیں۔ ٹیوٹا قبائلی نوجوانوں سمیت 4,000 طالبِ علموں کو متعدد مہارتوں میں مفت تکنیکی تعلیم فراہم کرے گا۔ [محمّد شکیل]

خان نے فروری میں کہا، "ہم تربیت یافتہ نوجوانوں کے لیے ملازمتیں اور ایک واضح سمت فراہم کرنا چاہتے ہیں، اور حکومت نے قبائلی علاقہ جات میں نوجوانوں کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔"

خان نے کہا کہ معاشی استحکام اور غربت کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ، صوبائی حکومتتربیت یافتہ افرادی قوت کے لیے ملازمتوں کی نئی شاہراہیں کھولنےکے لیے بھی ایک واضح تصور رکھتی ہے۔

جزوی طور پر ملازمت کی اس تربیت کا مقصد شدّت پسندی کی کشش کو ختم کرنا ہے، جو مایوس افراد کو شکار کرتی ہے۔

صوبے کے نوجوانوں کو تکنیکی مہارتوں کی تعلیم دینے پر معمور ادارے کے پی ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ٹیوٹا) کے مینیجنگ ڈائرئکٹر سجّاد علی شاہ نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد ضم شدہ علاقوں کے نوجوانوں کو تکنیکی تعلیم کے ذریعہ ترقی اور خود روزگاری کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہمارے نوجوانوں میں مقابلہ کرنے کی خداداد صلاحیت موجود ہے، لیکن انہیں واضح سمت کے تعین اور اپنی قابلیت اور منڈی کی طلب کی مطابقت سے اپنے شعبوں میں باقاعدہ تربیت کی ضرورت ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ اس امر کے لیے کوششیں جاری ہیں کہ حکام ٹیوٹا کے تحت تربیت مکمل کرنے والے نوجوانوں کو ملازمتیں تلاش کرنے میں مدد دیں۔

متنوع شعبے

ٹیوٹا کے ڈائرئکٹر آف ایکیڈمکس، صادق ارکزئی نے کہا کہ ٹیوٹا کے زیرِ انتظام 92 تکنیکی اداروں میں سے 12 سابق قبائلی ایجنسیوں میں ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا،"اب ضم شدہ علاقوں کے نوجوان بہتر حالت میں ہیں کہ وہ اس امر سے آگاہ رہتے ہوئے متنوع شعبوں میں تربیت حاصل کریں کہ منڈی کیا چاہتی ہے۔"

اورکزئی نے کہا کہ تربیت شدگان کی قابلیت اور صلاحیت کے مطابق، 30 تک شعبوں میں تربیت دستیاب ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ ان شعبہ جات میں ایک کمپیوٹر اسسٹڈ ڈیزائن سافٹ ویئر ایپلیکیشن آٹواے سی ڈی؛ کمپیوٹر پروگرامننگ؛ صنعتی، گاڑیوں اور سولر پینل شعبہ جات میں الیکٹریشن شپ؛ ترکھان کا کام؛ پلمبنگ؛ فیشن ڈیزائن؛ ہجام؛ لوہار؛ ہیوی مشنری چلانا اور کرین چلانا شامل ہیں۔

اورکزئی نے کہا کہ رہائش اور ٹویشن کے ساتھ تمام اخراجات کا بیڑہ ٹیوٹا اٹھائے گا۔

انہوں نے کہا، "ہر زیرِ تربیت فرد کو ماہانہ 3,000 روپے (21 ڈالر) وظیفہ ملے گا، جبکہ ٹیوٹا 3,000 روپے (21 ڈالر) ماہانہ ٹویشن فیس اور 6,000 روپے (42 ڈالر) ماہانہ رہائش کی مد میں برداشت کرے گا۔"

انہوں نے کہا کہ اس پروگرام میں خواتین کے لیے تربیتی آسامیاں الگ رکھی جائیں گی۔

اورکزئی نے مزید کہا، "معاشرے میں خواتین کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے، انہیں ترقی کرنے کا موقع ملنا چاہیئے۔۔۔ اس لیے، ان کے لیے اس پروگرام میں 1,000 آسامیاں ہوں گی۔"

ضلع باجوڑ سے دسویں جماعت کے ایک 17 سالہ طالبِ علم رحمٰن اللہ نے کہا کہ تکنیکی تربیتنوجوانوں کو خودمختار بننے کے قابلبنائے گی اور معاشی بوجھ کم کر کے ان کے خاندانوں کی مدد کرے گی۔

اس نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "مجھے یقین ہے کہ تکنیکی علم حاصل کرنے کے بعد میرے لیے خود روزگار بننا اور باعزت معاش کمانا آسان ہو گا۔"

اس نے کہا، "تعلیم اہم ہے، لیکن جس کے پاس وسائل نہ ہوں اور اپنا کاروبار شروع کرنا چاہے، تو اس کے لیے مہارتیں اور عملی کام زیادہ مددگار ہو گا۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
2
نہیں
تبصرے 3
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

Der kh zbrdst pa zra poore

جواب

یہ کب شروع کر رہے ہیں ..

جواب

آپ کی کاوشوں کی داد دیتا ہوں۔ نئی تربیت کا آغاز کب کریں گے

جواب