https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/12/11/feature-01
| ماحول

پاکستان صاف تر، کم قیمت اینٹیں بنانے کی جانب گامزن

نذرالاسلام

image

یکم دسمبر کو اسلام آباد سے تقریباً 40 کلومیٹر دور تحصیل فتح جنگ، صوبہ پنجاب میں ایک روائتی بھٹہ خشت دکھایا گیا ہے۔ [نذرالاسلام]

image

یکم دسمبر کو تحصیل فتح جنگ، صوبہ پنجاب میں ایک کارخانے میں بھٹہ خشت کا ایک کارکن اینٹیں بنانے کے لیے مٹی کھود رہا ہے۔ [نذرالاسلام]

image

یکم دسمبر کو تحصیل فتح جنگ، صوبہ پنجاب میں بھٹہ خشت کا ایک کارکن اینٹیں جوڑ رہا ہے۔ [نذرالاسلام]

image

یکم دسمبر کو تحصیل فتح جنگ، صوبہ پنجاب میں بھٹہ خشت کا ایک کارکن بھٹے میں کوئلہ ڈال رہا ہے۔ [نذرالاسلام]

اسلام آباد – موسمِ سرما میں شدید دھند پر قابو پانے کی ایک کوشش میں پاکستانی حکام نے اکتوبر تا اختتامِ دسمبر، کم از کم 70 روز کے لیے تمام تر روائتی بھٹہ ہائے خشت کی بندش کا حکم دے دیا ہے۔

دھند وسط اکتوبر تا جنوری ملک کے متعدد حصّوں، بطورِ خاص صوبہ پنجاب میں مسائل پیدا کرتی ہے۔

بھٹہ خشت مالکان نے اس حکومتی فیصلہ کو عدالت میں یہ دلیل دیتے ہوئے چیلنج کیا ہے کہ حکومت کے اس فیصلہ نے ان کے ذرائع معاش کو متاثر کیا ہے۔ قانونی عمل جاری ہے، جس کی تازہ ترین شنوائی 28 نومبر کو ہوئی۔

image

یکم دسمبر کو تحصیل فتح جنگ، صوبہ پنجاب میں اینٹوں کا ایک روائتی بھٹہ دھواں اڑا رہا ہے۔ [نذرالاسلام]

اگرچہ پابندی برقرار ہے، تاہم بھٹوں نے کام کا آغاز کر دیا ہے۔

اس پابندی کے مخالفین کا کہنا ہے کہ بھٹہ ہائے خشت ہی خطے میں وبال کا باعث بننے والی کم حدِ نگاہ اور ماحولیاتی مسائل کی واحد وجہ نہیں ہیں۔ گاڑیوں کا دھواں اور برداشت کے موسم کے بعد چاول اور گندم سمیت زرعی زمینوں کو آگ لگانا بھی کردار ادا کرنے والے دیگر عوامل میں سے ہیں۔

اس سے بھی اہم تر یہ امر ہے کہ تین ماہ سے زائد عرصہ کے لیے بھٹوں کو بند کر دیا جانا ہزاروں کارکنان کو ان کے ذرائع معاش سے محروم کر دیتا ہے ، جس سے ممکنہ طور پر دیگر معاشرتی مسائل اور عدم تحفظ پیدا ہوتا ہے۔

ایک ہی نام کے حامل ایک منشی، احسان اللہ جو تحصیل فتح جنگ، صوبہ پنجاب میں ایک بھٹہ خشت پر کام کرتے ہیں، نے کہا، "ہمارے بھٹہ خشت میں تقریباً 600 افراد کام کرتے ہیں۔ اگر آپ ان کی ملازمتیں ۔۔۔ چھین لیتے ہیں تو وہ کیا کریں گے؟"

اسلام آباد سے تقریباً 40 کلومیٹر دور، فتح جنگ میں تقریباً 60 روائتی بھٹہ ہائے خشت ہیں۔

آب و ہوا کو تحفظ فراہم کرنے والی ایک بین الحکومتی تنظیم کلائیمٹ اینڈ کلین ائیر کلیشن (سی سی اے سی) کے مطابق، پاکستان میں کل تقریباً 20,000 بھٹہ خشت ہیں۔ پاکستان کی ماحولیاتی تبدیلی کی وزارت کے مطابق، ان بھٹوں میں سے قریب 80 فیصد مقامی کوئلہ جلاتے ہیں۔

صاف تر، کم قیمت تکنیک کی جانب سفر

درایں اثناء، پاکستانی حکام ملک بھر میں روائتی بھٹہ ہائے خشت کے ایک متبادل کو فروغ دینے پر کام کر رہے ہیں۔

سی سی اے سی نے اپریل میں خبر دی کہ پنجاب کے محکمہٴ تحفظِ ماحولیات اور قومی مقتدرہٴ تحفظِ موثر توانائی (نیشنل انرجی ایفیشنٹ کنزرویشن اتھارٹی) ماحول دوست اور کم لاگت بھٹہ خشت تکنیک متعارف کرانے کے لیے آل پاکستان بھٹہ خشت مالکان ایسوسی ایشن کے ساتھ قریب سے کام کر رہے ہیں۔

منصوبہ روائتی بھٹوں کو پیچدار بھتوں میں تبدیل کرنے کا ہے، جو کم کوئلہ استعمال کرتے اور کم درجہ فضائی آلودگی پیدا کرتے ہیں۔

ایکسپریس ٹربیون نے 10 ستمبر کو خبر دی کہ ایک بھٹہ مالک محمّد اکرام، جس نے پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر رائیونڈ، اقبال تحصیل، صوبہ پنجاب میں پیچدار ٹیکنالوجی استعمال کی، نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی لاگت اور آلودگی کو کم کرنے میں نہایت موٴثر ہے۔

اگرچہ فتح جنگ میں بھٹہ خشت پر منشی احسان اللہ ایک نسبتاً زیادہ ماحول دوست تکنیک کے طور پر اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ قرضہ جات اور حکومتی معاونت کے بغیر ایسی تکنیک لاگت کے اعتبار سے ناقابلِ عمل ہے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک ماحولیات دان عرفان اللہ مروت نے کہا کہ حکومت کو بھٹہ خشت کی صنعت پر تین ماہ کی پابندی عائد کرنے کے آسان انتخاب کی بجائے کسی موٴثر طویل المعیاد حکمتِ عملی کے ساتھ سامنے آنا چاہیئے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "حکام کو ملک میں آگاہی پیدا کرنی چاہیئے اور بتدریج ان تمام رکاوٹوں کو دور کرنا چاہیئے،" انہوں نے مزید کہا کہ بھٹوں کو بند کرنے کے اچانک فیصلے سے معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha