https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/10/30/feature-02
مذہب |

سندھ میلہ مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے

ضیاء الرحمان

image

سنت نینو رام کی یاد میں منائے جانے والے میلے میں شرکاء دعائیں مانگ رہے ہیں۔ ]ضیاء الرحمان[

تھر، سندھ -- ہزاروں عقیدت مند، جن میں ہندو اور مسلمان دونوں ہی شامل تھے، نے اس ماہ کے آغاز میں صوبہ سندھ میں ہونے والے ایک تین روزہ میلے میں شرکت کی جو سنت نینو رام کے مزار پر منعقد ہوا جو کہ دونوں عقیدوں کے ماننے والوں کے لیے ایک قابلِ احترام ہستی ہیں۔

یہ میلہ، جو 29 ستمبر سے یکم اکتوبر تک اسلام کوٹ، تھر ڈسٹرکٹ میں سنت نینو رام کے آشرم میں منعقد ہوتا ہے، رام کی وفات کی 45 ویں برسی کے موقع پر منعقد ہوا تھا۔

رام جو کہ 1898 میں اسلام کوٹ میں ایک ہندو خاندان میں پیدا ہوئے تھے، نے بالغ ہونے پر آرام و آسائش کی زندگی کو چھوڑ کر روحانی سفر شروع کیا۔

image

سینکڑوں افراد نے اسلام کوٹ میں سنت نینو رام کے آشرم میں ہونے والے میلے میں شرکت کی۔ یہ آشرم کئی دیہائیوں سے آنے والے تمام افراد کو، ان کے مذہب اور نسل سے بالاتر ہو کر، مفت کھانا فراہم کرتا رہا ہے۔ ]ضیاء الرحمان[

image

سندھی بچے اسلام کوٹ میں سنت نینو رام کی وفات کی 45 ویں برسی کے موقع پر منعقد ہونے والے ایک میلے میں شریک ہیں۔ ]ضیاء الرحمان[

image

تھر ڈسٹرکٹ میں مسلمان، ہندؤ عقیدے کا احترام کرتے ہوئے اکثر گائے کو ذبح کرنے سے اجتناب کرتے ہیں۔ ]ضیاء الرحمان[

image

شرکاء سنت نینو رام جو اسلام اور ہندو مت دونوں کے پیروکاروں کے لیے ایک قابلِ احترام ہستی ہیں، کے مزار کی طرف چلتے ہوئے جا رہے ہیں۔ ]ضیاء الرحمان[

وہ آخرکار اپنے آبائی قصبے واپس آ گئے اور انہوں نے پچاس سال سے زیادہ کے عرصے سے پہلے ایک مشترکہ باروچی خانے کا آغاز کیا جہاں مذہب، ذات، رنگ اور نسل سے مبرا ہو کر ہر کسی کو کھانا فراہم کیا جاتا تھا۔

علاقے میں ان کے پیروکار اب بھی ان کے خیالات کے مطابق چل رہے ہیں۔ مثال کے طور پر تھر میں، مسلمان اکثر گائے کو ذبح کرنے سے اجتناب کرتے ہیں تاکہ وہ ہندو ہمسایوں کے جذبات کو مجروح نہ کریں۔

اس میلے کے منتظمین میں سے ایک، ویرجی ملاح نے کہا کہ اس میلے میں عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے بہت جذبے سے شرکت کی اور وہ رحمتوں اور مدد کے متلاشی تھے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "اس میلے میں تمام عقیدت مندوں میں، ان کے مذہب، ذات اور طبقے سے قطع نظر کھانا تقسیم کیا گیا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "کھانے کا انتظام تمام عقیدوں کے تاجروں اور اسلام کوٹ کے شہریوں کے چندوں سے کیا گیا تھا"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی