https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/03/13/feature-02
| معیشت

تصاویر میں: پاکستان گُڑ بنانے کے روایتی عمل کو زندہ رکھے ہوئے ہے

عالمگیر خان

image

جنوری میں چارسدہ ڈسٹرکٹ میں ایک کسان گدھا گاڑی پر گنے لاد رہا ہے۔ ]عالمگیر خان[

image

جنوری میں چارسدہ ڈسٹرکٹ میں دو کسان گنوں سے رس نکالنے کے لیے انہیں روایتی چکی میں کچل رہے ہیں۔ ]عالمگیر خان[

image

جنوری میں چارسدہ ڈسٹرکٹ میں دو کسان روایتی چکی میں کچلے جانے والے گنوں کی باقیات کو لے جا رہے ہیں۔ ]عالمگیر خان[

image

جنوری میں چارسدہ ڈسٹرکٹ میں ایک کسان گنوں کی روایتی چکی میں آگ جلا رہا ہے۔ ]عالمگیر خان[

image

جنوری میں چارسدہ ڈسٹرکٹ میں ایک کسان گُڑ بنانے کے لیے گنے کے رس کو ایک گرم برتن میں ڈال رہا ہے۔ ]عالمگیر خان[

image

جنوری میں چارسدہ ڈسٹرکٹ میں ایک کسان گُڑ بنانے کے لیے گنے کے رس کو پکا رہا ہے۔ ]عالمگیر خان[

image

جنوری میں چارسدہ ڈسٹرکٹ میں کسان سیال گُڑ کو پکانے کے برتن سے پراسیسنگ کے برتن میں منتقل کر رہے ہیں۔ ]عالمگیر خان[

image

جنوری میں چارسدہ ڈسٹرکٹ میں کسان گرم سیال گُڑ کو ٹھنڈا کر کے نرم ٹھوس گُڑ میں بدل رہے ہیں۔ ]عالمگیر خان[

image

جنوری میں چارسدہ ڈسٹرکٹ میں کسان گُڑ بنا رہے ہیں۔ ]عالمگیر خان[

image

جنوری میں چارسدہ ڈسٹرکٹ میں ایک دکان دار گُڑ فروخت کر رہا ہے۔ ]عالمگیر خان[

چارسدہ -- گُڑ، جو کہ گنے کے رس کو ابال کر بنائی جانے والی غیر صاف شدہ شکر ہے، کی روایتی تیاری خیبر پختونخواہ میں بہت مقبول ہے۔

بہت سے اضلاع جن میں چارسدہ اور صوابی بھی شامل ہیں، گُڑ بنانے کے لیے مشہور ہیں جسے پاکستانی عوام چائے کو میٹھا بنانے اور بہت سے دوسرے روایتی پکوانوں میں استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسے میٹھے کے طور پر بھی کھایا جاتا ہے۔

چارسدہ ڈسٹرکٹ کے ایک کسان خیال نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "گُڑ بنانا ہماری روایتی صنعت ہے۔ ہم نہ صرف مقامی استعمال کے لیے گُڑ بناتے ہیں بلکہ اسے ملک کے دوسرے حصوں اور افغانستان کو بھی بھیجتے ہیں"۔

image

جنوری میں چارسدہ ڈسٹرکٹ میں دو کسان گُڑ بنانے کے لیے رس حاصل کرنے کے لیے گنوں کو کچل رہے ہیں۔ ]عالمگیر خان[

انہوں نے کہا کہ "گُڑ بنانے کا عمل دسمبر میں شروع ہوتا ہے اور یہ مارچ تک جاری رہتا ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha