http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/01/18/feature-01
| نوجوان

کے پی پولیس افسران نوجوانوں میں منشیات سے متعلق آگاہی پیدا کر رہے ہیں

جاوید خان

نوجوانوں میں منشیات کے خطرات سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کے لیے کے پی پولیس کی کاوشوں کے جزُ کے طور پر 25 نومبر کو مردان کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر میاں سعید احمد مردان میں ایک سرکاری کالج کے طالبِ علموں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ [جاوید خان]

پشاور – خیبر پختونخوا (کے پی) پولیس طالبِ علموں اور نوجوانوں میں غیر قانونی منشیات سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کی ایک مہم کے بیچوں بیچ ہے۔

منشیات فروشوں پر کریک ڈاوٴن کرنے کے ساتھ ساتھ، نومبر کے وسط سے پولیس اہلکاروں نے طالبِ علموں کو غیر قانونی اشیاء کے منفی اثرات سکھانے کے لیے تمام تر کے پی میں جامعات اور کالجوں کے دوروں کا آغاز کر دیا ہے۔

مردان کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، میاں سعید احمد نے کہا، "میں نے۔۔۔ اور دیگر افسران نے طالبِ علموں سے ملاقات کرنے اور انہیں یہ بتانے کے لیے ضلع کے تعلیمی اداروں کے دورے کیے ہیں کہ منشیات ان کے لیے اور معاشرے کے لیے کس قدر نقصان دہ ہوسکتی ہیں۔"

احمد نے بطورِ خاص نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کے خلاف مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دینے کے لیے پروفیسرز اور اساتذہ سے ملاقاتیں بھی کیں۔

احمد نے کہا، "ہم نے طالبِ علموں سے کہا کہ وہ پاکستان اور دنیا کا مستقبل ہیں، اور اس لیے انہیں منشیات اور دیگر منفی سرگرمیوں سے انکار کر کے صحت مند رہنا چاہیئے۔"

انہوں نے کہا کہ آگاہی کی کاوشوں میں صرف اساتذہ ہی شامل نہیں؛ علمائے دین، منتخب نمائندگان اور کمیونیٹی عمائدین نوجوانوں اور دیگر کو میتھامفیٹامائن (جسے آئس بھی کہا جاتا ہے)، ہیروئن، حشیش، شراب اور دیگر منیشات کے مضر اثرات سے آگاہ کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاوٴن

پشاور کے سینیئرسپرانٹنڈنٹ پولیس آپریشنز سجاد خان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "نوجوانوں اور معاشرہ کے دیگر ارکان کو منشیات کے خلاف آگاہ کرنے کے علاوہ، ہم نے اکتوبر کے بعد سے منشیات فروشوں اور اسمگلروں کے خلاف باقاعدہ کریک ڈاوٴن کا آغاز کیا ہے۔"

خان نے کہا کہ کریک ڈاوٴن کے دوران پولیس نے غیر قانونی منشیات میں ملوث دو درجن سے زائد مجرموں کو گرفتار کیا اور ان کے خلاف مقدمات درج کیے، انہوں نے مزید کہا کہ حکام نے ان کے لیے منشیات کی ایک بڑی مقدار ضبط بھی کی۔

انہوں نے کہا، "28 نومبر کو ایک ہی بازیابی میں پولیس نے رنگ روڈ پر جبّا سہیل کے قریب ایک کار سے 7 کلوگرام ہیروئن بازیاب کی اور دو اسمگلروں، فدا حسین اور کامران خان کو گرفتار کیا، جو کہ اسے ملک کی زیریں [پنجاب کی] جانب منتقل کر رہے تھے۔"

خان کے مطابق، پشاور اور دیگر اضلاع میں سٹیشن ہاوٴس آفیسرز اور سب ڈویژنل آفیسرز جارحانہ طور پر مشیات فروشوں اور اسمگلروں کے تعاقب میں ہیں۔

مہم کے جزُ کے طور پر پولیس نے ہیروئن کے تمام عادیوں کو شہر کے مختلف بحالی مراکز میں رکھنے کی کوشش بھی کی، تاہم مالیات کی کمی کے باعث وہ اس قدرعادیوں کے لیے گنجائش نہ پیدا کر سکے۔

خان نے مزید کہا، "تمام تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر معاشرے پر منشیات کے منفی اثرات کے خلاف آگاہی کی مہمات ہونی چاہیئں۔"

نومبر کے وسط میں ایک آگاہی مہم کے دوران ٹریفک پولیس نے ٹرکوں اور آٹو رکشا سے منشیات، شراب یا اسلحہ کے کسی بھی استعمال کو فروغ دینے والے تمام پوسٹر ہٹا دیے۔

ٹریفک سارجنٹس نے ان گاڑیوں کو روکا اور بندوقوں، سگرٹوں، شراب کی بوتلوں اور منشیات کی تصاویر کو سیاہ رنگ سے مٹا دیا۔

منشیات اور دہشت گردی کے درمیان تعلق

کے پی کا محکمہ ایکسائز اور ٹیکسیشن جو غیرقانونی منشیات پکڑنے کے لئے خصوصی طور پرایجنسی قائم کرنے پر غور کر رہا ہے اس کے ایک اعلیٰ افسر اور تحقیق کار ارشاد اللہ آفریدی نے بتایا، آئس، میتھ یا میتھافیٹامئین کے نام سے [بھی مشہور] "نیا متعاف کرایا گیا نشہ نوجوانوں میں زیادہ مقبول ہے کیونکہ یہ 12سے 24 گھنٹوں تک کسی کو تروتازہ رکھ سکتا ہے۔"

آفریدی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، آئس کوکین سے کہیں زیادہ طاقتور ہے اور سستی ہے، انہوں نے مزید بتایا کہ یہ نشہ آور دوا جسم میں ڈوپامین کی پیداوار میں اضافہ کردیتی ہے جس سے چند گھنٹوں کے لئے بشاشت میں اضافہ ہوجاتا ہے لیکن دماغ اور دیگر اعضا کو نقصان پہنچتا ہے۔

انہوں نے بتایا، "آئس اور دیگر مصنوعینشہ آور دوا ئیں دہشت گروہ بھی خود کش حملوں کے لئے استعمال کرتے ہیںکونکہ یہ [کئی] گھنٹوں کے لئے تھکاوٹ کو معطل کردیتی ہیں۔"

آفریدی نے بتایا، آگاہی مہم کے علاوہ، آئس اور دیگر غیر قدرتی منشیات کا نوجوانوں میں استعمال روکنے کے لئے تعلیمی اداروں اور ہوٹلوں میں انٹیلی جنس نظام قائم کیا جانا چاہیئے۔

پشاور پبلک کالج کے ایک استاد امجد علی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "والدین بچوں سے قربت بڑھائیں خصوصی طور پر جب وہ نوعمر ہوں تاکہ وہ منفی سرگرمیوں اور منشیات کے استعمال میں ملوث نہ ہو سکیں۔"

انہوں نے بتایا، " عام طور پر [نوجوان] جب تنہائی محسوس کرتے ہیں تو وہ منشیات کا استعمال کرتے ہیں، اس لئے والدین کی ذمہ داری ہے کہ ان کے ساتھ زیادہ گھلیں ملیں اور ان کی عادات بہتر بنانے میں مدد کریں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha
Irshad Ahmad | 01-21-2018

ڈاکٹر میاں سعید احمد کے پی پولیس کے عظیم اور ترغیب انگیز افسروں میں سے ایک ہیں ۔۔
دراصل وہ پاکستان کی عوام کے لیے خوب اور اچھا کام کر رہے ہیں ۔۔
ڈاکٹر سعید کے اقدامات تمام تر کے پی پولیس سنہری اقدامات ہیں۔

جواب