https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/04/30/feature-01
| دہشتگردی

روپوش اور شکست خوردہ، داعش سربراہ 5 برس بعد مبینہ طور پر پہلی ویڈیو میں دوبارہ منظرِ عام پر

سلام ٹائمز

image

"دولتِ اسلامیہٴ" (داعش) نے پیر (29 اپریل) کو مبینہ طور پر اپنے سربراہ ابوبکر البغدادی کی جانب سے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا، جو اس یو ٹیوب سکرین شاٹ میں دکھایا گیا ہے۔ تجزیہ کار اور رائے دہندگان داعش سربراہ کی مذمت کررہے ہیں۔

"دولتِ اسلامیہٴ" (داعش) کے مفرور سربراہ کی ویڈیو پر مبینہ طور پر نئی موجودگی پر مشاہدین اس کی نام نہاد "خلافت" کی باقیات کو مجتمع کرنے کی کوشش کی مذمت کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے مطابق، داعش نے یہ آن لائن ویڈیو پیر (29 اپریل) کو پوسٹ کی، اور کہا کہ یہ اپریل میں بنائی گئی تھی۔

وائس آف امریکہ (ی او اے) نے خبر دی کہ یہ ویڈیو 18 منٹ طویل ہے اور دکھاتی ہے کہ ایک شخص جسے ابو بکر البغدادی بتایا گیا ہے، دیگر داعش کارکنان سے بات کر رہا ہے۔

اس ویڈیو میں، البغدادی کے طور پر شناخت کیا گیا شخص اس گروہ کے علاقہٴ عملداری کے آخری بچے کھچے حصے، باغوز، شام کے سکوت کو تسلیم کرتا دکھایا گیا ہے، جس پراتحادی پشت پناہی کی حامل افواج نے مارچ میںقبضہ کر لیا تھا۔

اس نے کہا، "باغوز کی لڑائی ختم ہو چکی ہے۔"

اس نے دنیا بھر میں منتشر اپنے پیرووں کو مجتمع کرنے کی ایک کوشش میں دعویٰ کیا کہ اتوار (21 اپریل) کو سری لنکا میں ہونے والے قتلِ عام کا مقصد سکوتِ باغوز کا بدلہ لینا تھا۔

ی او اے کے مطابق، امریکی محکمہٴ داخلہ کے ترجمان مائیکل لاوالی نے کہا، "ہم آج کے روز زیرِ گردش ویڈیو سے آگاہ ہیں۔ تجزیہ کار اس ریکارڈنگ کا جائزہ لیں گے، اور ہم اس کی صحت کی تصدیق کے لیے انٹیلی جنس کمیونیٹی کو دیں گے۔"

اگر یہ ویڈیو مصدقہ ہے، تو یہ جولائی 2014 میں موصل، عراق میں بات کرنے کے بعد البغدادی کا پہلا نظارہ ہو گا۔

برس گزرنے پر جیسے جیسے اتحادی افواج نے داعش پر زمین اور فضا سے حملے کیے، اس کی شکست رفتار پکڑتی گئی۔

بی بی سی کے مطابق، 2014 کے اواخر اور 2015 کے اوائل میں اپنی انتہائی بلندی پر، اس کے قبضے میں شام اور عراق میں 88,000 مربع کلومیٹر رقبہ تھا۔ آخرِ کار زمین کے آخری بچے کھچے حصے پر اس کے آخری قیام—باغوز گاؤں— تک محدود کر دیے جانے سے قبل 2017 میں موصل اور الرقعہ، شام اس کے ہاتھ سے جاتے رہے۔

’قابلِ الزام‘

مشاہدین نے جلد ہی داعش رہنما کی مذمت کی، جو اس وقت روپوش ہو گیا جب اس کے پیروکار امریکی پشت پناہی کی حامل زبردست افواج کے خلاف لڑائی میں ہزاروں کی تعداد میں مارے جا رہے تھے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار خادم حسین نے سوال کیا، "کوئی کیسے علاقہٴ عملداری چھننے کا بدلہ لے سکتا ہے، جبکہ وہ علاقہٴ عملداری اس کی جاگیر بھی نہ ہو؟ اگر کوئی عوام کے سامنے خود کو ظاہر بھی نہ کر سکے تو وہ کیسے منظم اور تابع قانون افواج سے لڑ سکتا ہے؟"

انہوں نے سلام ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ البغدادی کے مقدر بھی ان پاکستانی دہشتگردوں جیسے ہی ہوں گےجن کی سرگرمیاں حالیہ برسوں میں محدود ہو گئی ہیں۔

جامعہ پشاور میں انٹرنیشنل ریلیشنز کے ایک معلم ڈاکٹر عطااللہ خان نے سلام ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ داعش کو اپنے ہی پراپیگنڈا میں شہریوں کے خلاف اپنے مظالم کا دعویٰ کرتے دیکھنے کے بعد دنیا بھر میں عوام اس دہشتگرد گروہ کی جانب سے تعمیرِ نو کی ہر کوشش کو مسترد کر دیں گے۔

انہوں نے "داعش کی جانب سے نہتی آبادیوں کے خلاف دکھائی گئی بے رحمی" کا حوالہ دیا۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنما مولانا جمیل قریشی نے سلام ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ البغدادی کی مبینہ ویڈیو "قابلِ الزام" ہے۔ "داعش کی سرگرمیاں قرآن کی تعلیمات سے متصادم ہیں۔"

افغانستان داعش کے لیے جنت نہیں

افغان تجزیہ کار، جنہوں نے یہ ویڈیو دیکھی، نے کہا کہ اگر البغدادی یہ سمجھتا ہے کہ اسکی زخم خوردہ تحریک خود کو افغانستان اساسی بنا کر اپنے قدم دوبارہ جما سکتی ہے تو وہ فریب زدہ ہے۔

کابل سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار عزیز ستانکزئی نے آئی ایس آئی ایل کے لیے متبادل نام استعمال کرتے ہوئے سلام ٹائمز کو بتایا، "ایسی ویڈیوز صرف پراپیگنڈا ہی سمجھی جائیں گی کیوں کہ داعش اپنے جنگجو جمع کرنے کی اپنی صلاحیت کھو چکی ہے۔"

انہوں نے بیان کیا کہ یہ گروہ عراق اور شام میں شدید شکستوں سے دوچار ہوا اور اسے افغانستان میں افغان اور اتحادی افواج کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ "گزشتہ دو سے تین برسوں میں دیکھا گیا کہ افغانوں نے اس کے جنگجوؤں کو ملک میں کہیں بھی اجازت نہ دی۔"

افغان چیف ایگزیکٹیوعبداللہ عبداللہ کے ایک مشیر نصراللہ مصدق نے سلام ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا، "پہلے البغدادی اپنے شکست خوردہ جنگجوؤں کا عزم بلند کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے بعد وہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ یہ گروہ دوبارہ ابھر رہا ہے۔"

مصدق نے ستانکزئی کی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہ اتحادی اور مقامی افواج نے عراق، شام اور افغانستان میں داعش کو کچل دیا ہے، مشورہ دیا، "افغان حکومت اور بین الاقوامی برادری کو۔۔۔ اس گروہ کو تباہ کرنے کی تیاری کرنی چاہیئے۔"

[پشاور سے اشفاق یوسفزئی اور کابل سے سلیمان نے اس رپورٹ میں کردار ادا کیا۔]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
35
نہیں
تبصرے 10
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

داعش کے کردار اور افعال سے لگتا ایسا ہے کہ اہل مغرب نے اسے اسلام اور مسلمانوں کو برباد کرنے کے لیۓ بنایا ہے۔۔ لیکن انکی ساری تدابیر ناکام ہونگی إن شاءالله

جواب

سب نام نہاد علماء ثابت کر کے دکھائیں کہ بغدادی کی سوچ درست نہیں ۔
خلافت کے نام سے الرجک مغربی ممالک نے داعش کے خاتمے کےلئے اپنی پوری قوت جھونک دی ۔مروانے کےلئے ان کو شیعہ مل گئے ۔یہ تاریخ ھی بتائے گی کہ داعش نے اس وقت کفار کو چیلنج کیا جب کفار جگہ حگہ مسلمانوں کا قتل عام کر رہے تھے ۔

جواب

القاعدہ و داعش کو چھوڑو جی، وہ تو ٹھہرے خارجی دہشت گرد، اس وقت دنیا میں اسلامی حکومت کونسی ہے؟

جواب

تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ مسلم کے ساتھ اسلامی تاریخ مسلنے پر اس کا حشر بھت برا ھو گااسلام امن کا مذھب ھے

جواب

کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ داعش کو امریکی پشت پناہی کی حامل افواج نے شکست دی۔۔۔؟؟؟؟

کیا آپ سچ نہیں چھپا رہے ۔۔۔؟؟؟؟

کیا آپ نہیں جانتے کہ داعش کو کس نے شکست دی۔۔؟؟

اگر آپ نہیں جانتے تو میں آپ کو بتاتا ہوں کہ داعش کو امریکہ، اسرائیل اور سلطنتِ سعودی عرب نے اپنے شیطانی ایجنڈا کی بنیاد پر تشکیل دیا تھا اور اسے مجاہدینِ اسلام (حزب اللہ) نے خامنائی کے زیرِ سایہ بدترین شکست دی تھی۔۔۔ برائے مہربانی سچ بولیں۔۔۔۔ آپ جھوٹ بول اور پھیلا کر کیسے خود کو مطمئن کر سکتے ہیں۔

جواب

حزب الله نہيں حزب الشیطان
یہی سچ ہے

جواب

افغانستان میں داعش کی کوئی جگہ نہیں

جواب

تبصرہ جاندار لیکن لکھنے کا انداز قابل دلچسپی نہیں۔۔۔

جواب

کوئی سیاسی فلسفہ یا مذہب معصوم شہری عبادت گزاروں کا قتلِ عام کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ داعش خونیں کفار کے ایک گروہ کی نمائندگی کرتا ہے، جو اسلام کو بدنام کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہمیں یہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ کون داعش کی منصوبہ سازی کر رہا ہے؟

جواب

آئی ایس آئی ایس کا مطلب ہے اسرائیل سیکریٹ انٹیلی جنس سروس

جواب