https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/03/18/feature-01
دہشتگردی |

پاکستان نیوزی لینڈ کے حملے میں ہلاک ہونے والے بہادر شہری کو اعزاز سے نوازے گا

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

علاقائی راہنما اور مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے ارکان 18 مارچ کو کراچی پریس کلب کے باہر جمع ہیں تاکہ 15 مارچ کو نیوزی لینڈ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ کی مذمت کر سکیں اور متاثرین اور بچ جانے والوں کے اہلِ خاندان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کر سکیں۔ ]ضیاء الرحمان[

اسلام آباد -- نیوزی لینڈ میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے ک نشانہ بننے والا ایک پاکستانی شہری جس نے مبینہ طور پر گن مین کو روکنے کی کوشش کی مگر گولی لگنے سے خود ہلاک ہو گیا، کو ان کی بہادری پر بعد از مرگ اعزاز دیا جائے گا۔ اس بات کا اعلان وزیراعظم عمران خان نے اتوار (17 مارچ) کو کیا۔

خان نے اسی وقت اس بات کا اعلان کیا جب پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اس بات کی تصدیق کہ کہ اس کے نو شہری، نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد میں ہونے والی فائرنگ میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس واقعہ میں جمعہ (15 مارچ) کو 50 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں ایسے مہاجرین بھی شامل تھے جو دنیا کے مختلف علاقوں سے ہجرت کر کے آئے تھے۔

ویڈیو پر بہادری کا مظاہرہ

قتلِ عام کی ویڈیو میں ایک شخص کو گولی کھا کر گرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جب وہ فائرنگ کرنے والے شخص کو مقابلہ کرتا ہے جب کہ دوسرے لوگ بھاگ رہے ہیں۔

image

شہر کی دو مساجد میں فائرنگ کے واقعہ کے تین دن کے بعد، سوگواران کرائسٹ چرچ میں بوٹینیکل گارڈن میں 18مارچ کو یادگاری مقام پر خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ اس حملے میں 50 مسلمان نمازی شہید ہو گئے تھے۔ ]مارٹی میلولی/ اے ایف پی[

کہا جا رہا ہے کہ یہ شخص نعیم راشد ہے اگرچہ فوٹیج میں اس کا چہرہ دھندلا ہے اور ابھی اس کی باقاعدہ طور پر شناخت ہونا باقی ہے۔

خان نے اتوار کو ٹوئٹ کیا کہ "پاکستان کو میاں نعیم پر فخر ہے جو سفید فام بالادست دہشت گرد کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے شہید ہوئے اور ان کی بہادری کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں قومی ایوارڈ دیا جائے گا"۔

خان نے اس بات کو واضح طور پر نہیں بتایا کہ راشد کو کون سا ایوارڈ دیا جائے گا، جن کا بیٹا بھی اس قتلِ عام میں ہلاک ہوا ہے۔

دوسروں کی طرف سے یاد کیا گیا

راشد کے بڑے بھائی خورشید عالم، جنہوں نے ہفتہ (16 مارچ) کو ایبٹ آباد سے فون پر اے ایف پی سے بات کی کہا کہ انہیں اپنے بھائی پر "فخر" ہے۔

"وہ اپنی جان بچا سکتے تھے مگر انہوں نے دوسروں کی جان بچانے کو ترجیح دی۔ وہ بہادر انسان تھے"۔عالم نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ ان کے دو بھتیجوں میں سے ایک طلحہ نعیم بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ ان کے بھائی کو نیوزی لینڈ میں دفن کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خاندان اس میں شرکت کے لیے ویزہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایبٹ آباد کے آرمی برن ہال کالج میں نعیم کے ایک ہم جماعت میجر (ریٹائرڈ) سید حسنین نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "بچپن سے ہی وہ دھیان رکھنے والا اور محبت کرنے والا شخص تھا۔ وہ اپنی عمر کے دوسرے بچوں سے بہت مختلف تھا"۔

انہوں نے کہا کہ "وہ ہمیشہ دوسروں کا دھیان رکھتا تھا خصوصی طور پر جو عمر میں چھوٹے تھے یا جنہیں مدد کی ضرورت تھی"۔

انہوں نے کہا کہ "میں جب تک زندہ رہوں گا اس کی یادوں کو سنبھال کر رکھوں گا۔ وہ جیسے زندہ رہا اس نے ویسی ہی باوقار موت منتخب کی"۔

خیبر پختونخواہ صوبائی اسمبلی کے ایک سابقہ رکن، آمنہ سردار جن کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے، نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "نعیم میرے فرسٹ کزن تھے۔ وہ میرے سے بہنوں والا برتاؤ کرتے تھے کیونکہ ان کی بہن نہیں تھی"۔

مشترکہ انسانیت

سندھ کی صوبائی اسمبلی کے ایک ہندو رکن منگلا شرما نے کہا کہ "ہم مذہب کے نام پر تشدد کو مسترد کرتے ہیں اور باہمی احترام اور شمولیت کی دعا کرتے ہیں"۔

شرما نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "اب مسلمانوں، عیسائیوں، ہندوؤں، یہودیوں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ یقین رکھنے والوں کے طور پر اکٹھے ہوں اور مشترکہ انسانیت کی طاقت کا مظاہرہ کریں"۔

پشاور سے سید عنصر عباس اور کراچی سے ضیاء الرحمان نے اس رپورٹ کی تیاری میں حصہ لیا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha