https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2017/09/15/feature-01
معاشرہ

جھیل سیف الملوک سیّاحوں کی بڑی تعداد کے لیے پرکشش

قاسم یوسفزئی

image

اگست میں جھیل سیف الملوک میں سیّاح ایک کشتی کی سواری کر رہے ہیں۔ ]قاسم یوسفزئی[

image

گست میں ملک بھر سے سیّاح جھیل سیف الملوک کی سیر کر رہے ہیں اور تصاویر بنا رہے ہیں۔ ]قاسم یوسفزئی[

image

جھیل سیف الملوک کے ایک طرف جیپیں کھڑی دکھائی گئی ہیں۔ پتھریلی اور ناہموار سڑکوں کی وجہ سے جیپیں ہی علاقہ میں پہنچنے کا واحد ذریعہ ہیں۔ ]قاسم یوسفزئی[

image

اگست میں جھیل سیف الملوک پر ایک مقامی خردہ فروش مقامی طور پر تیار کردہ، ”سلاجیت“ کہلانے والا مقویٔ صحت فروخت کر رہا ہے۔ ]قاسم یوسفزئی[

image

اگست میں کشتی مالکان گاہکوں کے منتظر ہیں۔ ]قاسم یوسفزئی[

image

اگست میں جھیل سیف الملوک کے قریب ایک مقامی خردہ فروش لچھے فروخت کر رہا ہے۔ ]قاسم یوسفزئی[

image

بچے جھیل سیف الملوک کے کنارے ایک بکری کو کھلا رہے ہیں۔ ]قاسم یوسفزئی[

image

گرمیوں میں ملک بھر سے سیاح خیبر پختونخوا کی وادیٔ ناران میں (اگست میں دکھائی گئی) جھیل سیف الملوک کی سیر کو آتے ہیں۔ ]قاسم یوسفزئی[

image

خیبر پختونخوا کی وادیٔ ناران میں ہچکولے دار اور ناہموار سڑکوں کے ذریعے جیپیں جھیل سیف الملوک کو گامزنِ سفر ہیں۔ ]قاسم یوسفزئی[

image

اگست میں وادیٔ ناران میں جھیل سیف الملوک کے قریب بچے گھوڑوں کی پشتوں پر سوار ہیں۔ ]قاسم یوسفزئی[

image

اگست میں سیّاح جھیل سیف الملوک کے قریب سانپ کا ایک تماشا دیکھ رہے ہیں۔ ]قاسم یوسفزئی[

جھیل سیف الملوک – جھیل سیف الملوک پاکستانیوں اور بین الاقوامی سیّاحوں کے مابین ایک سیّاحتی کشش کے طور پر توجہ حاصل کر رہی ہے، جس کی وجہ سے مقامی حکام سیّاحوں کی تسہیل کے لیے اقدام کرنے کے لیے متحرک ہو رہے ہیں۔

سطحِ سمندر سے 3,224 میٹر بلندی پر پاکستان کی یہ بلند ترین البسی جھیل ضلع مانسہرہ، خیبر پختونخوا (کے پی) کی وادیٔ ناران میں واقع ہے۔

سیاحوں کا کہنا ہے کہ غیر ہموار سڑکیں اور بلند پہاڑوں کی وجہ سے سیاّح اس خوبصورت جھیل اور درّۂ بابوسر اور لالہ زار جیسے علاقوں میں سیّاحتی دلربائیوں سے پوری طرح لطف اندوز نہیں ہو پاتے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی محمود جان، جو اگست میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ جھیل کی سیر کر رہے تھے، نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”حکومت کو کم از کم علاقہ میں سیّاحوں کی تسہیل کے چند مراکز بنانے چاہیئں۔“

image

اگست میں خیبرپختونخوا کی وادیٔ ناران میں جھیل سیف الملوک دکھائی گئی ہے۔]قاسم یوسفزئی[

انہوں نے کہا کہ بیت الخلاء اور کوڑے دانوں جیسی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے طویل وقت کے لیے قیام کرنا اور خوبصورت جھیل سے لطف اندوز ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”علاقہ کو صاف رکھنے اور قدرتی مناظر کو محفوظ رکھنے کے لیے رضاکاریّت لازم ہے۔“

کے پی کے محکمۂ سیّاحت و ثقافت کی ترجمان حسینہ شوکت نے کہا کہ مقامی حکومت سیّاحوں کی تسہیل کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”ہم ناران، کالام اور سوات کے دیگر علاقوں کی سڑکوں کو درست کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت جھیل کے گرد آرام گاہیں، پھول بازار اور فوڈ سٹریٹس تشکیل دے رہی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 2
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

یہ نوٹس تیسرے درجے کی صنعت کی تعلیم حاصل کرنے والوں کے لیے کافی مددگار ہیں لیکن سیّاحت کے فروغ کے عناصر بھی ہونے چاہیئں

جواب

اچھا ہے

جواب