https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/03/15/feature-01
| صحت

'آئس' کا نشہ کرنے والوں کی بحالی کا پہلا مرکز خیبرپختونخوا میں کھل گیا

از جاوید خان

image

وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان (بائیں) 28 جنوری کو پشاور میں آئس بحالی مرکز کا افتتاح کرتے ہوئے۔ [کے پی حکومت]

پشاور -- خیبرپختونخوا (کے پی) حکومت نے کرسٹل متھ اور دیگر منشیات کے عادیوں کی معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے میں مدد کے لیے پاکستان کا پہلا بحالی مرکز کھول دیا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ کے پی محمود خان نے 28 جنوری کو پشاور میں، آئس کا بحالی مرکز نامی عمارت کا افتتاح کیا۔

100 بستروں کے اس مرکز کا مقصد منشیات، خصوصاً کرسٹل متھ، جو "آئس" کے نام سے بھی مشہور ہے، کے عادی مقامی باشندوں کی مدد کرنا ہے۔ مرکز میں مردوں اور خواتین کے لیے الگ الگ بحالی وارڈ ہیں، جو محکمۂ سماجی بہبود کے تعاون سے قائم کیے گئے ہیں۔

افتتاحی تقریب میں محمود خان کا کہنا تھا، "یہ ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا مرکز ہے جو منشیات کے عادی افراد کو بحالی کی خدمات فراہم کرے گا۔"

انہوں نے کہا کہ مرکز، جس میں مریضوں کو مفت ادویات تقسیم کرنے کے لیے ایک فارمیسی ہو گی، میں بحالی خدمات حاصل کرنے والوں کو رہائش، کھانا پینا اور دیگر خدمات بھی مہیا کی جائیں گی۔

منشیات کے استعمال کے خلاف لڑائی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں مدد کرتی ہے۔ افغان وزارتِ انسدادِ منشیات کے مطابق، ہمسایہ ملک افغانستان میں، غیر قانونی منشیات سے حاصل ہونے والی 99 فیصد کمائی دہشت گرد گروہوں اور منشیات کے سمگلروں کو جاتی ہے۔

ایک لامتناہی جنگ

حکام کے مطابق، بہت سے نشئی جو آئس اور دیگر منشیات جیسے کہ ہیروئین خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ گداگری، حتیٰ کہ جرائم کے ارتکاب کے ذریعے پیسے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ کچھ اپنے آپ کو جسمانی نقصان پہنچانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان، بلال احمد فیضی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ماضی میں ہم ایسے بہت سے نشئیوں کی جان بچا چکے ہیں جنہوں نے اپنا نشہ نہ ملنے پر خود کو بلیڈوں اور چھریوں سے زخمی کر لیا تھا۔"

انہوں نے کہا کہ پشاور میں بحالی مرکز نشئیوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو معمول کی زندگی کی طرف واپس لوٹنے میں مدد دے گا۔

صحتیاب ہو رہے نشے کے ایک عادی کے مطابق بالکل یہی وجہ ہے کہ مرکز کی ضرورت ہے -- سڑکوں پر بکنے والی منشیات کی بلند رسد کے پیشِ نظر نشے کی لت سے لڑنا ایک مسلسل جنگ ہے۔

40 سال کے عشرے کے آخر میں جی رہے جنوبی پشاور کے ایک مکین، جس نے اپنا تعارف صرف خان کے نام سے کروایا، نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "گزشتہ چند برسوں میں مجھے صحت یابی کے لیے دو بار ہسپتال میں داخل کروایا گیا، لیکن میں دوبارہ نشے پر لگ گیا کیونکہ پشاور میں منشیات باآسانی دستیاب ہے۔"

اس نے کہا میرے بہت سے دوستوں کو بحالی کی ضرورت ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ تمام اقسام کی منشیات کی دستیابی ختم ہو جائے۔

خان نے کہا، "آئس کے بحالی مرکز جیسے مزید ادارے ہونے چاہیئیں کیونکہ ہم میں سے لگ بھگ سبھی اس طرح کی زندگی سے اکتا گئے ہیں۔"

10 مارچ کو پشاور کے مختلف حصوں سے منشیات کے عادی تقریباً 195 افراد کو علاج اور بحالی کے لیے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا تھا۔

پشاور پولیس کے ترجمان، محمد الیاس نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "مقامی پولیس اور دیگر محکمہ جات کے حکام نے پشاور کے مختلف حصوص سے منشیات کے عادی افراد کو علاج اور بحالی کے لیے آئس کے بحالی مرکز، خیبر ٹیچنگ ہسپتال، لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کرنے کے لیے 12 ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔"

منشیات فروش گروہوں سے لڑنے کے لیے نئے قوانین

مرکز نے اس وقت کام کرنا شروع کیا ہے جبایک کریک ڈاؤن غیر قانونی منشیاتاور ان جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف جاری ہے جو منشیات کی تقسیم کا انتظام کرتے ہیں۔

کے پی حکومت نے آئس لے جانے، تیار کرنے، فروخت کرنے یا خریدنے پر سزا میں اضافہ کرنے کے لیے ایک نیا قانون تیار کیا ہے۔ نئے قانون میں متھ اور آئس کے فروخت کنندگان، سمگلروں اور استعمال کرنے والوں کو ہدف بنایا گیا ہے اور 1 کلوگرام سے زیادہ منشیات لے جانے یا فروخت کرنے پر عمر قید تک کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

وزیرِ قانون کے پی سلطان محمد نے 8 فروری کو صوبائی اسمبلی کو بتایا کہ نیا قانون جلد ہی پیش کر دیا جائے گا۔

دوسری جانب، پولیس نے غیر قانونی منشیات بیچنے والوں اور اسمگل کرنے والوں کے خلاف کارروائی پہلے ہی تیز کر دی ہے۔

کیپیٹل سٹی پولیس افسر پشاور (سی سی پی او) قاضی جمیل الرحمان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "کیمیائی طریقے سے تیار کردہ منشیات اور دیگر نشہ آور اشیاء کے سمگلروں اور فروخت کنندگان کا تعاقب کرنے کے لیےآئس سے پاک پشاور مہمگزشتہ چند ماہ سے پورے صوبائی دارالحکومت میں شروع کی جا چکی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ فروری کے آخری ہفتے میں پولیس نے پشاور میں آئس کے 77 فروخت کنندگان اور اسمگلروں کو گرفتار کیا تھا اور 5.5 کلوگرام کرسٹل متھ برآمد کی تھی۔

انہوں نے مزید کہا،"پچھلے سال پورے صوبے سے برآمد ہونے والی کُل مقدار 26 کلوگرام تھی۔"

مہم کے جزو کے طور پر، پولیس اور دیگر سرکاری محکمہ جات عوام میں آئس کے استعمال کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لیےمجالسِ مذاکرہ اور دیگر تقریبات کا انعقادبھی کر رہے ہیں۔

ضلعی پولیس افسر مردان سجاد خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہم نے مقامی باشندوں، خصوصاً نوجوانوں میں نشے کے متعلق آگاہی پیدا کرنے کے لیے مقامی یونیورسٹیوں، کالجوں، ناظمین کے دفاتر اور دیگر عوامی مقامات پر کئی مجالسِ مذاکرہ اور واکس کا اہتمام کیا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے گزشتہ چند ماہ میں منشیات فروشوں کے خلاف، خصوصاً تعلیمی اداروں کے گرد و نواح میں، کئی کارروائیاں کی ہیں۔

خان نے کہا، "ہم نے سعودی عرب اور دیگر ممالک میں منشیات اسمگل کرنے میں ملوث ایک بڑے گروہ کو گرفتار کیا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
نہیں
تبصرے 14
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

میرا خاوند آئس کا عادی ہے، برائے مہربانی اپنا پتہ ارسال کریں.

جواب

رابطے کی تفصیلات اور مقام کہاں ہے؟

جواب

میرے چچا آئس کے عادی ہیں۔ برائے مہربانی اپنا رابطہ نمبر اور پتہ ارسال کریں۔

جواب

میری بہن کو آئس کے نشے کی لت لگ گئی ہے۔ برائے مہربانی مجھے اپنے رابطہ کی معلومات دیں تاکہ میں مزید معلومات کے لیے آپ کو کال کر سکوں

جواب

برائے مہربانی اپنا پتا لکھیں؟؟

جواب

الحمدللہ جون 2016 میں میں نے اس منصوبہ کا تصور پیش کیا اور اس کی منصوبہ سازی کی کیونکہ میں اے این ایف، کے پی کا سربراہ تھا۔ میں کے پی کے اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ پرویز خٹک کا شکرگزار ہوں جنہوں نے زمین، نقشہ اور ڈیزائن کی منظوری دی اور اس منصوبہ کے لیے مالیات میسر کیے۔ میں بہت فخر محسوس کر رہا ہوں۔

جواب

پتہ اور رابطہ نمبر

جواب

Salam mere name kamil hain aur mein ek tragedy ki waja se mental patient bn gya hun.kya es hospital mein koe mera help kar sakta hain taky mein dobra normal life pe ajoun

جواب

ہسپتال کا پتہ اور فون نمبر درکار ہے۔۔۔

جواب

جنابِ عزیزم
مجھے ہسپتال کا پتہ اور فون نمبر درکار ہے۔

جواب

برائے مہربانی زیرِ ذکر ہسپتال کا پتہ اور فون نمبر درکار ہے

جواب

میرا بھائی آئس کا نشہ کرتا ہے، ہم اسے داخل کرانا چاہتے ہیں لیکن وہ لڑتا ہے اور مزاحمت کرتا ہے، برائے مہربانی ہمارے خاندان کی مدد کریں، ہم سب بہت پریشان ہیں خصوصاً میری بوڑھی والدہ۔ میں ایبٹ آباد سے ہوں۔

جواب

حکومتِ کے پی کی جانب سے اچھی سہولت

جواب

Mera bara bhai hai jo ger mai daily base per sab k sath fazool behes kerta hai parents k sath istareky se bathee kerta hai jistra K ye iski olaad hoo nihayat sakht lehjee mai smoking kafi zyada kerta aik cigret k baad dosra Sir pls ager aapke hospital mai iska ilaaj hosakta hai tu help us

جواب