https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/08/20/feature-02
مذہب

تصاویر میں پشاور کے مکینوں کی عیدالاضحیٰ کی تیاری

از شہباز بٹ

image

مقامی باشندے پشاور 11 اگست کو پشاور کے مضافات میں نصیرپور میں مویشی منڈی میں قربانی کے جانور خریدنے کے لیے جمع ہیں۔ [شہباز بٹ]

image

11 اگست کو پشاور میں ایک شخص عیدالاضحیٰ سے قبل قربانی کے جانوروں کے لیے سجاوٹی اشیاء تیار کرتے ہوئے۔ [شہباز بٹ]

image

11 اگست کو پشاور میں مویشی منڈی کے قریب رنگ روڈ پر، موٹر سائیکل پر سوار ایک شخص گائے لے جاتے ہوئے۔ [شہباز بٹ]

image

گاہک 11 اگست کو پشاور میں ریتی بازار میں چھریاں خریدتے ہوئے۔ [شہباز بٹ]

image

ایک لوہار 11 اگست کو پشاور میں ریتی بازار میں عیدالاضحیٰ سے قبل باربی کیو کے لیے سلاخیں تیار کرتے ہوئے۔ [شہباز بٹ]

image

مقامی باشندے 11 اگست کو پشاور کے مضافات میں نصیر پور میں منڈی میں مویشی دیکھتے ہوئے۔ [شہباز بٹ]

image

گاہک 11 اگست کو پشاور میں قربانی کے جانوروں کے لیے چارہ خریدتے ہوئے۔ [شہباز بٹ]

پشاور -- دیگر ممالک اور پوری مسلمان دنیا کے دیگر حصوں کی طرح، پشاور میں مکینوں نے عیدالاضحیٰ کی تیاری شروع کر دی ہے، جو کہ پاکستان میں بدھ (22 اگست) کے روز منائی جائے گی۔

تہوار کے لیے قربانی کے طور پر ذبح کرنے کے لیے مقامی باشندے گائیں، بھینسیں، بکریاں، بکرے، دنبے، بھیڑیں اور دیگر جانور خریدنے کے لیے مویشی منڈی میں جمع ہوئے۔

پشاور کے ایک مکین، عزیز الرحمان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "میں اپنے دینی فریضے کی ادائیگی میں جانور قربان کرنے کے لیے بہت پرجوش ہوں۔ میں نے اپنا بکرا 20،000 روپے (200 ڈالر) میں خریدا ہے اور میں اسے قربان کرنے کے لیے عیدالاضحیٰ کے پہلے دن کا منتظر ہوں۔"

عزیز الرحمان کے مطابق عید الاضحیٰ مسلمانوں کو قربانی کے جانور کا گوشت غریبوں میں تقسیم کرنے اور رضائے الہٰی حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

image

11 اگست کو پشاور میں مویشی منڈی میں قربانی کے جانوروں کے لیے سجاوٹ کی اشیاء کا ایک عارضی کھوکھا۔ [شہباز بٹ]

پشاور کے ایک اور مکین، مشتاق احمد، نے بھی کہا کہ وہ یہ تہوار منانے کے لیے خوش ہے۔

انہوں نے کہا، "ہم عیدالاضحیٰ کے پہلے روز صرف گوشت ہی نہیں تقسیم کریں گے، بلکہ ہم رات کے وقت غریبوں کو کھانے پر بھی مدعو کریں گے۔"

انہوں نے مزید کہا، "عید پر، لوگ ایک دوسرے کو مبارک باد دینے کے لیے مہمانوں کا استقبال کرتے ہیں، اور میں نے کئی گھروں میں ملنے جانا ہے۔"

[پشاور سے اشفاق یوسفزئی نے اس رپورٹ میں حصہ لیا۔]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)