https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/12/31/feature-01
| تعلیم

لڑکیوں کے لیے زندگی کا مطلب بدلتے ہوئے -- ایک وقت میں ایک ٹرک

نذر الاسلام

image

پشاور میں ایک فنکار 10 دسمبر کو ایک ٹرک پر رنگ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ]نذر الاسلام[

image

پشاور میں ٹرک آرٹسٹ 10 دسمبر کو اسکول کی ایک بچی کی تصویر بنا رہا ہے۔ ]نذر الاسلام[

image

پشاور میں ایک ٹرک آرٹسٹ 10 دسمبر کو اسکول کی ایک بچی کی تصویر کو آخری شکل دے رہا ہے۔ ]نذر الاسلام[

image

ٹرک آرٹسٹس کی طرف سے استعمال کیے جانے والے مختلف رنگ پشاور میں 10 دسمبر کو دکھائے گئے ہیں۔ ]نذر الاسلام[

image

ٹرک آرٹسٹ حیات خان پشاور میں 10 دسمبر کو اپنی پینٹنگ کے آگے کھڑے ہیں۔ ]نذر الاسلام[

پشاور -- پشاور میں ایک ٹرک جس پر حیات خان کی بنائی ہوئی تصاویر میں سے ایک بنی ہوئی ہے جس میں ایک سر سبز درخت کے نیچے کتاب پڑھتی ہوئی نوجوان لڑکی دکھائی گئی ہے۔ اس کے ساتھ پیغام لکھا ہے: تعلیم روشنی ہے"۔

خان، جن کی عمر 55 سال ہے گزشتہ 45 سالوں سے ٹرکوں کے لیے رنگارنگ تصاویر بنا رہے ہیں۔ پہلے ان کے موضوعات فلمی اداکارائیں، جانور، دلکش مناظر اور فوجی جرنلوں تک محدود ہوتے تھے۔

تاہم، 2005 سے خان نے اسکول جانے والی لڑکیوں کی تصاویر بنانے پر زیادہ توجہ مرکوز کرنی شروع کی۔

image

پشاور میں ایک فنکار 10 دسمبر کو ایک ٹرک کی سائڈ پر رنگ کر رہا ہے۔ ]نذر الاسلام[

خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ ٹرکوں کے مالکان ابتدا میں فنکار کی طرف سے منتخب کردہ موضوعات کی تصاویر میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔

خان نے کہا کہ "مگر جب انہوں نے ٹرک آرٹ کے ذریعے تعلیم کے فروغ کے لیے ہماری مہم دیکھی تو انہوں نے خود آنا شروع کیا اور اپنے ٹرک پر ایسی ہی تصاویر بنانے کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا"۔

خان نے ماضی کے بارے میں کہا کہ "ہم اداکاراؤں، خوبصورت مناظر اور جرنلوں کی تصاویر بناتے تھے۔ مگر وہ بے معنی موضوعات تھے"۔

خان نے 2003 میں مشہور ماہِرِ بشریات اور فلم ساز ثمرمنا اللہ سے ملاقات کے بعد لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینا شروع کیا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "تصاویر کا زبردست اثر ہوتا ہے اور ٹرک پیغامات کو پاکستان کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک لے جانے میں مدد کرتے ہیں"۔

خیبر پختونخواہ میں، ایسے ٹرک زیادہ گھومتے پھرتے ہیں جن پر خواتین کی تعلیم کے فروغ کے پیغامات موجود ہیں۔

تاہم، پنجاب میں پیغام مختلف ہے۔ وہاں پر ٹرک "سوارا" کی مخالفت کرتے ہیں جو کہ ایک طرح کی جبری کم عمری کی شادی ہے جس میں کسی کم عمر لڑکی کو کسی مرد رشتہ دار کی طرف سے کیے جانے والے جرم میں سزا کے طور پر دے دیا جاتا ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اور یونیسکو اس قدم کی مدد کر رہا ہے۔

اے ڈی بی کی سینئر قانونی مشیر ارم احسان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ایک ٹرک لڑکیوں کے لیے زندگی کا مطلب بدل سکتا ہے -- ایک وقت میں ایک ٹرک"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha