https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/02/07/feature-01
| جرم و انصاف

پاکستانی عدالت نے فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو سیاست سے باہر رہنے کا حکم دے دیا

اے ایف پی

image

گزشتہ برس توہینِ مذہب کے الزامات سے ایک مسیحی خاتون کی بریّت پر پُرتشدد احتجاج کے بعد 4 فروری کو لاہور میں ایک سماعت کے دوران پاکستانی پولیس اہلکار انسدادِ دہشتگردی عدالت کے باہر تحریکِ لبّیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے رہنما خادم حسین رضوی کے آنے پر ان کی جماعت کے فعالیت پسندوں کو حراست میں لے رہے ہیں۔ [عارف علی / اے ایف پی]

اسلام آباد – پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے بدھ (7 فروری) کو فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ملامت کرتے ہوئے انہیں آزادیٴ گفتار کو برقرار رکھنے اور سیاست سے باہر رہنے کا کہا۔

یہ غیر معمولی طور پر سخت تنقید ایک عدالتی حکم میں کی گئی جس میں نومبر 2017 میںکئی ہفتوں تک اسلام آباد کو مفلوج رکھنے والے احتجاجمیں انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کردار پر تنقید کی گئی۔

عدالتِ عظمیٰ کی ویب سائیٹ پر لگائے گئے اس عدالتی فیصلہ میں کہا گیا، "اگر مسلح افواج کا کوئی بھی عملہ کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی میں ملوث ہوتا ہے یا میڈیا کو استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ مسلح افواج کی سالمیت اور پیشہ وری کی بیخ کنی کا موجب ہے۔"

اس میں مزید کہا گیا کہ آئینِ پاکستان مسلح افواج کے ارکان کی "کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی میں ملوث ہونے" سے "سختی سے ممانعت" کرتا ہے؛ مزید برآں حکومت اور برّی، فضائی اور بحری فوج کے سربراہان کو اپنے حلف کی خلاف ورزی کرنے والے یا والی کے خلاف کاروائی کرنے کا حکم صادر کیا گیا۔

2017 میں فسادات

2017 کے احتجاج کی قیادت اس وقت خال خال شہرت رکھنے والے اسلام پسند گروہتحریکِ لبّیک پاکستان (ٹی ایل پی)نے کی، جو تب ہی ختم ہو سکا جب پر تشدد فسادات فوج کی وساطت سے ہونے والے ایک معاہدے کا باعث بنے جس میں وزیرِ قانون کو مستعفیٰ ہونا پڑا۔

ججوں نے آزائ گفتار پر پابندی پر تنقید کرتے ہوئے، انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ایک سخت تنبیہ کا اشارہ کیا۔

عدالت نے کہا، "تمام انٹیلی جنس ایجنسیاں ۔۔۔ اور (فوج کا میڈیا ونگ) اپنی متعلقہ صوابدید سے تجاوز نہ کریں۔ وہ آزایٴ گفتار و اظہار میں تخفیف نہیں کر سکتے۔"

"وہ افراد جو اس غلط فہمی میں ایسے ہتھکنڈوں کا سہارا لیتے ہیں کہ وہ کسی بلند تر مقصد کے لیے خدمات سرانجام دے رہے ہیں، محض خود فریبی میں مبتلا ہیں۔"

درایں اثناء، سیکیورٹی فورسز نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے پاکستان میں حقوقِ نسواں کی ایک فعالیت پسند اور دیگر سے متعلق یہ کہے جانے کے بعد انہیں چھوڑ دیا کہ انہیں "ناحق" زیرِ حراست رکھا گیا۔

منگل کو اسلام آباد میں ایک احتجاج کے دوران تحریکِ تحفظِ پشتون (پی ٹی ایم) کے 17 دیگر ارکان کے ہمراہ گلالئی اسماعیل کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
60
نہیں
تبصرے 23
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

Sar main apply karna chahta hun Pakistan army mein

جواب

مجھے پاک فوج سے پیار ہے

جواب

Assalaam o alikum sir mgay pak army me join hona he please guide me

جواب

میں پاک فوج میں شامل ہونا چاہتا ہوں، برائے مہربانی میری رہنمائی کریں

جواب

اچھی طرح پڑھائی کریں اور دوسروں کو دکھ مت دیں اچھا آدمی بنیں۔

جواب

ہم پاک آرمی میں کیسے شامل ہوں؟؟؟؟

جواب

میں ایک طالب علم ہوں اور پاک آرمی میں شامل ہوتا ہوں براہ مہربانی میری رہنمائی کیجئے

جواب

میں پاکستان آرمی کی پاک آرمی میں شامل ہونا چاہتا ہوں

جواب

مجھے پاک آرمی میں شامل ہونے کی خواہش ہے۔ لیکن پاکستان آرمی میں شمولیت کا طریقہ کار شفاف نہیں ہے۔ براہ مہربانی اس کا جائزہ لیں۔ میں پاکستان فضائیہ کے طبی اور دیگر ٹیسٹ میں تین مرتبہ اور پاک آرمی میں ایک مرتبہ کامیاب رہا ہوں۔ لیکن گزشتہ بار جب میں نے پاکستان آرمی میں درخواست دی۔ ایک آرمی افسر سر سرفراز نے مجھے میرے بازو کی وجہ سے طبی بنیاد پر مسترد کردیا۔ میرا بازو مکمل طور پر درست ہے لیکن اس افسر نے میرے مستقبل سے کھلواڑ کیا ہے۔

جواب

مجھے پاکستان آرمی سے محبت ہے اور میں پاکستان آرمی میں ایک کیپٹن بھی بننا چاہتی ہوں میں ایک لڑکی ہوں اور مجھے اپنی دنیا کو محفوظ کرنے سے پیار ہے مجھے پرواہ نہیں کہ لوگ میرے بارے میں کیا سوچتے ہیں یہ میرے لئے ایک بہترین موقع ہے اگر میں پاکستان آرمی میں منتخب ہوگئی تو میرا خواب حقیقت بن جائے گا میں صرف پاکستان آرمی میں شامل ہونا چاہتی ہوں

جواب

مجھے پاک بحریہ سے پیار ہے

جواب

مجھے فوج کی ملازمت چاہیئے

جواب

مجھے پاک فوج سے پیار ہے اس لیے میں پاک فوج میں شامل ہونا چاہتا ہوں

جواب

لیکن اگر حکومت کسی بحران سے نمٹنے سے قاصر ہو اور فوج اور اس کے ذیلی اداروں سے مدد کی درخواست کرے؛ کیا یہ غلط ہے جج صاحب؟ بالکل یہی صورتِ حال فیض آباد دھرنے میں تھی، جس میں وفاقی وزارتِ داخلہ صورتِ حال کو قابو میں نہ لا سکی اور فوج سے معاونت کی درخواست کی، جو کہ ان دیگر مداخلتوں سے الگ تھی جو فوج کی جانب سے بالخصوص جنرل کیانی کے جانے کے بعد سیاست میں تھیں؛ آئین کی اس شق پر کاروائی کہاں ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی ریاستی اداروں کی بدنامی نہیں کرے گا، بالخصوص عدلیہ اور فوج، جب ڈان لیکس اور ڈان انٹرویو جیسی غلاظت واقع ہوئی کیوں کچھ نہ کیا گیا؛ لہٰذا جج صاحب میری آپ کو مؤدبانہ تجویز ہے کہ جب تک آپ برابری کے ساتھ انصاف کرنے کی صلاحیت کے حامل نہ ہو جائیں، تب تک تجاوز کر کے کسی مخصوص ادارے کو ہدف نہیں بنانا چاہیئے بالخصوص انہیں جو ہمیں عوام کو اور شہریوں اور آپ جیسے عوام کے خادموں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

جواب

یہ جج ہے یا raw کا ایجنٹ. اس کمینے کو کوئی کہے کہ سیلاب زلزلہ اور تمام آفات میں فوج بلاتا ہے لاء اینڈ انفورسمنٹ ایجنسیز اسوقت کہاں تھیں جب کراچی میں حالات خراب تھے اور فیض آباد میں پہلے کدھر تھے ادارے. ایک تو اسوقت کی گورنمنٹ نے امداد مانگی اب بک بک کرتے ہیں شرم نہیں آتی اپنی فوج کو بدنام کرتے ہیں

جواب

ظالمو جواب دو. ظلم کا حساب دو ...قانون کا احترام سب پر فرض ہے.. کوئ بالاتر نہیں... یر شخص ہر ادارے کا یہ فرض بنتا ہے.. کہ وہ اپنے متعین کردہ حدود سے تجاوز نہ کرے..

جواب

بہت عمدہ

جواب

اگر فوج کو آپ اندر آنے نہیں دینگیں تو اندر والے کونسے دودھ کے دھلے ہوئے ہیں ۔ عوام کا اب کسی بھی بھروسہ نہیں رہا ۔جج صاب جن لوگوں نے ملکر ملک یہ حال کر دیا ہے پھلے تو یہ پتہ لگاو ۔لعنت ہو ایسے جج پر ۔انصاف کا ترازو برابر نہیں کر سکتے کم سے کم چوروں کو۔ضمیر فروشوں کو ملک دشمنوں کو ایسے چھوٹ بھی نا دو ۔

جواب

Mery bhai s mulk ma na fouj currption sa paak ha na koi ie aidara. S milk ka asal masla he yahhe ha k yahja par qanoun name ke koi cjezz neh ha

جواب

قابل تعریف قدم اٹایا ھے کورٹ نے۔

جواب

ایس سی کی جانب سے شاندار اعلان، جو افواج سمیت سب کے لیے اچھا ہے۔ نفاذ کا منتظر رہوں گا۔

جواب

یہ معلومات درکار ہے

جواب

Ghair janibdar or bold faisala hi Courts ka.

جواب