http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/01/24/feature-01
| نوجوان

مہمند ڈسٹرکٹ کی خواتین اور بچوں کے لیے نئے باغ خوشی کا باعث ہیں

جاوید خان

بچے اور بڑے 22 جنوری کو پشاور کے قریب ایک باغ میں جھولے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے۔ مقامی انتظامیہ نے مہمند ڈسٹرکٹ میں 10 سرکاری اسکولوں میں بچوں اور خاندانوں کے لیے باغ بنائے ہیں جبکہ کے پی کی حکومت آنے والے مہینوں میں دوسرے اضلاع میں بھی مزید باغ بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ]جاوید خان[

پشاور -- خواتین اور بچے ان دس نئے تفریحی باغات سے لتف اندوز ہو رہے ہیں جنہیں مہمند ڈسٹرکٹ کے سرکاری اسکولوں میں بنایا گیا ہے اور خیبر پختونخواہ (کے پی) کی حکومت نے آنے والے مہینوں میں تمام قبائلی علاقوں میں اضافی سہولیات کھولنے کا وعدہ کیا ہے۔

سول سیکریٹریٹ پشاور میں پاکستان انتظامی سروس کے ایک افسر واصف سید نے کہا کہ "یہ باغات مقامی سرکاری اسکولوں میں بنائے گئے ہیں تاکہ علاقے کے بچے اور خواتین وہاں پر اسکول بند ہونے کے بعد آ کر ان سہولیات سے لطف اندوز ہو سکیں"۔

انہوں نے 17 جنوری کو پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "منتخب کیے جانے والے تمام دس اسکول گنجان آباد علاقوں میں تھے تاکہ ان سے خواتین اور بچوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد مستفید ہو سکے"۔

سید، جنہوں نے گزشتہ اگست میں مہمند ڈسٹرکٹ کے ڈپٹی کمشنر کے طور پر، اپنے پرانے عہدے کے دوران ان باغات کو بنایا تھا، کے مطابق ان باغات میں کھیلنے کے میدان اور دوسری تفریحی سہولیات چار دیواری کے اندر فراہم کی گئی ہیں۔ قریبی علاقوں کے 114 اسکولوں کے ہزاروں طلباء بھی ان باغات کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تین باغات کو اپر مہمند میں اور پانچ کو لوئر مہمند کے پرانگ، غار، عنمبر، پنڈی وال، شیرانو کیلی اور یکے گنڈ کے علاقوں میں اور دو کو مہمند کی سب ڈویژن بائزئی کے علاقوں بائزئی اور خاوزائی میں بنایا گیا ہے۔

سید نے کہا کہ "بچوں کے باغ ہونے کے علاوہ یہ سہولیات ان علاقے کی خواتین کے لیے کمیونٹی کے پارکوں کے طور پر بھی استعمال کی جائیں گی"۔

اکٹھے ہونے کی ایک جگہ

مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ نئی سہولیات پر بہت زیادہ خوش ہیں۔

علانائی، مہمند ڈسٹرکٹ کے ہائی اسکول کے 14 سالہ طالبِ علم عماد خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "قبائلی اضلاع کے شہریوں نے کئی سالوں سے بہت مصائب جھیلے ہیں اور انہیں تفریح کے لیے مزید سہولیات فراہم کی جانی چاہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "مہمند کے دوسرے علاقوں اور دوسری قبائلی ڈسٹرکٹس میں بھی مزید باغ بنائے جانے چاہیں"۔

پشاور سے تعلق رکھنے والی صحافی امینہ خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "قبائلی خواتین خصوصی طور پر جنگ، دہشت گردی اور عسکری مہمات کا نشانہ بنی ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ ایسی خواتین کو اتنا محروم کیا گیا ہے کہ وہ تفریح کو تو ایک طرف، خوشی کو ہی بھول گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "خواتین کے لیے مخصوص باغات کو شروع کیے جانے کو ان کی طرف سے بڑے پیمانے پر خوش آمدید کہا جائے گا کیونکہ وہ شہروں کی عورتوں کی طرح گھوم پھر سکیں گی اور آزادی سے سانس لے سکیں گی"۔

انہوں نے کہا کہ ان باغات سے خواتین کو "اپنے گھروں سے نکلنے اور دوسری خواتین سے ملنے اور اپنے جذبات کا اظہار کرنے، بات چیت کرنے، مشغول ہونے اور شرکت کرنے کا موقعہ ملے گا۔ اس طرح وہ ایک دوسرے سے خیالات سانجھے کر سکیں گی اور انہیں اپنے حقوق کے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا"۔

باغات کی بہت زیادہ مانگ

صافی سب ڈویژن میں ایک نجی اسکول کے 35 سالہ استاد عالم زیب خان نے کہا کہ سابقہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے دوسرے حصوں میں تفریح کی مزید سہولیات فراہم کرنے سے نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں سے دور رکھنے میں مدد ملے گی"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ضلعی انتظامیہ کو مہمند اور سابقہ فاٹا کے دوسرے تمام علاقوں میں، لڑکوں اور لڑکیوں کے مزید مقامی اسکولوں میں جھولے اور کھیلنے کے میدان بنانے چاہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "نوجوانوں کو ہتھیاروں اور دوسری منفی سرگرمیوں سے دور رکھنے کے لیے حکومت کو انہیں ان کے علاقوں میں تعلیمی اور تفریحی سہولیات فراہم کرنی چاہیں"۔

خیبر ڈسٹرکٹ سے تعلق رکھنے والی خاتونِ خانہ نادیہ آفریدی جو کہ اب پشاور میں قیام پذیر ہیں، نے کہا کہ "قبائلی اضلاع میں دوسری جگہوں پر بھی تعلیم اور صحت کی مزید سہولیات اور باغات ہونے چاہیں جہاں خواتین اور بچے اپنا وقت بہتر طریقے سے گزار سکیں"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ قبائلی علاقوں کی خواتین، ایسی سہولیات تک رسائی کے حوالے سے آباد اضلاع کی ہم منصبوں سے بہت زیادہ پیچھے ہیں۔ انہیں ایسی تمام سہولیات لازمی طور پر مہیا کی جانی چاہیں جن سے ملک کے شہری اضلاع کے لوگ لطف اندوز ہوتے ہیں"۔

مزید ترقی

کے پی کی حکومت قبائلی علاقوں کے ترقیاتی پروگرام کے حصہ کے طور پر اضافی تفریحی اور تعلیمی سہولیات کھولنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

حکومت کی طرف سے 17 جنوری کو جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق، کے پی کے وزیرِ سیاحت عاطف خان نے سابقہ قبائلی اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو حکم دیا ہے کہ وہ ہر ڈسٹرکٹ میں کم از کم تین ایسی جگہوں کی نشاندہی کریں جہاں باغ، نوجوانوں کے مراکز، اسکی ریزاٹ اور خاندانوں اور بچوں کے لیے دوسری سہولیات قائم کی جا سکیں۔

کے پی حکومت کے ترجمان اجمل خان وزیر نے کہا کہ تمام قبائلی اضلاع میں آنے والے مہینوں میں خاندانوں کے لیے مزید سہولیات، جن میں باغات بھی شامل ہیں، فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے 17 جنوری کو پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "میں نے، وزیراعلی محمود خان کے ساتھ مل کر کچھ دن پہلے، باجوڑ اور خیبر ڈسٹرکٹس کا دورہ کیا تاکہ تمام ڈسٹرکٹس میں مطلوب سہولیات کا جائزہ لیا جا سکے۔ ہم ضم ہونے والی ہر ڈسٹرکٹ کا ہر ہفتے دورہ کریں گے تاکہ عوام کو، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، مزید سہولیات فراہم کی جا سکیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha