https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/02/21/feature-01
| سلامتی

پولیس کی مشقوں، عمارتوں کے آڈٹ سے خیبر پختونخواہ میں سیکورٹی کو سہارا ملا ہے

جاوید خان

image

پولیس کمانڈو 17 جنوری کو پشاور میں ایک عمارت کا سیکورٹی آڈٹ کر رہے ہیں۔ ]جاوید خان[

پشاور -- خیبرپختونخواہ (کے پی) میں پولیس نے تمام تعلیمی اداروں اور صوبے کی دوسری تمام اہم عمارتوں کا سیکورٹی آڈٹ شروع کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی ممکنہ دہشت گردانہ حملوں کے لیے تیاری کے لیے بہت سی مشقیں شروع کی ہیں۔

یہ کوششیں جنوری کے وسط میں پشاور کے عدالتی کامپلکس میں سیکورٹی میں بہت بڑی خامی کے باعث سامنے آئی ہیں جس کی وجہ سے تین پولیس افسران کو معطل کر دیا گیا تھا۔

مارچ 2013 میں ایک کامپلکس، جو کہ کام کے دنوں میں عام طور پر پرہجوم ہوتا ہے، میں ہونے والے خودکش دھماکے میں، 3 پاکستانی ہلاک اور 40 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔ نومبر 2009 میں، عمارت کے داخلے کی جگہ کے نزدیک ایک بم دھماکہ ہوا جس سے کم از کم 10 افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔

پشاور کے کیپٹل سٹی پولیس افسر، قاضی جمیل الرحمان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم نے تعلیمی اداروں اور دوسری عمارات کا سیکورٹی آڈٹ شروع کر دیا ہے تاکہ پولیس اہلکار چاکنا رہیں اور کسی بھی ناگہانی صورت حال میں فوری طور پر ردعمل کا اظہار کر سکیں"۔

آڈٹ کے حصہ کے طور پر، پولیس نے گزشتہ دو ہفتوں میں، مختلف اسکولوں، دوسری عمارتوں کے مالکان اور انتظامیہ کو سیکورٹی کے ناکافی انتظامات کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔

کے پی پولیس کے ترجمان وقار احمد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "پولیس نے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی بڑی تعداد کا گزشتہ پندرہ دونوں میں صوبہ کی مختلف ڈسٹرکٹس میں آڈٹ کیا ہے جس کے بعد انہوں نے 31 مالکان یا پرنسپلوں کے خلاف سیکورٹی میں سنگین کمی کے سلسلے میں کیس دائر کیے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے کے دوران، پولیس نے مختلف طرح کی عمارات کے مینجروں اور مالکان کے خلاف سیکورٹی کے انتظامات میں کمی پر 252 شکایات کو درج کیا ہے۔

عمارات کی تیاری

جنوری کے آغاز سے، سریع الحرکت فورس، ایلیٹ فورس، انسدادِ دہشت گردی کا شعبہ اور مقامی پولیس، حملوں کی صورت میں بہتر ردعمل کا اظہار کرنے کے لیے مشقوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔

احمد نے کہا کہ "اہم عمارات اور دیگر جگہوں کی سیکورٹی کو بہتر بنانے کے لیے پولیس نے 790 سے زیادہ تلاشی اور پکڑ کی مہمات سر انجام دی ہیں اور جنوری 20 کو ختم ہونے والے دو ہفتوں کے دوران 4,700 سے زیادہ جگہوں پر اچانک چھاپے مارے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ کے پی کے تمام حصوں میں ہر روز سیکورٹی کی مزید مشقیں ہو رہی ہیں تاکہ پولیس افسران کے چوکنے ہونے کی سطح کا جائزہ لیا جا سکے اور اس کے ساتھ ہی حساس جگہوں پر ہونے والے سیکورٹی کے انتظامات کا جائزہ لیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ "پولیس کو عوام کی جانوں اور املاک کی حفاظت کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے"۔

بدھابر سرکل کے ڈپٹی سپریٹنڈنٹ پولیس فضل وحید نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم نے بدھابر میں کوہاٹ روڈ پر کے مقامی ڈگری کالج اور دوسری اہم عمارات میں جعلی مشقیں کیں تاکہ ہم چوکس رہ سکیں اور سیکورٹی کی سطح کو بلند کیا جا سکے"۔

وحید نے کہا کہ یہ علاقہ گزشتہ چند سالوں سے، خصوصی طور پر دہشت گردوں کے حملوں کر لیے حساس ہے۔

چوکس رہنا

مشاہدین کا کہنا ہے کہ سیکورٹی آڈٹ اور جعلی مشقیں، حساس عمارات کی سیکورٹی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی خصوصی طور پر اسکولوں اور کالجوں کی۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے ٹی وی کے سینئر صحافی طارق وحید نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "یہ اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، عدالتوں اور دیگر حساس اور خطرے کی شکار عمارات جو کہ ماضی میں حملوں کا نشانہ بنتی رہی ہیں، کی سیکورٹی کو بہتر بنانے میں اہم عنصر ہو گا"۔

انہوں نے کہا کہ سیکورٹی آڈٹ پولیس افسران کو مستقبل میں کسی بھی حملے کا مقابلہ کرنے میں چوکس رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ "جعلی مشقیں اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ علاقے کے پولیس اہلکار محفوظ ترین جگہوں اور اس کے ساتھ ہی طلباء اور دوسرے افراد کو حملے کی صورت میں عمارت سے بھاگنے کے محفوظ راستوں کے بارے میں جانتے ہوں"۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران سیکورٹی بہتر ہوئی ہے مگر عام لوگوں کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ "اسکولوں کے مالکان اور دیگر دفاتر کو گارڈز رکھ کر، سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے اور چاردیواری پر خاردار تار لگا کر، علاقے کو محفوظ بنانے میں، پولیس کی مدد کرنی چاہیے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
7
نہیں
تبصرے 9
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

A s i

جواب

کے پی کے کے امیدواروں کی رول نمبر سلپ اب تک اپلوڈ نہیں ہوئی ہے

جواب

آپ مجھے ایک کام دیجئے

جواب

ASF ROLL NUMBER SLIP KB ANI HA

جواب

ملازمت درکار ہے

جواب

پولیس میں ملازمت درکار ہے

جواب

Is ka test date Kia Hai plz

جواب

ہاں

جواب

کارکنان اور طالبِ علموں کو تحفظ اور سلامتی کی اہمیت سمجھائی جانی چاہیئے اور ہنگامی صورتِ حال میں کیے جانے والے اقدامات کی باقاعدگی سے مشق کرائی جانی چاہیئے۔

جواب