https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/08/15/feature-03
ماحول |

تصاویر میں: قبائلی علاقہ جات میں پانی کی قلت سے نمٹنا

از عالمگیر خان

image

ضلع مہمند کی تحصیل بیزائی میں جولائی میں ایک لڑکی گہرے کنویں میں سے پانی نکالتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

ضلع مہمند کی تحصیل بیزائی میں جولائی میں ایک کنویں کے اندر پانی کا برتن دیکھا جا سکتا ہے۔ [عالمگیر خان]

image

ضلع مہمند کی تحصیل بیزائی میں جولائی میں بچے پانی کے خالی برتن بھرنے کے لیے لے جاتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

ضلع مہمند کی تحصیل بیزائی میں جولائی میں بچے ایک ٹیوب ویل کے قریب اپنے برتن پینے کے پانی سے بھرنے کے انتظار میں ہیں۔ [عالمگیر خان]

image

ضلع مہمند کی تحصیل بیزائی میں جولائی میں لڑکیاں پانی کے برتن لے جاتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

ضلع مہمند کی تحصیل بیزائی میں جولائی میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں گدھا گاڑیوں پر پانی لے جاتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

ضلع مہمند کی تحصیل بیزائی میں جولائی میں ایک لڑکا گدھا گاڑی پر پانی لے جاتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

بیزائی۔ ضلع مہمند -- تحصیل بیزائی ضلع مہمند کے ان علاقوں میں سے ایک ہے جہاں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

کنویں 450 فٹ کی گہرائی تک کھودنا لازمی ہے، جو کہ مقامی قبائلیوں کے لیے ایک مشکل کام ہے۔

تحصیل بیزائی کے ایک مکین، صنوبر خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "یہ علاقہ گزشتہ 70 برسوں سے پسماندہ ہے۔"

image

ضلع مہمند کی تحصیل بیزائی میں بچے جولائی میں گھریلو استعمال کے لیے پانی کے برتن بھرتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

خان نے کہا، "مقامی باشندے اپنا پانی اکیلے حکومتیٹیوب ویلسے حاصل کرتے ہیں، یا پھر ٹینکر کا آرڈر دیتے ہیں، جو کہ زیادہ تر غریب [مکینوں] کے لیے قابلِ استطاعت نہیں ہے۔"

ضلع مہمند کے پبلک ہیلتھ اینڈ انجینیئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے سب ڈویژنل افسر، جمشید حیسن بنگش نے پانی کی قلت کی تصدیق کی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "پورے قبائلی ضلع کو پانی کی قلت کا سامنا ہے، لیکن یہ مسئلہ دیہاتوں میں شدید ترین ہے۔"

بنگش کے مطابق، خیبرپختونخوا حکومت سالانہ ترقیاتی پروگرام کے جزو کے طور پر مہمند ضلع میں پانی کی قلت پر توجہ دیتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کوشش کا پہلا مرحلہ، جس کا آغاز مستقبل قریب میں ہو جائے گا، اس میں چھ ٹیوب ویل کھودنا شامل ہے، جن میں سے ہر ایک کی لاگت 500،000 روپے (5،000 ڈالر) ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہاگر اربابِ اختیار پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کا مسئلہ فوری طور پر حل نہیں کرتے تو پاکستان ماحولیاتی تباہی کے دھانے پر ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق، حکام کے تخمینے ظاہر کرتے ہیں کہ سنہ 2025 تک ملک کو پانی کی "یقینی قلت" کا سامنا ہو گا، جس میں 500 مکعب میٹر پانی فی فرد دستیاب ہو گا -- جو کہ خشک سالی کے شکار صومالیہ میں دستیاب پانی کا محض ایک تہائی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
4
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha