http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/05/07/feature-02
| دہشتگردی

داعش کی بھرتیوں کے پڑھے لکھے نوجوانوں پر ارتکاز کے ساتھ اندیشوں میں اضافہ

ضیاء الرّحمٰن

13 اگست 2017 کو جامعہ کراچی کے طالبِ علم یومِ آزادی کی تقریبات میں شریک ہیں۔ اس جامعہ نے نوجوانوں کو عسکریت پسند تنظیموں کے پراپیگنڈا میں پھنسنے سے بچنے اور ایسے نوجوانوں کی بحالی کے لیے ایک اقدام کا آغاز کیا ہے جو پہلے سے بھٹک چکے ہیں۔ [ضیاءالرّحمٰن]

کراچی – سیکیورٹی عہدیداران اور فعالیت پسندوں کا کہنا ہے کہ جیسا کہ سری لنکا میں ایسٹر سنڈے کے خودکش مہلک خود کش بم حملے میں مظاہرہ کیا گیا، "دولتِ اسلامیہ" (داعش) جیسے دہشتگرد گروہ اپنی پر تشدد مہمات چلانے کے لیے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور دولت مند نوجوانوں کو ہدف بنا رہے ہیں۔

داعش،جس نے دنیا بھر میں مقاماتِ عبادت اور عوامی مقامات پر حملے کیے، نے 21 اپریل کو سری لنکا میں تین گرجہ گھروں اور چار ہوٹلوں میں ہزاروں افراد کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے باعث بننے والے مربوط بم حملوں کے ایک سلسلہ کی ذمہ داری قبول کی۔

سری لنکن ریاستی وزیر برائے دفاع رووان وجئے وردنے نے 24 اپریل کو کہا کہ ملوث 9 خود کش حملہ آوروں میں سے زیادہ تر اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور دولت مند گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔

داعش کی ایک ویڈیو سے لیے گئے اس سکرین شاٹ میں ’دولتِ اسلامیہ‘ (داعش) کا ایک حامی ’آن لائن جہاد‘ میں مشغول ہے۔ [فائل]

وجئے وردنے نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ بمباروں میں سے زیادہ تر "معاشی طور پر مستحکم خاندانوں سے ہیں۔ ان میں سے چند تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیرونِ ملک گئے۔"

محققین اور سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق،موجودہ مقامی دہشتگرد گروہوں میں سے بھرتیاں کرنے کے ساتھ ساتھ، داعش نے اپنے تخریبی حملے کرنے اور مالیات اکٹھے کرنے، پراپیگنڈا کرنے اور دیگر سرگرمیوں کے لیے جامعات کے طالبِ علموں اور پیشہ وران کو بھرتی کرنے پر بھی توجہ مرکوز کی ہے۔

عالمی بینک (ڈبلیو بی) کی جانب سے 2016 میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق، داعش کے بھرتی کنندگان متوقع طور پر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور نسبتاً دولت مند ہیں۔ یہ رپورٹ مارچ 2016 میں داعش کے ایک سابق ناراض رکن کی جانب سے لیک کیے گئے اعدادوشمار پر مبنی تھی۔

ڈبلیو بی کے مطابق، "ایک بڑا حصہ جامعات میں تعلیم حاصل کرتا رہا ہے … افریقہ، جنوبی اور مشرقی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے بھرتی شدگان ان کے خطہٴ نمو میں موجود افواج کے افراد کی نسبت نمایاں طور پر زیادہ تعلیم یافتہ ہیں۔"

تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ہدف بنانا

تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے لیے، داعش اور دیگر دہشتگرد تنظیموں نے سوشل میڈیا اور پاکستان سمیت مقامی کالجوں اور جامعات میں چھوٹے ڈسکشن گروپس کے ذریعے مسلمان نوجوانوں کو اپنے شورشی گروہوں میں بہلا پھسلا کر لانے کو آلہٴ کار بنایا ہے۔

بین الاقوامی مرکز برائے سیاسی تشدد و تحقیقِ دہشتگردی کے ساتھ منسلک، سنگاپور سے تعلق رکھنے والے ایک سیکیورٹی تجزیہ کار عبدالباسط نے کہا، "روائتی طور پر پاکستان میں زدپزیر نوجوانوں کو پرتشدد انداز میں بنیاد پرست بنائے جانے کا کام اور ان کی عسکریت پسند گروہوں میں بھرتیاں ان شدت پسند مذہبی مولویوں کے ذریعے کی گئیں، جنہوں نے جہادی تنظیموں اور پرعزم جہادیوں کے مابین مصالحین کا کردار ادا کیا۔"

باسط نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے مذہبی مولوی مصالحین کو شدت پسند نظریات کے مبلغین، بھرتی کنندگان اور ناشرین سے بدل دیا ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک سول سوسائٹی فعالیت پسند ابوبکر یوسفزئی، جنہوں نے، بنیادی طور پر نوجوانوں پر مرکوز، پرتشدد شدت پسندی کی انسداد کے لیے پروگرامز میں شرکت کی، نے کہا کہ داعش جیسے عالمی دہشتگرد نیٹ ورکس سے منسلک شدت پسند عناصر دولت مند نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے لیے تعلیمی اداروں پر نظر رکھتے ہیں۔

یوسفزئی نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ازخود بنیاد پرست بن جانے کی طرف جھکاؤ رکھنے والے بھرتی شدگان کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور زیادہ تر سوشل میڈیا کے ذریعے عسکریت پسندانہ نظریات سے متاثر ہوتے ہیں۔"

مثال کے طور پر پولیس نے دو اعلیٰ تعلیم یافتہ طالبِ علموں – سعد عزیز اور نورین لغاری – کو بنیاد پرست بن جانے اور دہشتگردانہ اقدامات میں ملوث ہو جانے کے بعد گرفتار کیا جنہیں داعش نے پاکستان سے بھرتی کیا تھا۔

عزیز، انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی سے فارغ التحصیل تھا۔ اس نے مئی 2015 میں سفورہ گوٹھ میں 40 سے زائد اسماعیلی مسلمانوں کی ہلاکت کا باعث بننے والے بس بم حملے کے ساتھ ساتھ اپریل 2015 میں ایک سماجی کارکن اور حقوقِ انسانی کی فعالیت پسند سبین محمود کے قتل سمیت کراچی میں متعدد دہشتگردانہ کاروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔

ایک عدالت نے اسے مئی 2016 میں سزائے موت سنائی۔ وہ تاحال زیرِ حراست ہے۔

لغاری، ضلع جامشورو میں لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کی ایک طالبہ تھی۔اسے اپریل 2017 میں لاہورمیں نفاذِ قانون کے اہلکاروں کے ساتھ ایک مقابلہ کے بعد گرفتار کیا گیا۔

ایک مقامی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو کے مطابق، اس نے ایسٹر پر ایک گرجہ گھر میں ایک بم حملہ کرنے کی نیت سے لاہور جانے کا اعتراف کیا۔

سیکیورٹی فورسز نے اس گھر پر چھاپہ مارا جس میں وہ اور اس کے ساتھی مقیم تھے، اور دہشتگرد علی طارق کو قتل کرتے ہوئے منصوبہ کو ناکام بنا دیا۔ پولیس نے کچھ ہی عرصہ بعد اسے یہ کہتے ہوئے رہا کر دیا کہ داعش نے اسے دھوکہ دیا تھا۔

بھرتیوں کی انسداد کے لیے کاوشیں

تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم نوجوانوں میں عسکریت پسندی سے متعلق فکرمند پاکستانی نفاذِ قانون کی ایجنسیوں اور سول سوسائٹی کے اداروں نے نوجوانوں کو داعش اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کا شکار بننے سے بچانے کے لیے متعدد اقدامات کا آغاز کیا ہے۔

2017 سے نفاذِ قانون کی ایجنسیاں اور جامعات کے منتظمین تعلیمی اداروں میں عسکریت پسندی کے پھیلاؤ کی انسداد کے لیےمل کر کام کر رہے ہیں داعش اور دیگر عسکریت پسند گروہوں پر جاری کریک ڈاؤن کے جزُ کے طور پر، نفاذِ قانون کی ایجنسیاں بھرتی کنندگان کو بھی ہدف بنا رہی ہیں۔

15 اپریل کو کراچی پولیس نے تائسر ٹاؤن میں داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو گرفتار کیا جن پر حکام نے اس شورشی گروہ کے لیے بھرتی کرنے کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کا الزام لگایا تھا۔

جامعات بھیکمیپسز میں عسکریت پسندی کے بڑھتے ہوئے خطرہسے نمٹنے کو ہدف بنا رہی ہیں۔

مثال کے طور پر جامعہ کراچی نے عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے نوجوانوں کو بہکائے جانے کی انسداد میں مدد اور پہلے سے بھٹک جانے والوں کی بحالی کے لیے ایک اقدام کا آغاز کیا۔

گزشتہ نومبر جب حکام نے مبینہ طور پر چند طالبِ علموں اور عملہ کے ارکان کو دہشتگردانہ اقدامات میں ملوث پایا تو اس جامعہ نے اپنے شعبہٴ نفسیات کے اندر ایک کمیونیٹی کاؤنسلنگ سنٹر کا آغاز کیا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
13
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha