https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/04/22/feature-02
نقل وحمل |

تشدد میں کمی کے ساتھ پاکستان نے کوہاٹ، مردان کے لیے ٹرین سروس بحال کر دی

جاوید خان

image

گزشتہ اگست میں پشاور سے ایک خصوصی ٹرین ایسے فلوٹ لے جا رہی ہے جو پاکستان کے مختلف حصوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ امن کی بحالی کے بعد حکومت نے بہت سی مسافر ٹرینوں کو بحال کر دیا ہے۔ ]جاوید خان[

پشاور -- خیبر پختونخواہ (کے پی) کی جنوبی کوہاٹ ڈسٹرکٹ اور سینٹرل مردان ڈسٹرکٹ میں مسافر ٹرین کی سہولت جو کئی سالوں تک انتہاپسندانہ تشدد کے باعث بند رہی، کو بحال کر دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق، ٹرین کی سہولت جو کہ نوشہرہ سے مردان کی تخت بائی، جسے اقوامِ متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (یونسیکو) نے عالمی ورثہ کی جگہ قرار دیا ہے، سب ڈویژن تک جاتی ہے، کو 2 مارچ کو بحال کیا گیا۔ اس سہولت کو جلد ہی مالاکنڈ ڈویژن میں درگئی تک وسیع کیا جائے گا۔

پاکستانی شہری،حکومت کی طرف سے انتہاپسندوں کو قابو میں کرنے کے بعد سیکورٹی میں ہونے والی بہتری کے باعث ، کے پی کی زیادہ سے زیادہ منزلوں تک جانے کے لیے ٹرین کا سفر کر رہے ہیں۔

ریلوے کے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے اس ٹرین کو افتتاح کیا جو سیاحوں کو ملک کے تمام حصوں سے مردان اور نوشہرہ کے راستے تخت بائی لے کر جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ کے پی حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ ریلوے ٹریک کے قریب تمام تجاوزات، غیر قانونی کاروباروں اور تعمیرات کو ختم کرے تاکہ مزید ٹرینیں چلائی جا سکیں۔

احمد نے مزید کہا کہ "ہم نے پشاور سے کراچی تک رحمان بابا ٹرین کا آغاز کیا ہے اور یہ بہت بڑی کامیابی ثابت ہوئی ہے اور اس کے تمام نشستیں بھری ہوتی ہیں"۔

پاکستان ریلوے کے ڈویژنل انجنئیر ناصر خلیلی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ ٹرینیں "مالاکنڈ ڈویزژن میں درگئی سے نوشہرہ تک اور اس کے آگے ملک کے مختلف حصوں تک چلیں گی"۔

انہوں نے کہا کہ "ٹرین سروس کے ساتھ، درگئی سوات اور مالاکنڈ کے دوسرے اضلاع کو ملک کے باقی حصوں سے ملا دے گی"۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ریلوے نے وفاقی حکومت کی طرف سے عوام کو نقل و حمل کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے ایک حکم نامے پرعمل کرتے ہوئے ٹرین سروس کو بحال کیا ہے۔

امن و امان میں بہتری

حکام اور مشاہدین نے سیکورٹی کی مجموعی صورتِ حال میں بہرتی کو ٹرین سروس کی وجہ قرار دیا۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی رفعت اللہ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "راولپنڈی سے کوہاٹ تک ٹرین سروس کی واپسی گزشتہ سال ہوئی جبکہ دوسری کی قیادت ریلوے کی وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے کی جب وہ 24 مارچ کو مسافروں کو تخت بائی لے کر گئے -- اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ صوبہ میں امن و امان کی صورتِ حال کافی زیادہ حد تک بحال ہو گئی ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوہاٹ جانے والی ٹرین کو ممکنہ طور پر لکی مروت تک بڑھا دیا جائے گا اور کارکن ٹرین کے راستے سے تجاوزات کو ہٹا رہے ہیں۔

رفعت اللہ نے کہا کہ اسی دوران "آنے والے چند ہفتوں کے دوران درگئی سے نوشہری اور ملک کے باقی کے حصوں تک ٹرین کی عمومی سروس کو بحال کرنے کے لیے اقدامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے"۔

سیکورٹی میں بہتری کے علاوہ، رفعت اللہ نے وفاقی حکومت کی طرف سے تمام تجاوزات کو ختم کرنے کیونکہ وہ معطل شدہ ٹرین سروس کو دوبارہ بحال کرنے میں کلیدی کردار کی حامل ہیں، کو وجہ قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ ریلوے کے تمام ٹریک اور املاک پر دوبارہ قبضہ کرے گی اور اب حکام کو کے پی میں طورخم، درگئی اور لکی مروت میں ٹرین سروس بحال کر دینی چاہیے، جہاں ٹریک پہلے سے ہی موجود ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ مسافر اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

پاکستان ریلوے نے 2017 میں، سیکورٹی میں بہتری سے متاثر ہو کر، بہت سالوں کے تعطل کے بعد، صوبہ پنجاب میں سیاح دوستانہ سفاری ٹرین کو باقاعدگی سے دوبارہ چلانا شروع کیا تھا۔

سیکورٹی فراہم کرنا

درگئی، جہاں توقع ہے کہ آنے والے کچھ ہفتوں تک ٹرین سروس کو وسیع کر دیا جائے گا، مالاکنڈ ڈویژن کا حصہ ہے جہاں فوجیوں کی طرف سے نکالے جانے سے پہلے، کسی زمانے میں تحریک طالبان پاکستان کی حکومت تھی۔

راولپنڈی-کوہاٹ ٹرین سروس جنوری 2018 میں اس وقت بحال ہوئی جب مقامی افراد نے اسے بحال کرنے کے لیے مہم چلائی۔ کوہاٹ کو اس سے پہلے کئی متشدد حملوں کا سامنا کرنا پڑا جنہیں شمالی وزیرستان اور قریبی ڈیرہ آدم خیل سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں نے انجام دیا تھا۔

پولیس نے مردان اور ملک کے دوسرے حصوں میں ٹرینوں کی حفاظت کرنے کا عہد کیا ہے۔

مردان کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر ساجد خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "مردان اور اس سے آگے درگئی تک ٹرین سروس کی بحالی کے بعد جو سیکورٹی درکار ہے اسے فراہم کریں گے"۔

انہوں نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ ان کے آبائی شہر کوہاٹ تک ٹرین سروس گزشتہ سال بحال ہوئی تھی، کہا کہ لوگ اپنے قصبوں میں مسافر ٹرینوں کی واپسی کو دیکھ کر بہت خوش ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha