https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2017/10/19/feature-01
سلامتی |

فرنٹیئر کانسٹیبلری کے نئے جوانوں نے دہشت گردوں کو ہر قیمت پر شکست دینے کا عہد کیا

محمد عاہل

image

شبقدر ضلع چارسدہ میں بروز 20 ستمبر ہونے والی گریجویشن تقریب میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے جوان چاک و چوبند کھڑے رہے۔ ]محمد عاہل[

شبقدر – اپنے سے پہلے جنگ لڑنے والوں سے متاثر فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کے نئے گریجویٹ جوانوں نے کہا کہ وہ پاکستان اور اپنے شہریوں کا دہشت گردی کے خلاف دفاع کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

20 ستمبر کو پشاور کے شمال میں تقریباً 25 کلومیٹر دور واقع قلعہ شبقدر میں 956 نئے جوانوں کی گریجویشن تقریب کے موقع پر جذبات بلند تھے۔

پیراملٹری پولیس فورس ایف سی کو خیبرپختونخواہ (کے پی) اور وفاقی منتظم شدہ قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے درمیان سرحد کی نگرانی کے مرکزی فعل کے ساتھ ساتھ حالیہ سالوں میں کئی کثیر جہتی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

image

5 اگست 2010 کو پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں اور رشتہ داروں نے فرنٹیئر کانسٹیبلری چیف سفوت غیور کے جنازے میں شرکت کی۔ سفوت غیور اور دو دیگر پاکستانی شہریوں کو ایک روز قبل ایک خودکش بمبار نے پشاور میں شہید کیا تھا۔ ]ہشام احمد/اے ایف پی[

ان ذمہ داریوں میں قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی قانون اور نظم و ضبط برقرار رکھنے اور سفارت کاروں اور دیگر اہم شخصیات، اہم سرکاری تنصیبات، ملٹی نیشنل کمپنیوں اور ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کے تحفظ میں مدد شامل ہے۔

ایف سی کی زبردست تعریف

پاسنگ آؤٹ تقریب میں وزیرداخلہ احسن اقبال اور ایف سی کمانڈنٹ لیاقت علی خان نے شرکت کی جس میں دونوں نے ایف سی اور اس کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں اور ساتھی شہریوں کی جان و آبرو کی حفاظت پر تعریف کی۔

"لیاقت علی خان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ایف سی گلگت سے مہران تک دہشت گردی کو شکست دینے میں فوج، پیراملٹری سپاہیوں اور پولیس کے ساتھ سرگرمِ عمل ہے اور ان کی قربانیاں ان کی دلیری کی گواہ ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ "نہ صرف فاٹا اور دیگر آباد علاقوں کے درمیان بفر زون کی حفاظت بلکہ ہنگامی صورتحال، سفارت کار مشن کے تحفظ اور دیگر حساس مقامات کی حفاظت میں دیگر ایجنسیوں کی مدد کرنے میں ایف سی ایک منفرد فورس ہے۔"

لیاقت علی خان نے مزید کہا کہ ایف سی پاکستان کی واحد فورس ہے جس کا ایک اعلیٰ ترین کمانڈر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہوا۔ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) سفوت غیور پشاور میں اگست 2010 کو خودکش حملے میں شہید ہوئے۔

نہوں نے کہا کہ مزید 356 ایف سی اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ آپریشن راہِ راست, آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کے دوران پیش کیا جبکہ 560 زخمی ہوئے.

لیاقت علی خان نے کہا کہ جدید سازوسامان سے لیس ایف سی اب مزید طاقتور فورس بن چکی ہے اور جدید ترین سازوسامان سے اس کا دائرہ کار وسیع ہو چکا ہے۔

نئے گریجویٹس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ "پاکستان نے اپنی زمین پر دہشت گردی کو شکست دینے والا واحد ملک بن کر اپنا لوہا منوایا ہے اور یہ آپ جیسے سپاہیوں کی وجہ سے ممکن ہوا۔ 2013 میں پاکستان کو دنیا میں خطرناک ترین ملک سمجھا جاتا تھا لیکن آج ہم ایشیا میں سب سے تیز ترقی کرنے والی معیشت ہیں۔"

احسن اقبال نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہمیں اپنی مسلح افواج اور سکیورٹی ایجنسیوں پر فخر ہے جنہوں نے (اپنی جانیں) مادر وطن پر قربان کیں اور دہشت گردی کو شکست دینے میں ایف سی ہراول دستہ رہی ہے۔"

جنگ کے لئے تیار رنگروٹس

چارسدہ کے ایک رنگروٹ عجب خان نے فارغ التحصیل ہونے پر اپنے فخر کا اظہار کیا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "یہ ایک بڑا دن ہے اس لئے نہیں کہ میں نے تربیت مکمل کرلی ہے بلکہ اس لئے کہ اب میں ایک سپاہی ہوں اور مادروطن کا دفاع کرنے کے لئے تیار ہوں، خصوصاً دہشت گردی کے ناسور سے۔"

ایف سی کے ایک اور فارغ التحصیل رحیم اللہ نے درہ آدم خیل کے قریب اپنے آبائی گاؤں اخور وال میں گزرے اپنے دنوں کے بارے میں بتایا۔

"ہم نے بہت مشکل دن دیکھے ہیں، جب ہم اپنے گھروں سے باہر نکلنے تک سے قاصر تھے اور اپنے دیہاتوں پر حکومت کرنے والے عسکریت پسندوں کے لئے خوراک لانے اور پکانے پر مجبور تھے۔" انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا۔ لیکن اب ہمارے قانون نافذ کرنے والوں اداروں نے انھیں کچل دیا ہے۔

"جب میں بچہ تھا تو میری پاکستان اور اسلام دشمنوں سے لڑنے کی خواہش تھی اور آج میرا خواب سچ ہوگیا،" انہوں نے بتایا۔ "میں ان کا پیچھا کرنے کے لئے تیار ہوں۔"

مانسہرہ کے ایک رنگروٹ مراد خان نے بتایا اس کے والدین اسے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے لیکن اس نے اپنے ہموطنوں کو محفوظ کرنے کے مسلح افواج میں شمولیت کا انتخاب کیا۔

میں ایک فوجی بننا چاہتا تھا اور آج میں ہوں، انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتاتے ہوئے مزید کہا کہ ایف سی کے مرحوم کمانڈر غیور ان کے لئے مثال ہیں۔

"میں جب ان کی تصویریں ایف سی کی بیرکس اور سڑکوں پر دیکھتا ہوں تو بہت فخر محسوس کرتا ہوں،" انہوں نے بتایا۔ "میں ان کی طرح، پاکستان کے دشمنوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہونا چاہتا ہوں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha