https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/02/07/feature-02
صحت |

خان نے صحت سہولت پروگرام کو ملک کے غریب ترین شہریوں تک وسیع کر دیا

اشفاق یوسف زئی

image

وزیراعظم عمران خان (بائیں) 4 فروری کو اسلام آباد میں ایک وصول کنندہ کو، صحت کارڈ دے رہے ہیں۔ ]پاکستان تحریکِ انصاف[

اسلام آباد -- غربت کی سطح سے نیچے رہنے والے 80 ملین سے زیادہ پاکستانی جلد ہی، وزیراعظم عمران خان کی طرف سے شروع کیے جانے والے صحت عامہ کے ملک گیر پروگرام سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

صحت سہولت پروگرام (ایس ایس پی) کے تحت، تقریبا 10.5 ملین گھرانوں کو صحت انصاف کارڈ (ایس آئی سیز) ملیں گے جو انہیں 150 نجی اور سرکاری ہسپتالوں میں 720,000 روپے (5,160 ڈالر) مالیت کا علاج حاصل کرنے کے قابل بنائیں گے۔

ہر کارڈ رکھنے والا، ہر دفعہ ہسپتال جانے پر، نقل و حمل کا خرچہ پورا کرنے کے لیے 1,000( 7 ڈالر) تک معاوضہ حاصل کرے گا۔

image

وزیراعظم عمران خان نے 4 فروری کو اسلام آباد میں صحت سہولت نامہ پروگرام کا افتتاح کیا۔ ]پاکستان تحریکِ انصاف[

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے پہلے اس پروگرام کا آغاز خیبرپختونخواہ (کے پی) میں 2016 میں کیا تھا جب اسے (2018 میں) ملک بھر میں حکومت حاصل کرنے سے پہلے، صرف صوبہ میں حکومت حاصل تھی۔

خان نے 4 فروری (پیر) کو اسلام آباد میں تقریب کے دوران کہا کہ یہ پروگرام ان غریب پاکستانیوں کی زندگیوں میں "بہت بڑی تبدیلی" لایا ہے جو طبی علاج کا بھاری خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔

خان نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ یہ بوجھ ان خاندانوں کے لیے بہت زیادہ ہے جو اپنے گھر کا خرچہ پورا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، کہا کہ "تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ بہت سے خاندان بیماری کے باعث مالی طور پر مسائل کا شکار ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "جب کوئی بیماری آتی ہے تو ان کا بجٹ متاثر ہو جاتا ہے"۔

خان کے مطابق، پاکستان کے تقریبا 15 ملین شہری اگلے دو سالوں کے دوران یہ کارڈ وصول کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ "یہ کارڈ اسلام آباد، اس کے بعد ہمارے قبائلی علاقوں اور پھر پورے ملک میں تقسیم کیے جائیں گے"۔

حکومت اسلام آباد اورسابقہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں 85,000 خاندانوں کو یہ کارڈ فراہم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ یہ پروگرام پنجاب اور گلگت-بلتستان کو بھی کور کرے گا۔

کامیابی کو دہرانا

کے پی میں کامیابی کے بعد، جس نے گزشتہ دو سالوں کے دوران اس پروگرام پر5 بلین روپے (36 ملین ڈالر) خرچ کیے ہیں، اسے پورے ملک میں دہرایا جا رہا ہے۔ یہ بات قومی ہیلتھ سروسز، ریگولیشن اینڈ کوارڈی نیشن کے وزیر عامر محمود کیانی نے پاکستان فارورڈ کو بتائی۔

انہوں نے کہا کہ وصول کنندگان میں سے اکثریت کے پاس علاج کے لیے کافی رقم نہیں ہے مگر نئے کارڈ ان لوگوں کے لیے صحتِ عامہ کی بہتر سہولیات کو یقینی بنائیں گے جن کے پاس اسکینڈری یا علاقائی علاج کی سہولیات نہیں ہیں۔

کیانی نے کہا کہ "ہم نے معذور افراد اور بیوہ عورتوں اور ان کے ساتھ ساتھ فنون و ثقافت میں کام کرنے والوں کو جدید سہولیات فراہم کرنے کے لیے منصوبہ بنایا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "ابتدا میں، ہم نے اس پروگرام کے لیے 20 بلین روپے (140 ملین ڈالر) مختص کیے ہیں جن میں بعد میں اضافہ کیا جائے گا"۔

انہوں نے کہا کہ "ہم غربت کی سطح سے نیچے رہنے والے خاندانوں کو صحت عامہ کے غیر معمولی خرچوں کے خلاف مالی تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کارڈ رکھنے والے خاندانوں کو کسی خرچے کے بغیر اور نہایت باعزت طریقے سے معیاری طبی علاج تک رسائی حاصل ہو گی۔

کیانی کے مطابق، علاج اور آپریشن کی بہت سی سہولیات -- جیسے کہ دل کا آپریشن، سٹنٹ، کیموتھراپی، ریڈیالوجی، ڈیالاسس، زچہ و بچہ کی دیکھ بھال اور دوسرے علاج -- اس پروگرام میں شامل کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک انشورنس کمپنی حکومت کی جانب سے اس پروگرام کو نافذ کرے گی۔

کے پی ایس ایس پی کے ساتھ منسلک اسسٹنٹ پراجیکٹ افسر ڈاکٹر طارق احمد نے کہا کہ کے پی ایس ایس پی کے حکام، اس پروگرام کی قومی قسم کو شروع کرنے میں وفاقی حکومت کی مدد کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "اس پروگرام کو مزید شفاف بنایا گیا ہے کیونکہ ہم نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی کی طرف سے فراہم کردہ سرکاری اعداد و شمار سے خاندان کے ارکان کا پتہ چلائیں گے تاکہ ایس آئی سیز کے غلط استعمال کو روکا جا سکے"۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) ملک میں صحت عامہ کے لیے سرمایہ کاری کو درست کرنے میں تکنیکی امداد فراہم کر رہا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا ایک مشن آٹھ سے دس جنوری کو دوران پاکستان آیا اور اس نے صوبائی ہیلتھ اور فنانس ڈپارٹمنٹ کے حکام کے ساتھ مذاکرات کیے۔

بہت سے لوگوں کے لیے رحمت

ایس ایس پی نے جنوری 2016 میں صوبائی حکومت کی طرف سے اس پروگرام کو شروع کیے جانے کے بعد سے اب تک کے پی میں 160,000 مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا ہے۔

جو لوگ مدد حاصل کر رہے ہیں ان میں سے 30 فیصد دل کو مریض ہیں، نسوانی امراض رکھنے والی خواتین کی تعداد 20 فیصد، بچوں کی تعداد 15 فیصد اور عمومی سرجری کے مریضوں کی تعداد 14 فیصد ہے جبکہ باقی مانندہ دیگر بیماریوں کا شکار ہیں۔

مردان کے 55 سالہ دکاندار گل حبیب نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "مجھے ماہرینِ امراضِ دل نے 2014 میں مشورہ دیا تھا کہ مجھے دل کا آپریشن کروانا چاہیے مگر یہ بہت مہنگا تھا اور میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا تھا"۔

ایس ایس پی کے شروع ہونے کے بعد، حبیب اپریل 2016 میں پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں گیا اور اس نے اپنا ایس آئی سی استعمال کیا۔

حبیب کا آپریشن اس سے اگلے دن ہو گیا۔ اس نے کہا کہ "اب میں نارمل ہو گیا ہوں"۔

پشاور ڈسٹرکٹ میں رہنے والی 38 سالہ خاتونِ خانہ بخت جہان نے بھی اس پروگرام سے فائدہ اٹھایا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "میں نے ایک سال تک اپنے پیٹ کی رسولی کے لیے دوائی کھائی مگر ایس ایس پی کا آغاز میرے لیے ایک نعمت ثابت ہوا"۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ڈاکٹروں نے رسولی نکال دی ہے۔

جہان نے کہا کہ ایس آئی سی نے اس کے پندہ سالہ بیٹے کے گردے کے آپریشن میں بھی مدد کی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha