http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/03/28/feature-01
| میڈیا

ملٹی میڈیا ایوارڈز دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے بیانیئے کو اجاگر کرتے ہیں

از عدیل سعید

پشاور کی مقامی صحافی، شیبا حیدر (بائیں)، 17 فروری کو اسلام آباد میں اپنی دستاویزی فلم "امن فساد سے بالا" کے لیے ایوارڈ وصول کرتے ہوئے۔ [پاکستان پیس کولیکٹو]

پشاور -- پاکستان فلمسازوں، صحافیوں، فنکاروں اور ملٹی میڈیا کے طلباء و طالبات کے لیے ایک میڈیا مقابلے کے ذریعے فرقہ واریت، پرتشدد انتہاء پسندی اور دہشت گردی کو نشانہ بنا رہا ہے۔

وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے اپنے پاکستان پیش کولیکٹو (پی پی سی) منصوبے کے تحت شروع کی گئی میڈیا مہم، پُرعزم پاکستان نے مقابلے کا اہتمام کیا تھا، جس میں مختصر فلمیں/دستاویزی فلمیں، ڈیجیٹل تخلیقی مواد، باتصویر دستاویزی فلمیں، ویڈیو خبری کہانیاں اور تحریری پروفائل جمع کروانے کو کہا گیا تھا۔

پُرعزم پاکستان نے دوسرا سالانہ مقابلہ گزشتہ اکتوبر میں شروع کیا تھا اور مواد جمع کروانے کی آخری تاریخ 15 جنوری تھی۔ تقریبِ تقسیم انعامات کا انعقاد 17 فروری کو اسلام آباد میں ہوا۔ ایک تیسرے مقابلے پر بھی کام ہو رہا ہے، جس میں درخواست دینے کی آخری تاریخ 31 دسمبر ہے۔

بصری فنون کے فنکار مجتبیٰ محسن نے یہ تصویر بین المذاہب ہم آہنگی کے موضوع کے تحت ڈیجیٹل کری ایٹو کونٹینٹ زمرے میں جمع کروائی۔ انہوں نے لکھا کہ تعلیم کی کمی نفرت اور غلط فہمیوں کا سبب بنتی ہے اور مذاہب کے مابین امن کو تباہ کرنے کے لیے بدی کو ایندھن فراہم کرتی ہے۔ [پُرعزم پاکستان]

شہباز خان کی جانب سے جمع کروائی گئی ویڈیو کا ایک سکرین شاٹ جس میں پاکستانیوں کے ایک گروہ کو دکھایا گیا ہے جنہوں نے پُرامن معاشرے کا حصہ بننے کے لیے اپنے ہتھیار پھینک دیئے۔

پی پی سی کے چیف ایگزیکٹو افسر شبیر انوار نے 10 مارچ کو پاکستان فارورڈ کو بتایا، "پُرعزم ایوارڈز پی پی سی کی عوامی حمایت میں اضافہ کرنے اور پاکستان میں انتہاء پسندی اور فساد کے خلاف بازگشت کو سہارا دینے کی کوشش کا ایک حصہ ہیں۔"

انہوں نے کہا، "مقابلے کا انعقاد کروانے کا مقصد پیشہ ور ماہرین کو معاشرے میں فساد کی بلاامتیاز نوعیت کو نمایاں کرنے کی ترغیب دینے کے ذریعے عام شہریوں کی زندگیوں پر دہشت گردی کے اثرات کی دستاویز بندی کرنا بھی ہے۔"

انوار نے کہا، "مختلف موضوعات بشمول امن فساد سے بالا، بین المذاہب ہم آہنگی، دہشت گردی کے خلاف بازگشت اور دہشت گردی کی حمایت روکو کے لیے تقریباً 20 ایوارڈز ہیں۔"

شرکاء کا تعلق کوئٹہ، کراچی، بہاولپور، لاہور، مالاکنڈ، پشاور، اسلام آباد اور راولپنڈی سے تھا، کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "ہمیں ان ایوارڈز کے لیے 100 سے زائد انٹریاں موصول ہوئیں اور فاتحین میں نقد انعامات کی مد میں 1.5 ملین روپے (15،000 ڈالر) تقسیم کیے گئے۔

دہشت گردی کے خلاف جرأت

پُرعزم پاکستان کی ویب سائٹ کے مطابق، "مہم ان بہادر افراد اور اداروں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے عفریت کے خلاف دلیری اور جرأت کا مظاہرہ کیا ہے۔"

ویب سائٹ کا کہنا ہے، "ان کا اجتماعی پیغام بلند اور واضح ہے: 'پاکستانی پرتشدد انتہاء پسندی کی لعنت کو مسترد کرتے ہیں اور اس کے مضر اثرات کے باوجود لچکدار اور پُرامید رہے ہیں۔'"

قومی محکمۂ انسدادِ دہشت گردی (نیکٹا) کے ڈپٹی رابطۂ کار، محسن بٹ نے کہا، "ایک طرف حکومت، دفاعی قوتیں اور قومی ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب، ہمارے ہم وطن اس ہدف کے حصول کے لیے قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔"

تقریبِ تقسیمِ انعامات میں مہمانِ اعزاز کے طور پر بات کرتے ہوئے، بٹ نے کہا کہ نیکٹا اور پی پی سی دہشت گردی، انتہاء پسندی اور عدم برداشت کے خلاف ایک قومی بیانیہ بنانے کے لیے اشتراک کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیغام پھیلا رہے ہیں کہ معاشرے سے ان عفریتوں کے خاتمے کے لیے عظیم تر قومی اتحاد ضروری ہے۔

بٹ نے کہا، "پُرعزم ایوارڈ کا انعقاد نہ صرف نوجوانوں کو تعصب پسندی کے خلاف ملک کی جاری جنگ میں شریک ہونے کی طرف راغب کرے گا بلکہ انہیں خلوص کے ساتھ کوشش کو جاری رکھنے کی ترغیب بھی دے گا۔"

پاکستانی لچکدار رہے ہیں

مقابلے میں خبروں کے زمرے میں، نیو نیوز کے قاسم شاہ نے پہلا انعام حاصل کیا۔ جیو ٹی وی کی شیبا حیدر نے دوسرا اور دنیا ٹی وی کے عمران بخاری نے تیسرا انعام حاصل کیا۔

پشاور کی مقامی صحافی، شیبا حیدر، جنہوں نے "امن فساد سے بالا" زمرے کے تحت اپنی دستاویزی فلم کے لیے دوسرا انعام حاصل کیا، نے کہا، "ایک دہشت گرد حملہ اپنے پیچھے تشدد، نقصان، تباہی اور اذیت کی ناقابلِ تصور کہانیاں چھوڑ جاتا ہے، لیکن حادثے کے مثبت پہلو بھی ہیں، جیسے کہ تحمل مزاجی، امداد، لچک اور صدمے سے بحالی۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "اگر ہم اپنی قوم کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہمیں دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ جیتنی ہے تو ہمیں ہر واقعہ کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنا چاہیئے۔"

شیبا کی خبری کہانی میں ان خاندانوں کی ہمت اور لچک پر روشنی ڈالی گئی تھی جو دسمبر 2014 کو پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گرد حملے سے متاثر ہوئے تھے، جس میں 140 سے زائد بچے اور اساتذہ شہید ہو گئے تھے۔

انہوں نے کہا، "میں نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے ۔۔۔ کہ لوگ سانحے کا سامنا کیسے کرتے ہیں اور وہ کیسے معمول کی زندگی کی طرف واپس لوٹتے ہیں۔"

دنیا ٹی کے صحافی، بخاری، جنہوں نے تیسرا انعام حاصل کیا، نے کہا، "پُرعزم ایوارڈز نے [مجھے تحریک دی کہ] ان کہانیوں پر توجہ مرکوز کروں جو ہماری پوری طاقت کے ساتھ دہشت گردی سے لڑنے کے لیے قوم کی طاقت میں اضافہ کر سکتی ہیں تاکہ ہم اس پر قابو پا سکیں۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف عوامی حمایت سے جیتی جا سکتی ہے، اور اس مقصد کے لیے، ایسی مہمات قوم کو یہ تعلیم دینے کے لیے ضروری ہیں کہ ہم سب کو آگے آنا ہے اور اپنے دشمن کو شکست دینے میں کردار ادا کرنا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
2
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha