https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/11/15/feature-01
صحت |

یوگا، ہنسنے کی تھراپی کے ذریعے ڈیرہ اسماعیل خان کے شہری صدمات پر قابو پا رہے ہیں

عدیل سید

image

اکتوبر میں ایک شخص ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک کلاس میں یوگا کی مشق کر رہا ہے جس کا انعقاد پاکستان یوگا کونسل نے کیا تھا اور اس کا مقصد دہشت گردی اور فرقہ ورانہ تشدد کا نشانہ بننے والوں کو مایوسی اور صدمات سے سنبھلنے میں متاثرین کی مدد کرنا تھا۔ ]پاکستان یوگا کونسل[

پشاور -- ڈیرہ اسماعیل خان یا ڈی آئی خان کے رہائشی، یوگا اور ہنسنے کی تھراپی کو دباؤ، مایوسی اور دوسرے ذہنی مسائل جو سالوں کے تشدد سے پیدا ہوئے ہیں، کو کم کرنے کے ذریعہ کے طور پر قبول کر رہے ہیں۔

گومل یونیورسٹی جو کہ شہر میں یوگا کلب بنانے والوں میں سے اولین ہے، کے شعبہ صحافت کے چیرمین وسیم اکبر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "کئی دہائیوں تک جاری فرقہ ورانہ تشدد کی لہر اور ٹارگٹ کلنگ سے ڈیرہ اسماعیل خان کے شہری گہرے خوف اور مایوسی کی کیفیت میں رہ رہے تھے "۔

انہوں نے کہا کہ "ڈی آئی خان خیبر پختونخواہ (کے پی) میں ایک گنجان آباد شہر ہے جس کی آبادی تقریبا 1.6 ملین ہے اور جو گزشتہ بیس سے تیس سال سے فرقہ ورانہ تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے"۔

image

ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک یوگا کلب کے شرکاء اکتوبر میں ہنسنے کی تھراپی کی مشق کر رہے ہیں جو کئی دہائیوں کی دہشت گردی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی مایوسی اور ذہنی دباؤ پر قابو پانے کی ان کی مشقوں کا حصہ ہے۔ ]پاکستان یوگا کونسل[

بی بی سی اردو سروس کی 3 نومبر کی نیوز رپورٹ کے مطابق، صرف اس سال ہی، شہر میں تقریبا 40 ٹارگٹ کلنگز ہوئیں۔

ایک مثبت تبدیلی

اکبر نے وضاحت کی کہ "یوگا کی مشق شروع کرنے کا خیال 2015 میں ایک دوست کرنل (ریٹائرڈ) خالد عزیز ضیاء کے ساتھ بات چیت کے دوران اپنایا گیا جو کہ خود بھی ڈی آئی خان سے تعلق رکھتے ہیں اور لاہور میں پاکستان یوگا کونسل کے سربراہ ہیں"۔

انہوں نے بتایا کہ "ابتدائی بات چیت کی بنیاد پر، ہم دونوں نے فیصلہ کیا کہ حق نواز پارک میں یوگا کی کلاسیں شروع کی جائیں اور اس کا مقصد شہر کے باسیوں کو وقتی طور پر آرام فراہم کرنا تھا جو اپنے پیاروں کی ہلاکت کے باعث صدمے اور دباؤ کا شکار تھے"۔

انہوں نے کہا کہ مجھے شروع میں غیر مانوس مشقیں کرنا بہت عجیب لگا اور میں لوگوں کے سامنے زور سے ہنسا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں اپنی صحت اور رویے میں بہت مثبت تبدیلی نظر آئی"۔

آغاز میں شرکاء کی تعداد کا کم ہونا ایک مسئلہ تھا کیونکہ بہت کم لوگ اس مشق میں شرکت کرتے تھے مگر پھر اس میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ "اب ہمارے پاس 400 مرد ارکان ہیں جو چھہ مختلف کلبوں میں جو کہ شہر میں بنائے گئے ہیں مشق کر رہے ہیں۔ ارکان کا تعلق تمام عمر کے گروہوں سے ہے جن میں بزرگ سے لے کر نوجوان اور یہاں تک کہ کم عمر بھی شامل ہیں"۔

اس سال کلب نے خواتین کے لیے یوگا کلاسوں کا آغاز کیا۔

اکبر نے کہا کہ "اس کلب کی خاتون ارکان کی تعداد 70 سے 80 کے درمیان ہے جو کہ ایسے شہر کے لیے حوصلہ افزاء علامت ہے جہاں خواتین سماجی پابندیوں کے باعث زیادہ تر گھروں کے اندر رہتی ہیں"۔

صدمات، دہشت گردی پر قابو پانا

یوگا اور ہنسنے کی تھراپی کے بہت سے شرکاء نے ان کلاسوں کے فوائد بیان کیے۔

شہر کے یوگا کلب کے ایک رکن مقیل عباس نے کہا کہ "میرے اور میرے خاندان کے لیے زندگی بے معنی ہو گئی تھی کیونکہ ہم نے اپنے خاندان کے 22 ارکان کی خون میں لت پت لاشیں دیکھی تھیں جو 2008 میں ڈی آئی خان میں ایک ہسپتال پر ہونے والے خودکش دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے"۔

اس حملے میں، جس میں شیعہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، 32 پاکستانی ہلاک ہوئے جن میں عباس کا 11سالہ بھائی بھی شامل تھا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "یوگا کلاسوں میں جانے سے مجھے معمول کی زندگی کی طرف آنے میں مدد ملی کیونکہ میں جو زندگی گزار رہا تھا وہ مایوسی اور افسردگی سے بھری ہوئی تھی"۔

ڈی آئی خان کے ایک شہری اور پاکستان یوگا کونسل کی کے پی شاخ کے صدر ایڈوکیٹ شعیب علی ضیاء نے کہا کہ "ایسے علاج تمام بڑے شہروں میں مہیا کیے جانے چاہیں کیونکہ ذہنی بیماریاں ملک میں عام ہیں جہاں دہشت گردی کا ناسور موجود ہے اور جہاں شہریوں نے گزشتہ دہائی میں بہت تباہی اور بے چارگی دیکھی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ شرکاء کو یوگا سے بہت زیادہ فائدہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے شرکت کرنے والوں کے رویے اور صحت میں بہت بہتری دیکھی ہے۔

ضیاء نے کہا کہ پاکستان یوگا کونسل کسی معاوضے کے بغیر یہ کلاسیں مہیا کرتی ہے اور ان کا بنیادی مقصد متاثرین کو صدمے اور مایوسی پر قابو پانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہمارے بنیادی ادائیگی اپنے ہم وطنوں کے چہروں پر مسکراہٹ ہے جو تشدد اور دہشت گردی سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں"۔

ہنسنا بہترین دوائی ہے

ویمنز یوگا کلب کی ایک استاد مسز شعیب علی جو اپنا پہلا نام بتانا نہیں چاہتیں، نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "خواتین بھی اسی تکلیف سے گزر رہی ہیں جس سے مرد گزر رہے ہیں مگر انہیں اس بات پر تیار کرنا مشکل ہے، کہ وہ اپنے گھروں سے نکلیں اور اس مشق کو علاج کے طور پر استعمال کریں۔

انہوں نے کہا کہ یوگا اور ہنسنے کی تھراپی نے دہشت گردی کی متاثرین خواتین کو صدمات سے سنبھلنے میں مدد فراہم کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم گھروں میں یوگا کرتے تھے مگر جیسے جیسے ہمارے ارکان کی تعداد بڑھی ہم ڈی آئی خان کے ٹاون ہال میں منتقل ہو گئے ہیں جو خواتین کے لیے مختص کیا گیا ہے"۔

پشاور کے ایک ماہرِ نفسیات ڈاکٹر خالد مفتی نے کہا کہ "ہنسنے کی تھراپی 'خوشی کی تفسیات' یا 'دھیان' کی ایک قسم ہے جو مایوسی کے ایک علاج کے طور پر استعمال ہوتی ہے"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ پاکستان میں کسی سال طویل دہشت گردی کے خلاف جنگ نے ملک کی زیادہ تر آبادی کو صدمے کا شکار بنا دیا ہے۔

مفتی نے کہا کہ "دہشت گردی سے متعلقہ واقعات کے بعد میں ہونے والے اثرات نے ہمارے ملک کے لوگوں کو ذہنی طور پر غیر مُستحکم کر دیا ہے جس سے بہت سی ذہنی بیماریاں پیدا ہو گئی ہیں جن میں بعد از صدمہ ذہنی پریشانی کی بیماری اور مایوسی کی بیماری شامل ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یوگا کی مشقیں جن میں ہنسنے کی تھراپی، مراقبہ اور دوسری جسمانی ورزشیں بھی شامل ہے نے مایوسی اور دباؤ کے شکار افراد کا علاج کرنے میں بہت زیادہ مدد کی ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی