http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/01/30/feature-02
| سلامتی

آسیہ بی بی کی رہائی پر ٹی ایل پی کی طرف سے احتجاج کرنے کا مطالبہ بے اثر رہا

عبدل ناصر خان

تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ارکان 29 جنوری کو حیدرآباد میں، سپریم کورٹ کی طرف سے آسیہ بی بی کو بری کیے جانے کے فیصلے کو قائم رکھنے کے خلاف، چھوٹے سے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کر رہے ہیں۔ ]اکرام شاہد /اے ایف پی[

لاہور -- تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی طرف سے منصوبہ شدہ احتجاجی مظاہرے، پاکستان کی سپریم کورٹ کی طرف سے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہینِ رسالت کے دھماکہ خیز جرم میں بری کیے جانے کے اپنے فیصلے کے خلاف، چیلنج کو مسترد کیے جانے کے بعد، بدھ (30 جنوری) کو عملی شکل اختیار کرنے میں ناکام رہے۔

ٹی ایل پی، جس نے گزشتہ اکتوبر میں اس وقت بڑے پیمانے پر کئی ہفتوں تک متشدد مظاہرے کیے تھے جب بی بی کو توہینِ رسالت کے الزام سے بری کر دیا گیا تھا، نے منگل کو سپریم کورٹ کی طرف سے اس کو بری کیے جانے کے اپنے فیصلے کو قائم رکھنے کے اعلان کے بعد، نئے مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔

مگر اس کے راہنماؤں کے زیرِ حراست ہونے اور اسلام آباد اور راولپنڈی کے جنکشن پر، جسے ٹی ایل پی نے مظاہروں کی جگہ قرار دیا تھا، پولیس کی بھاری تعداد کو تعینات کیے جانے کے باعث، بڑے پیمانے پر کسی اجتماع کو روکا جا سکا۔

پاکستانی حکام نے 31 اکتوبر سے 2 نومبر کے درمیان لاہور میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ٹی ایل پی کے ارکان کو گرفتار کیا۔ ]عبدل ناصر خان[

اے ایف پی نے خبر دی ہے کہ ٹی ایل پی کی طرف سے ایسے جذباتی اعلانوں کے باوجود کہ ٹی ایل پی اور اس کے حامی "رسول کے احترام پر سمجھوتہ نہیں کریں گے" لاہور میں صرف 20 لوگوں نے احتجاج کیا جبکہ راولپنڈی میں آٹھ متحرک ہوئے تھے۔

ڈان نے خبر دی ہے کہ راولپنڈی میں، پولیس نے ڈویژن بھر میں کیے جانے والے کریک ڈاون میں، مختلف مذہبی جماعتوں کے 55 ارکان کو گرفتار کیا جن میں ٹی ایل پی بھی شامل ہے۔

احتجاج ناکام ہو گیا

لاہور میں ایک مقامی ٹیلی ویژن چینل کے تفویضی ایڈیٹر زین العابدین نے کہا کہ "ہم پٹیشن کے جائزے کے مسترد کیے جانے پر گزشتہ نومبر کی طرح، ایک بڑے مظاہرے کی توقع کر رہے تھے مگر ہمیں کچھ بھی قابلِ ذکر نظر نہیں آیا"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "کچھ مظاہرین فیروز پور روڈ پر آئے اور انہوں نے کچھ وقت کے لیے ٹریفک کو بلاک کر دیا مگر پولیس نے انہیں پرامن طور پر منتشر کر دیا"۔

لاہور کے شہری میاں مسعود نے کہا کہ وہ اپنے روز کے سفر کے دوران، متوقع مظاہروں کے بارے میں پریشان تھے۔ انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "مگر حیران کن طور پر کوئی سڑک بلاک نہیں تھی اور نہ ہی رکاوٹیں لگائی گئی تھیں"۔

گزشتہ دسمبر میں ٹی ایل پی پر کیے جانے والے کریک ڈاون کے نتیجہ میں 3,000 ارکان کو گرفتار کیا گیا۔ ٹی ایل پی کے راہنما پیر افضل قادری، خادم حیسن رضوی اور بہت سے دوسرے ابھی بھی حراست میں ہیں ۔

لاہور میں ٹی وی کورٹ کے رپورٹر طارق محمود نے پاکستان فاروڈ کو بتایا کہ "ان پر سپریم کورٹ کے ججوں اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف عوام کو تشدد پر بھڑکانے پر اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔

اے آر وائے نیوز کے سینئر رپورٹر محمد عابد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "حکومت نے ٹی ایل پی کے راہنماؤں کو گرفتار کر کے، انتہائی مہارت سے تمام ممکنہ مظاہروں کو ناکام بنا دیا ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
2
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha