https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/03/07/feature-02
نوجوان |

تصاویر میں: لڑکیوں نے مہمند ثقافتی میلے میں سٹیج پر آ کر تاریخ رقم کر دی

از عالمگیر خان

image

اسکولوں کی قبائلی بچیاں 22 فروری کو مہمند سپورٹس یوتھ اینڈ کلچرل فیسٹیول کے دوران رسہ کشی کا مقابلہ کرتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

اسکولوں کی قبائلی بچیاں 22 فروری کو مہمند سپورٹس یوتھ اینڈ کلچرل فیسٹیول کے دوران شتر سواری کرتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

اسکولوں کی قبائلی بچیاں 22 فروری کو لڑکوں جیسا لباس پہن کر سٹیج کے ایک ڈرامے میں حصہ لیتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

اسکولوں کی قبائلی بچیاں 22 فروری کو مہمند سپورٹس یوتھ اینڈ کلچرل فیسٹیول کے دوران ایک سٹیج ڈرامے میں فوجی وردی پہن کر اداکاری کرتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]‎

image

اسکولوں کی قبائلی بچیاں 22 فروری کو مہمند سپورٹس یوتھ اینڈ کلچرل فیسٹیول کے دوران مقامی لباس کے نمونے پیش کرتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

لڑکوں اور لڑکیوں کے روایتی لباسوں میں ملبوس اسکولوں کی قبائلی بچیوں کو مہمند سپورٹس یوتھ اینڈ کلچرل فیسٹیول کے دوران دکھایا گیا ہے۔ [عالمگیر خان]

image

مہمند سپورٹس یوتھ اینڈ کلچرل فیسٹیول کے دوران 22 فروری کو اساتذہ اور طالبات سٹیج ڈرامہ دیکھتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

مہمند سپورٹس یوتھ اینڈ کلچرل فیسٹیول پر سائنس کے ایک اسٹال پر طالبات پوسٹرز دکھاتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

image

ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ مہمند ایجنسی حمید الرحمان (بائیں) مہمند سپورٹس یوتھ اینڈ کلچرل فیسٹیول کے دوران فاتح طالبات میں انعامات تقسیم کرتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

غلانائی، مہمند ایجنسی ۔۔ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں پہلی بار، قبائلی خواتین اور بچوں کو کھیلوں کے ایک میلے میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔

17 تا 22 فروری منعقد ہونے والے مہمند سپورٹس یوتھ اینڈ کلچرل فیسٹیول نے پوری قبائلی ایجنسی میں سے اسکولوں اور کالجوں کی طالبات کو مختلف مقابلوں میں حصہ لینے کے قابل بنایا۔

گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج اکاغوند کی پرنسپل، نیلم شریف نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ایسے پروگراموں کو اساتذہ اور طالبات پر مثبت اثر پڑتا ہے۔"

image

22 فروری کو لڑکیاں 17 تا 22 فروری مہمند ایجنسی میں منعقد ہونے والے مہمند سپورٹس یوتھ اینڈ کلچرل فیسٹیول میں فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے۔ [عالمگیر خان]

انہوں نے کہا، "ہمیں بلاشبہ نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں کی ضرورت ہے۔ ایسی سرگرمیاں قبائلی بچیوں میں اعتماد پیدا کرتی ہیں اور انہیں ایک روشن تر مستقبل کی طرف لے کر جاتی ہیں۔"

گورنمنٹ ڈگری کالج، اکاغوند کی ایک 27 سالہ طالبہ، حنا مہمند نے میلے میں دستکاریوں کے ایک اسٹال کا اہتمام کیا تھا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "یہ میرا اس نوعیت کا پہلا تجربہ ہے؛ یہ شاندار ہے۔ مجھے گھر سے اجازت ملی، اور میرے والد اسے ہوتا ہوا دیکھ کر بہت خوش ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
2
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

اچھا ہے

جواب